Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 87 of 168
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہآپ کی احتیاط کا ذکر یوں کرتے ہیں ، ’’امامِ اعظم ابوحنیفہ صرف وہ احادیث بیان کرتے ہیں جن کے وہ حافظ ہیں ‘‘۔ ()
آپ روایت بالمعنی کے جواز کے قائل نہ تھے۔ محدث علی قاری لکھتے ہیں ،’’امامِ اعظم روایت بالمعنی کو جائز نہیں کہتے، چاھے وہ مترادف الفاظ ہی میں کیوں نہ ہو۔ جبکہ جمہور محدثین کے نزدیک روایت بالمعنی جائز ہے‘‘۔ ()
’’امام ابوحنیفہرحمہ اللہ کو اس احتیاط پر جس چیز نے مجبور کیا وہ یہ تھی کہ ان کے زمانہ تک روایت بالمعنی کا طریقہ عام تھا اور بہت کم لوگ تھے جو الفاظِ حدیث کی پابندی کرتے تھے اس لئے روایت میں تغیر و تبدل کا ہر واسطہ میں احتمال بڑھتا جاتا تھا……علامہ ذہبی رحمہ اللہ تذکرۃ الحفاظ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے حالات میں لکھتے ہیں کہ وہ روایت میں سختی کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو جھڑک دیتے تھے کہ الفاظ کے ضبط میں بے پروائی نہ کریں ۔ وہ جب کبھی بالمعنی روایت کرتے تو ساتھ ہی یہ الفاظ استعمال کرتے، اومثلہٗ اونحوہٗ او شبیہٌ بہٖ اما فوق ذلک واما دون ذلک واما قریب من ذلک۔ یعنی رسول اﷲ ﷺ نے اس طرح فرمایا تھا یا اس کے مثل یا اس کے مشابہ یا اس سے کچھ زیادہ یا کم یا اس کے قریب قریب فرمایا تھا ۔ ابو درداء رضی اﷲ عنہ کا بھی یہی حال تھا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ جو لوگوں کو روایاتِ حدیث سے منع کیا کرتے تھے ان کا بھی غالباً یہی منشاء تھا۔ وہ جانتے تھے کہ الفاظ کم یاد رہ سکتے ہیں اور معنی کی عام اجازت سے تغیر و تبدل کا احتمال بڑھتا جاتا ہے۔ ()
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے چونکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے تلامذہ سے اکتسابِ علم کیا اس لیے ایسی ہی احتیاط امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے یہاں نظر آتی ہے۔امام صاحب نے ضبطِ راوی کو اخذِ حدیث کے لیے بہت اہمیت دی اس کی کیا وجہ ہے؟اگر ’’ضبط‘‘ کے مفہوم پر غور کیا جائے تو حدیث کے راوی کے لیے اس کی اہمیت وضرورت بنیادی شرط کے طور پر نمایاں ہو جاتی ہے۔ فخرالاسلام علامہ بزدوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں ،
’’ضبط کا مفہوم یہ ہے کہ روایت کو اس طرح اخذ کیا جائے جس طرح اس کے حصول کا حق ہے، پھر اس کے صحیح مفہوم کو سمجھا جائے اور پوری کوشش سے اسے یاد کیا جائے پھر اس کی حدود کی حفاظت کر کے اس کی پابندی کی جائے اور روایت بیان کرنے تک اسے بار بار دہرایا جائے تاکہ وہ ذہن سے اتر نہ جائے‘‘۔ ()
امام عبدالوہاب شعرانی رحمہ اللہ نے آپ کی ایک اور شرط یہ تحریر کی ہے کہ’’ جو حدیث سرکارِ دو عالم ﷺ سے منقول ہو ا س میں امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ یہ شرط لگاتے ہیں کہ اس پر عمل سے پہلے یہ دیکھ لیا جائے کہ راوئ حدیث سے صحابی راوی تک متقی وعادل لوگوں کی ایک خاص جماعت اسے نقل کرتی ہو‘‘۔ ()
اس حوالے سے دیکھا جائے تو امامِ اعظم نے وہی روایات لی ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے تابعین اور کبار تبع تابعین کو آپ نے خود ملاحظہ فرمایا۔امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کا یہ ارشاد علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے،
یاخذ بما صح عندہ من الاحادیث التی کان یحملھا الثقات۔’’امامِ اعظم ابوحنیفہ احادیث کی وہ روایات لیتے تھے جو آپ کے نزدیک صحیح ہوتی تھیں اور جنہیں ثقہ راویوں کی جماعت روایت کرتی ہو‘‘۔()
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی سخت شرائط کے حوالے سے امام سیوطی شافعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں ، ’’ یہ سخت مذہب ہے یعنی انتہائی درجہ کی احتیاط ہے۔ اس سلسلے میں دیگر محدثین اس اصول کو نہیں اپنا سکے۔بہت ممکن ہے کہ بخاری و مسلم کے ان راویوں کی تعداد جو مذکورہ شرط پر پورے اترتے ہوں ، نصف تک بھی نہ پہنچتی ہو‘‘۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up