باب ہفتم(7) امامِ اعظم اور علم الحدیث
بعض نام نہاد اہلحدیث سیدنا امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے بارے میں یہ پراپیگنڈہ کرتے ہیں کہ ’’آپ کو صرف سترہ حدیثیں یاد تھیں ‘‘۔ اس اعتراض کی اصل وجہ بھی آپ سے حسد و بغض ہے۔ علامہ ابن حجر شافعی رحمہ اللہلکھتے ہیں ،
’’ کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کو فقہ کے علاوہ دیگر علوم پر دسترس حاصل نہ تھی۔ حاشاﷲ، آپ علوم شرعیہ، تفسیر، حدیث اور علومِ ادب و حکمت میں بحرِ ناپیداکنار تھے اور ان میں سے ہر فن کے امام تھے۔ بعض دشمنوں کا اس کے خلاف کہنا محض ان سے حسد کی وجہ سے ہے‘‘۔ ()
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے نامور شاگرد امام مکی بن ابراہیمرحمہ اللہ ( المتوفی ۲۱۵ھ) امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد ہیں اور صحیح بخاری میں بائیس ثلاثیات میں سے گیارہ ثلاثیات صرف امام مکی بن ابراہیم رحمہ اللہکی سند سے مروی ہیں اور نو ثلاثیات دیگر حنفی شیوخ سے۔ گویا امام بخاری رحمہ اللہ کو اپنی صحیح میں عالی سند کے ساتھ بیس ثلاثیات درج کرنے کا شرف سیدنا امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے تلامذہ کا صدقہ ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہاور دیگر کتبِ صحاح کے اسانید میں بھی اکثر شیوخ حنفی ہیں ۔ امام مکی بن ابراہیمرحمہ اللہنے امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں رہ کر آپ سے حدیث اور فقہ کا علم حاصل کیا اور آپ سے بکثرت حدیثیں روایت کیں ۔ آپ نے امامِ اعظم رحمہ اللہ کی خدمت سے دس سال استفادہ کیا۔ ()
امام ابو عبدالرحمٰن المقری رحمہ اللہ(۲۱۳ھ) نے امامِ اعظم رحمہ اللہسے نو سو(۹۰۰) حدیثیں سماعت کیں ۔ ()
ان کے شاگرد بشر بن موسیٰ رحمہ اللہکہتے ہیں ۔ ’’جب آپ ہم سے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کی سند سے کوئی حدیث بیان کرتے تو فرماتے، حدثنا شاھنشاہ۔ ہم سے شہنشاہ نے حدیث بیان کی ہے‘‘۔()
غور فرمائیے کہ امام بخاری رحمہ اللہکے شیخ امام مکی بن ابراہیمرحمہ اللہ دس سال امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ سے حدیث و فقہ کا علم حاصل کریں اور محدثِ کامل امام ابو عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نو سو (۹۰۰) حدیثیں سن کر آپکی عظمت کا اقرار یوں کریں کہ آپکو ’’ حدیث کا شہنشاہ‘‘ کہیں تو پھر امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے حافظ الحدیث ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے؟
علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’ امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ نے ائمہ تابعین وغیرہ چار ہزار شیوخ سے علم حاصل کیا ہے اس لیے امام ذہبیرحمہ اللہ اور دوسرے حضرات نے آپکا شمار حفاظ محدثین کے طبقے میں کیا ہے اور جس نے یہ گمان کیا کہ آپ نے حدیث کو کم اہمیت دی ، یہ اُس کی غفلت ہے یا پھر حسد ہے، یہ بات اس شخص کے متعلق کیونکر صحیح ہو سکتی ہے جس نے حدیث سے بے شمار مسائل اخذ کیے ہوں حالانکہ دلائل شرعیہ سے مخصوص طریقہ کے مطابق استنباط کرنے والے آپ پہلے شخص ہیں جسکا ذکر آپکے اصحاب کی کتب میں ہے۔ چونکہ آپ (فقہ کے) اس اہم کام میں مشغول رہے اس لیے آپ کی حدیثیں لوگوں میں پھیل نہ سکیں جس طرح حضرات ابو بکر و عمر رضی اﷲعنہما جب مسلمانوں کی ضروریات میں مشغول ہوئے تو ان سے روایتِ حدیث ظاہر نہ ہوئی جیسا کہ ان کے سوا دوسرے کم عمر صحابہ سے ظاہر ہوئی۔
اس طرح امام مالک اور امام شافعی سے بھی فقہ میں مشغولیت کے باعث اس قدر احادیث ظاہر نہیں ہوئیں جیسا کہ ان حضرات سے مثلاً ابو زرعہ اور ابن معین (رحمہم اللہ تعالیٰ)سے ظاہر ہوئیں جو کہ محض روایتِ حدیث کی طرف متوجہ رہے۔علاوہ ازیں کثرتِ روایات بغیر درایت کے کوئی خوبی کی بات نہیں بلکہ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہنے تو اس کی مذمت میں ایک مستقل باب لکھا ہے اور فرمایا ہے کہ فقہاء و علماء کا مذہب یہ ہے کہ’’ بغیر تفقہ و تدبر کے کثرت سے روایت کرنا اچھا نہیں اور ابن شبرمۃ رحمہ اللہنے کہا کہ ’’ کم روایت بھی تفقہ ہے‘‘۔ حضرت عبداﷲ بن مبارک رحمہ اللہ کا ارشاد ہے، ’’ قابلِ اعتماد چیز حدیث واثر ہے اور صرف وہ رائے قبول کرو جو حدیث کی تفسیر کرے‘‘۔()
Page 82 of 168

