Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 83 of 167

حافظ الحدیث ، اسرائیل رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ: امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ بہت اچھے بزرگ تھے۔ انہیں ہر ایسی حدیث جس سے کوئی فقہی مسئلہ اخذ ہو سکتا تھا بہت اچھی طرح یاد تھی۔ وہ ایسی حدیثوں کو بہت تلاش کرتے تھے اور حدیث میں فقہی مسائل کو بہت زیادہ جاننے والے تھے۔

صحاح ستہ کے اہم راوی حافظ الحدیث امام مسعر بن کدام رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’میں نے امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کے ساتھ حدیث کا علم حاصل کرنا شروع کیا لیکن وہ ہم پر غالب رہے‘‘۔

امام زفر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’میں نے دیکھا ہے کہ بڑے بڑے محدثین مثلاً زکریا بن ابی زائدہ، عبدالملک بن ابی سلیمان، لیث بن ابی سلیم، مطرف بن طریف اور حصین بن عبدالرحمٰن وغیرہ (رحمہ اللّٰہ تعالیٰ) امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے پاس اکثر آتے جاتے رہتے اور مشکل مسائل دریافت کرتے تھے۔ کئی بار وہ ان احادیث کے بارے میں سوال کرتے جس کے متعلق انہیں کوئی مشکل پیش آتی تھی۔

مقامِ غور ہے کہ اگر بالفرض سیدناامامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کو صرف سترہ حدیثیں یاد ہوتیں تو ایسے بڑے بڑے محدثین آپکے پاس کیوں حاضری دیتے؟ امام ذہبی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں ،’’آپ سے جن محدثین نے کثیر روایات حاصل کی ہیں ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

علامہ یوسف بن صالح شامی رحمہ اللّٰہ نے آپ سے روایات اخذ کرنے والے نو سو چوبیس (۹۲۴) محدثین کے نام تحریر کیے ہیں ۔

علامہ سیوطی رحمہ اللّٰہ نے آ پ کے ۹۵ تلامذہ کے اسمائے گرامی تحریر کیے ہیں۔

نامور محدث علی بن خشرم رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’ہم امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللّٰہ کی خدمت میں حاضر تھے انہوں نے فرمایا، اے اصحاب ِ حدیث ! تم حدیث میں تفقہ پیدا کرو، ایسا نہ ہو کہ اصحابُ الرائے تم پر غالب آجائیں ۔ یہ خیال رہے کہ امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ نے کوئی بات ایسی نہیں کہی ہے جس پر ہم ایک یا دو حدیثیں نہ روایت کرتے ہوں‘‘۔

اس ارشاد سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اصحابُ الرائے تفقہ فی الحدیث کے حوالے سے نمایاں مقام کے حامل رہے ہیں اسی لیے امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللّٰہ نے انہیں حدیث کا فہم حاصل کرنے کی ترغیب دی اور دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ جو کچھ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے فرمایا ہے اس کے بارے میں ایک یا دو حدیثیں ضرور موجود ہیں۔ یعنی کہ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کا اجتہاد و قیاس احادیث کے عین مطابق ہے۔

امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ جنہیں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ،’’صاحبِ حدیث‘‘ اور امام ذہبی رحمہ اللّٰہ ’’حافظ الحدیث‘‘ کہتے تھے وہ فرماتے ہیں ، میں نے امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ سے زیادہ حدیث کی تفسیر جاننے والا اور اس کے فقہی نکات پہچاننے والا نہیں دیکھا۔ اور میں نے جب کبھی کسی بات میں ان کی مخالفت کی اور پھر اس پر غور کیا تو انہی کے مذہب کو آخرت کے لحاظ سے زیادہ موجبِ نجات پایا اور بسا اوقات میں حدیث کی طرف مائل ہوتا تو وہ مجھ سے زیادہ صحیح حدیث کو جاننے والے ہوتے۔

جب امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کسی قول پر جم جا تے تو میں آپکے قول کی تائید میں کوئی حدیث یا اثر معلوم کرنے کے لیے کوفہ کے مشائخ کے پاس جاتا۔ بسا اوقات دو دو یا تین تین حدیثیں لے کر آپ کے پاس حاضر ہوتا تو ان میں سے کسی کے بارے میں فرمادیتے کہ یہ صحیح نہیں ہے یا غیر معروف ہے۔ میں دریافت کرتا کہ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا حالانکہ یہ تو آپ کے قول کے مطابق ہے۔ آپ ارشاد فرماتے، ’’ میں اہلِ کوفہ کے تمام علم کا عالم ہوں‘‘۔

Share:
keyboard_arrow_up