Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 85 of 168
غیرمقلدین کے پیشواابن تیمیہ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ’’ اہلِ کوفہ نے حضرت علی رضی اﷲ عنہ کی تشریف آوری سے قبل ہی حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہ سے ایمان ، قرآن، تفسیر، فقہ اور سنت کا علم حاصل کرلیا تھا‘‘۔ ()
علامہ ابن سعدرحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’ بیعتِ رضوان والے تین سو صحابہ اور غزوہ بدر میں شریک ہونے والے ستر صحابہ کرام کوفہ میں آباد ہوئے‘‘۔ () ان اکابر صحابہ کے علاوہ اور بھی بہت سارے صحابہ کرام کوفہ میں آباد ہوئے۔ مشہور تابعی حضرت قتادہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ، ’’حضور ﷺ کے ایک ہزار پچاس صحابہ اور چوبیس بدری صحابہ کوفہ میں تشریف فرماہوئے‘‘۔()
حافظ ابن ہمام اور محدث علی قاری رحمہما اللہنے کوفہ میں تشریف فرما ہونے والے صحابہ کرام کی تعداد پندرہ سو تحریر فرمائی ہے۔()
ان روشن دلائل کے باوجود اگر کوئی کوفہ کو ایک یا دو صحابہ کا مسکن کہے تو اسے اپنی عقل پر ماتم کرناچاہیے۔ اب رہا یہ اعتراض کہ ’’ اہلِ کوفہ حدیث نہیں جانتے تھے‘‘، اس کے جواب میں محدثین کی گواہیاں ملاحظہ فرمائیے۔ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’میں جب کوفہ پہنچا تو وہاں حدیث کے چار ہزار طلبہ موجود تھے‘‘۔()
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہاور امام بخاری رحمہ اللہ کے شیوخ میں سے امام عفان بن مسلمرحمہ اللہ فرماتے ہیں ۔ ’’ جب ہم کوفہ پہنچے تو وہاں چار ماہ قیام کیا۔ احادیث کا وہاں اتنا چرچا تھا کہ اگر ہم چاہتے تو ایک لاکھ سے بھی زیادہ احادیث لکھ سکتے تھے۔ مگر ہم نے صرف پچاس ہزارحدیثوں پر اکتفا کیا۔ ہم نے کوفہ میں عربی زبان میں غلطی کرنے والا اور اس کو روا سمجھنے والا کوئی نہیں دیکھا‘‘۔ ()
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہسے ان کے بیٹے نے پوچھا، حصولِ علم کے لیے ایک استاد کی خدمت میں رہوں یا دوسرے شہروں سے بھی علم حاصل کروں ؟ فرمایا، سفر اختیار کرو اور کوفیوں ، مصریوں ، اہلِ مدینہ اور اہلِ مکہ سے علم لکھو۔ ()
امام احمد رحمہ اللہنے اہلِ کوفہ کا ذکر سب سے پہلے کرکے علم و فضل کے حصول کے لیے کوفہ کی اہمیت واضح فرمائی۔ حدیث اور رجال کی کتب دیکھیں تو اکثر راوی کوفہ کے نظر آتے ہیں ۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہنے تذکرۃ الحفاظ کی صرف پہلی جلد میں کوفے کے تقریباً سو(۱۰۰) حفاظِ حدیث کے اسمائے گرامی لکھے ہیں جن میں سے اکثر صحاح ستہ بلکہ صحیحین کے راوی ہیں ۔ کیا اس کے باوجود کوئی یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ کوفہ والوں کو حدیث کا علم نہیں تھا۔
امام سفیان بن عیینہرحمہ اللہ فرماتے ہیں ’’ جو جنگوں کا علم سیکھنا چاہے وہ اہل مدینہ سے حاصل کرے اور حج کے مسائل اور مناسک سیکھنا چاہے وہ اہل مکہ سے سیکھے اور جو فقہ کا علم حاصل کرنا چاہے اس کے لیے کوفہ ہی ہے‘‘۔ ()
یہ بات ہم پہلے تحریر کرچکے کہ علم فقہ کی بنیاد حدیث کے علم ہی پر ہے۔ اس لیے کوفہ کو حدیث و فقہ دونوں علوم کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت امیرالمومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ کا ارشاد گرامی ہے جنہوں نے طلبِ حدیث کے لیے بہت سے اسلامی شہروں کا سفر کیا لیکن کوفہ اور بغداد تو وہ کثرت سے جاتے رہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’میں دوبار مصروشام گیا، چار مرتبہ بصرہ گیااور میں ہرگز نہیں گن سکتا کہ میں کوفہ اور بغداد کتنی مرتبہ گیا‘‘۔ ()
شارح بخاری رحمہ اللہرقمطراز ہیں ، ’’جب امامِ اعظم کے وصال کے اسّی(۸۰) سال بعد کوفہ کا یہ حال تھا کہ امام بخاری جیسے احادیث کے بحرِ ناپیدا کنار اپنی تشنگی بجھانے کے لیے اتنی بار کوفہ گئے جس کو وہ اپنے محیّر العقول حافظے کے باوجود شمار نہیں کر سکتے تو اسّی سال پہلے تابعین کے دور میں کوفے کے علم وفضل کا کیا حال رہا ہو گا؟‘‘۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up