Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 84 of 168
آپ نے صرف کوفہ ہی کے مشائخ سے علم حاصل نہ کیا بلکہ آپ مکہ، مدینہ اور بصرہ بھی حصولِ علم کے لیے کئی بار گئے۔ آپکے بعض اساتذہ کرام کا ہم آئندہ صفحات میں ذکر کریں گے۔ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے سینۂ اقدس میں احادیث کا کتنا بڑا خزانہ تھا اس کا اندازہ محدث علی قاری رحمہ اللہکے اس قول سے کیجیے، وہ امام محمد بن سماعہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں ، ’’ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ نے اپنی تصانیف میں ستر ہزار (70,000) سے زائد احادیث بیان کی ہیں اور چالیس ہزار (40،000) احادیث سے کتاب الآثار کا انتخاب کیا ہے‘‘۔ ()
صدرالائمہ امام موفق بن احمد مکی رحمہ اللہ لکھتے ہیں ، ’’ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ نے کتاب الآثار کا انتخاب چالیس ہزار احادیث سے کیا ہے۔ جن کی صحت کی آپ کو پوری تحقیق تھی‘‘۔ ()
ایک بات کی وضاحت ضروری ہے وہ یہ کہ اگر ایک حدیث کا متن سو مختلف طریقوں اور سندوں سے روایت کیا جائے تو محدثین کی اصطلاح میں یہ سو حدیثیں ہونگی۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ فلاں محدث کو ایک لاکھ حدیثیں یاد تھیں اور فلاں محدث کو دو لاکھ، اس کا یہی مطلب ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حدیث کی اسناد میں راویوں کا اضافہ ہوا اور ایک ایک حدیث کو بکثرت راویوں نے روایت کرنا شروع کردیا۔ ورنہ محدثین کرام کا اتفاق ہے کہ ’’ تمام مسند احادیثِ صحیحہ جو بلا تکرار نبی کریم ﷺ سے روایت کی گئی ہیں ان کی تعداد چار ہزار اور چارسو ہے‘‘۔ ()
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی طرف جب چالیس ہزار حدیثوں کی نسبت کی جاتی ہے تو یہ اسانید و طرق کی کثرت سے مروی روایات کی تعداد ہوتی ہے اور امام حسن بن زیادرحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ بلا تکرار جو احادیث روایت کرتے ہیں ان کی تعداد چار ہزار ہے، دو ہزار احادیث انہوں نے اپنے استاد امام حماد رحمہ اللہسے اور دو ہزار دوسرے شیوخ سے حاصل کیں ‘‘۔ ()
اس سے معلوم ہوا کہ امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ واقعی علم الحدیث کے شہنشاہ تھے۔ اور اگر نفسِ احادیث کے اعتبار سے تجزیہ کیا جائے تو امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی مرویات امام بخاری رحمہ اللہ سے کہیں زیادہ ہیں اور نسبتاً کم واسطوں سے ہیں ۔
مرکزِ علم وفضل ؛کوفہ:
سیدناامامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کا وطن کوفہ ہے۔ اس لیے غیر مقلدین یہ پراپیگینڈہ کرتے ہیں کہ کوفہ والوں کو حدیث کا علم نہیں تھا نیز کوفہ میں صرف ایک دو صحابہ رہتے تھے وغیرہ وغیرہ۔ آئیے اس پراپیگینڈہ کا تجزیہ کرتے ہیں ۔
علامہ کوثری مصری رحمہ اللہ لکھتے ہیں ، ’’ عہدِ فاروقی ۱۷ھ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے حکم پر شہر کوفہ آباد کیا گیا اور اس کے اطراف میں فصحائے عرب آباد کیے گئے۔ سرکاری طور پر یہاں مسلمانوں کی راہنمائی کے لیے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کا تقرر ہوا۔ ان کے علمی مقام کا اندازہ اس مکتوب سے کیا جاسکتا ہے جو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اہلِ کوفہ کو تحریر کیا تھا۔ اس میں تحریر تھا :
’’عبداللہ بن مسعود کی مجھے یہاں خاص ضرورت تھی لیکن تمہاری ضرورت کو مقدم رکھتے ہوئے میں ان کو تمہارے پاس بھیج رہاہوں ‘‘۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہ نے کوفہ میں خلافتِ عثمان کے آخر وقت تک لوگوں کو قرآن پاک اور دینی مسائل کی تعلیم دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس شہر میں چار ہزار علماء اور محدثین پیدا ہوگئے۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ جب کوفہ پہنچے تو اس شہر کے علمی ماحول کو دیکھ کر فرمایا،’’ اﷲ تعالیٰ ابن مسعود رضی اﷲ عنہ کا بھلا کرے کہ انہوں نے اس شہر کو علم سے بھر دیا‘‘۔()
Share:
keyboard_arrow_up