Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 88 of 167

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی قبولِ روایت کے لیے شرائط امام بخاری و مسلم رحمہما اللّٰہ کی شرائط سے بھی زیادہ سخت ہیں ۔ علمِ حدیث میں آپکی احتیاط کے بارے میں مشہور محدث وکیع بن جراح رحمہ اللّٰہ یوں گواہی دیتے ہیں ، ’’ میں نے حدیث میں جیسی احتیاط امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کے یہاں دیکھی ایسی احتیاط کسی دوسرے میں نہ پائی‘‘۔

اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ ﷲ نے امام محمد رحمہ ﷲ کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے،’’امامِ اعظم حدیث اخذ کرنے اور بیان کرنے میں جتنے سخت ہیں دوسروں سے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ معلوم ومعروف ہے‘‘۔

امام ترمذی وبیہقی رحمہما اللّٰہ جرح وتعدیل میں امامِ اعظم کا قول بطوردلیل پیش کرتے ہیں ، ’’جامع ترمذی میں امام ابوحنیفہ سے روایت ہے کہ میں نے جابر جعفی سے زائد جھوٹا اور عطاء بن ابی رباح سے افضل نہیں دیکھا۔ بیہقی نے روایت کی کہ آپ سے سفیان ثوری سے علم سیکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا، وہ قابلِ اعتماد ہیں ، ان سے حدیث لکھو سوا ئے ان احادیث کے جو جابر جعفی نے ابواسحق سے روایت کی ہیں ۔

اس سے امامِ اعظم کی جلالت فی الحدیث معلوم ہوتی ہے‘‘۔

علم حدیث میں امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی خدمات کے متعلق آزاد خیال مصنف شبلی نعمانی نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ،’’امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کو جس بات نے تمام ہم عصروں میں امتیاز دیا وہ ہے احادیث کی تنقید اور بلحاظِ ثبوت ، احکام اور ان کے مراتب کی تفریق۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کے بعد علم حدیث کو بہت ترقی ہوئی ۔غیر مرتب اور منتشر حدیثیں یکجا کی گئیں ، صحاح کا التزام کیا گیا، اصولِ حدیث کا مستقل فن قائم ہوگیا۔ لیکن تنقیدِ احادیث ، اصولِ درایت اور امتیازِ مراتب میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کی تحقیق کی جو حد ہے آج بھی ترقی کا قدم اس سے آگے نہیں بڑھتا‘‘۔

باب ہشتم(8)

امامِ اعظم کی ثِقاہت:

غیر مقلدین امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کو ضعیف کہتے ہیں اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ امام بخاری اور دارقطنی رحمہما اللّٰہ نے آپکو ضعیف کہا ہے۔ اس کے جواب میں چند باتیں پیشِ خدمت ہیں ۔

اول: امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کیونکر ضعیف ہو سکتے ہیں جبکہ ان کی روایت ضعیف ہونے کا کوئی سبب موجود نہیں ۔آپ یا تو صحابہ کرام سے روایات لیتے ہیں اور یا جید تابعین عظام سے اور ان میں کوئی بھی ضعیف نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرام سے براہ راست اور بلا واسطہ روایت کرنا امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کا وہ اعزاز ہے جو آپ کے ہم عصر کئی محدثین کو حاصل نہ ہوا۔

علامہ سیوطی فرماتے ہیں کہ: آپ نے سات صحابہ کرام سے بلا واسطہ احادیث روایت کیں ۔ ان کے علاوہ کثیر تابعین کرام ہیں جن سے آپ نے علمِ حدیث میں استفادہ کیا۔

حضرت عبدﷲ بن داؤد رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں کہ ’’ میں نے امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ سے دریافت کیا، آپ نے اکابر تابعین میں سے کس کی صحبت سے فیض اٹھایا ہے۔ آپ نے فرمایا، قاسم، سالم ، طاؤس، عکرمہ، مکحول، عبدﷲ بن دینار، حسن بصری، عمرو بن دینار، ابوالزبیر، عطاء، قتادہ، ابراہیم، شعبی، نافع اور ان جیسوں کی‘‘۔ رضی ﷲ عنہم

امام عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’یہ ﷲ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے کہ میں نے امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کی تین مسندوں کا صحیح نسخہ سے مطالعہ کیا ہے جن پر حفاظ ِحدیث کے دستخط ہیں ۔ میں نے دیکھا ہے کہ امام صاحب عادل ثقہ اکابر تابعین سے حدیث روایت کرتے ہیں جو کہ رسول کریم کی حدیث کے مطابق خیرالقرون میں سے ہیں۔ ان میں اسود، علقمہ، عطاء، عکرمہ، مجاہد، مکحول اور حسن بصری اور ان کے مانند اور ہیں ۔ رضی ﷲ عنہم اجمعین۔ پس وہ تمام راوی جو امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ اور رسول ﷲ کے درمیان ہیں ، سب عادل اور متقی ہیں ۔ ان میں کوئی جھوٹا نہیں اور نہ ان میں سے کبھی کسی کی طرف سے جھوٹ کی نسبت ہوئی۔

Share:
keyboard_arrow_up