Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 81 of 168
دینی مسائل کی ترویج و اشاعت اور فتاویٰ دینے کے لحاظ سے صحابہ کرام کا ایک طبقہ بہت نمایاں ہے جن کے فتاویٰ کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان میں حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداﷲ بن مسعود، حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداﷲ بن عباس اور حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہم شامل ہیں ۔
ان کے بعد صحابہ کرام کا دوسرا طبقہ ہے جن حضرات نے کثیر فتاویٰ دئیے لیکن اول الذکر کی بہ نسبت یہ تعداد کم رہی۔ ان صاحبِ علم و فضل، نفوسِ قدسیہ کی تعداد بیس شمار کی گئی ہے جن میں حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عثمان، حضرت ام سلمہ، معاذ بن جبل، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت انس، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبداﷲ بن عمر و بن عاص، حضرت عبداﷲ بن زبیر، ابو موسیٰ اشعری، سعد بن ابی وقاص، سلمان فارسی، جابربن عبداللہ، ابو سعید خدری،عبدالرحمٰن بن عوف، امیر معاویہ، عبادہ بن صامت ، عمران بن حصین اور حضرت ابو بکرہ رضی اﷲ عنہم شامل ہیں ۔
صحابہ کرام براہ ِراست نبی کریم ﷺ سے دین کا علم حاصل کیا کرتے تھے۔ آقا و مولیٰ ﷺ کے ظاہری وصال کے بعد صحابہ کرام اور تابعین عظام بھی اپنے درمیان موجود زیادہ صاحبِ علم صحابی کی تقلید کیا کرتے تھے۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے بارے میں فرماتے تھے، ’’جب تک یہ عالم تمھارے درمیان موجود ہیں ، مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو‘‘۔() اسی کا نام شخصی تقلید ہے جو دورِ صحابہ میں بھی موجود تھی۔
بخاری شریف میں حضرت عکرمہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ اہل مدینہ نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کے قول پر حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کی تقلید کو ترجیح دی۔ ان دلائل سے ثابت ہوا کہ دور ِصحابہ میں فقیہ صحابہ اجتہاد کیا کرتے تھے اور دوسرے لوگ ان کی تقلید بھی کرتے تھے۔
جید فقہاء صحابہ کرام کے بارے میں جلیل القدر تابعی امام مسروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ،’’ میں نے صحابہ کرام کی صحبت سے فیض پایا ہے۔ میں نے دیکھا کہ سب صحابہ کرام کا علم سمٹ کر اِن چھ اکابر صحابہ کی طرف لوٹتا ہے۔
حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عبداﷲ بن مسعود، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابوالدرداء اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم۔ پھر میں نے ان چھ حضرات سے اکتسابِ فیض کیا تو دیکھاکہ ان سب کا علم حضرت علی اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہما کے علم پر ختم ہوگیا‘‘۔()
ابن قیم کہتے ہیں ، ’’اہلِ مدینہ میں دین اور فقہ کا علم زید بن ثابت اورابن عمر کے اصحاب کے ذریعے، اہلِ مکہ میں ابن عباس کے اصحاب کے ذریعے اور اہلِ عراق میں ابن مسعود کے اصحاب کے ذریعے پھیلا ہے (رضی اﷲ عنہم) ‘‘۔ ()
امام شعبی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں ، حضور ﷺ کے صحابہ کرام کے بعد کوفہ میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے شاگرد ہی دین کے فقہاء تھے۔ ()
آپ ہی کا ایک اور ارشاد ہے، ’’میں کوفہ میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے شاگردوں کے سوا کسی کو فقیہ نہیں جانتا‘‘ ۔ ()
حضرت علی المرتضیٰ رضی اﷲ عنہ ، حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کے وصال کے بعد جب کوفہ تشریف لائے تو دیکھا کہ مسجد کوفہ میں حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہ کے شاگرد فقہ کا درس دے رہے ہیں اور چار سو کے قریب دواتیں رکھی ہیں جن سے طلبہ ان کا درس لکھ رہے ہیں ۔ آپ نے خوش ہوکر فرمایا، ’’ اﷲ ، ابنِ مسعود رضی اﷲ عنہ پر رحمت فرمائے ، وہ ان لوگوں کو کوفہ کے روشن چراغ بناکر چھوڑ گئے ہیں ‘‘۔ ()
ان دلائل سے معلوم ہوا کہ بعض صحابہ کرام زیادہ فقیہ اور کثیرالفتاویٰ تھے ان میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ نیز آپ ہی نے فقہ کی درس و تدریس کا باقاعدہ سلسلہ جاری کیا اس لیے ان کی اور ان کے اصحاب کی فقہ دیگر تمام مجتھدین کی فقہ پر مقدم ہے۔
Share:
keyboard_arrow_up