Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 86 of 168
حقیقت یہ ہے کہ پندرہ سو اکابر صحابہ کرام کی برکت سے کوفہ علم و فضل کا ایسا مرکز بن گیاتھا جس کی بناء پر حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کو رُمْحُ اللّٰہ(اﷲ کانیزہ)، کَنْزُالْاِیْمَانْ (ایمان کا خزانہ) اورجُمْجُمَۃُ الْعَرَبْ (عرب کاسر) کے القاب سے یاد کیا۔حضرت سلمان فارسی رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کو قُبَّۃُ الْاِسْلَام (اسلام کا گھر) قرار دیا۔ جبکہ حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کو ایمان کا خزانہ ، اسلام کا سر اور اﷲ تعالیٰ کی تلوار کا لقب دیا۔()
اخذِحدیث کے اصول:
نبی کریم ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے، ’’ جس نے میری طرف جھوٹی بات منسوب کی تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے‘‘۔() ہر دور میں عموماً اور قرونِ اولیٰ میں خصوصاً محدثین کرام حدیث کی روایت میں انتہائی احتیاط سے کام لیتے رہے ہیں ۔ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے بھی روایتِ حدیث میں نہایت محتاط طریقہ اختیار کیا ۔
مشہور محدث امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ علم حاصل کرنے میں نہایت محتاط اور حدودِ الٰہی کی بے حرمتی کرنے پر بیحد مدافعت کرنے والے تھے۔ آپ صرف وہی حدیثیں لیتے تھے جو ثقہ راویوں سے مروی اور صحیح ہوتی تھیں اورآپ نبی کریم ﷺ کے آخری عمر کے فعل کو لیا کرتے تھے اور اس فعل کو جس پر انہوں نے علمائِ کوفہ کو عمل کرتے پایا۔ مگر پھر بھی ایک قوم نے بلاوجہ ان پر طعن کیا ہے۔ اﷲتعالیٰ ہماری اور ان کی مغفرت کرے‘‘۔()
حسن بن صالح رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ’’ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ ناسخ و منسوخ احادیث کو بکثرت تلاش کرتے تھے اور اہلِ کوفہ کی تمام احادیث کا علم رکھتے تھے۔ لوگوں کا جس امر پر اتفاق تھا آپ اس کی سختی سے پیروی کرتے تھے اور آپ ان سب حدیثوں کے حافظ تھے جو آپ کے شہر والوں کو پہنچی تھیں ‘‘۔()
علامہ ابن عبدالبر مالکی رحمہ اللہ نے آپ ہی کا ایک اور ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ فہم اور علم میں پختہ تھے جب آپ کے نزدیک آقا ومولیٰ ﷺ کی حدیث صحیح ثابت ہوتی تو پھر اس سے غیر کی طرف آپ ہرگز نہ جاتے‘‘۔ ()
یہ سیدنا امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی نبی کریم ﷺ کی احا دیث سے محبت کی دلیل ہے اور اس محبت کا ہی ایک تقاضا یہ ہے کہ ان تمام راستوں کو بند کردیا جائے جن کے ذریعے کوئی رسولِ کریم ﷺ کی جانب غلط روایت منسوب کرسکے۔
علامہ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ اسی خیال سے صحابہ کرام کو ہمیشہ حکم دیتے تھے کہ حدیثیں کم بیان کریں ۔حضرت ابو اسلمہ رضی اﷲ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے پوچھا، کیا آپ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے زمانہ میں بھی اسی طرح حدیثیں روایت کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا، ’’ نہیں ورنہ حضرت عمرفاروق رضی اﷲ عنہ درے مارتے‘‘۔()
دورِ عثمانی و دورِ حیدری میں احادیث کی اشاعت عام ہوگئی تو اہلِ بدعت نے بیشمار حدیثیں وضع کرلیں ۔ حماد بن زیدرحمہ اللہ کے بقول چودہ ہزار حدیثیں صرف ایک فرقہ زنادقہ نے وضع کرلیں ۔ ان حالات میں امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے روایتوں کی تنقید کی بنیاد ڈالی اور اس کے اصول و ضوابط مقرر کیے۔ اس وقت ان شرائط کو نہایت سخت کہا گیا۔ پھر امام مالک رضی اﷲ عنہ نے روایت کے متعلق جو شرائط لگائیں وہ آپ کی شرائط کے قریب تر ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کو مشدّدین فی الروایۃ کہا گیا ہے۔
سیدناامامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے قلیل الروایۃ ہونے کا ایک سبب آپ کے اس قول سے ظاہر ہے کہ’’ کسی شخص کے لیے حدیث بیان کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک وہ اس حدیث کو سننے کے دن سے بیان کرنے تک صحیح یاد نہ رکھتا ہو‘‘۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up