اس حدیث پاک میں سرکار دو عالم ﷺ نے حج کومالی حقوق پر قیاس کیا ہے۔
3 ۔ ایک دن حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲعنہ نے بہت سے مسائل بیان فرمائے اور پھر فرمایا ، اگر تم میں سے کسی شخص کو کسی مسئلہ میں فیصلہ کرنا ہو تو کتاب اﷲ سے فیصلہ کرے، اگر وہ امر قرآن میں نہ ملے تو سنتِ نبوی ﷺ سے فیصلہ کرے، اگر وہ امر قرآن و سنت دونوں میں نہ ملے تو نیک لوگوں یعنی صحابہ کرام کے فیصلے کے موافق فیصلہ کرے اور اگر وہ امر نہ قرآن میں ملے نہ سنتِ نبوی ﷺ میں اور نہ صالحین کے فیصلوں میں ، تو وہ شخص اپنی عقل سے کام لے اور ’’فَلْیَجْتَھِدْ رَاْیَہٗ‘‘ یعنی اپنی رائے سے اجتہاد کرے‘‘۔امام نسائی رحمہ اللہنے فرمایا، یہ حدیث صحیح ہے ۔ ()
اس حدیث سے بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی مسئلہ قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ میں نہ ملے تو قیاس کرنا درست ہے۔
4 ۔ حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ کے پاس جب کوئی مقدمہ پیش ہوتا اور اگرقرآن اور سنتِ رسول ﷺ میں ان کو اس مسئلہ کی وضاحت نہ ملتی توآپ ارشاد فرماتے،
’’ میں اپنی رائے سے اجتہاد کرتا ہوں اگر صحیح ہوا تو اﷲ تعالیٰ کی رحمت ہے ورنہ میری خطا ہے۔ اور میں اﷲ تعالیٰ سے مغفرت چاہتا ہوں ‘‘۔ ()
دوسری روایت میں ہے کہ آپ برگزیدہ افراد کو جمع کرکے ان سے رائے لیتے اور جب وہ حضرات ایک رائے پر متفق ہوجاتے توآپ اس کے مطابق فیصلہ فرمادیتے۔ ()
5 ۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا بھی ایسا ہی معمول تھا۔ آپ جب لوگوں کو فتویٰ دیتے تو ارشاد فرماتے، ’’ یہ عمر کی رائے ہے اگر درست ہے تو اﷲ تعالیٰ کا احسان ہے ورنہ میری خطا ہے‘‘۔()
6 ۔ حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو جب خلیفہ بنایا گیا تو آپ نے فرمایا، میں اﷲتعالیٰ کی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت کے مطابق عمل کروں گا اور اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ۔ ()
7 ۔ حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ کا بھی یہی طریقہ تھا اور انہوں نے اس کی تعلیم دی۔ ()
8۔ حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما کا معمول تھا کہ کتاب و سنت کے بعد حضرت ابو بکر و عمر رضی اﷲ عنہما کے فیصلوں سے راہنمائی لیتے اور اگر کوئی دلیل نہ ملتی تو پھر اپنی رائے سے فتویٰ دیتے۔ ()
ان دلائل و براہین سے یہ ثابت ہوگیا کہ :
٭ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کرام کو قیاس و اجتہاد کی تعلیم دی،
٭ اصولِ دین چار ہیں ، قرآن، سنت، اجماع اور قیاس،
٭ قرآن و سنت اور اجماع کے بعد صحابہ کرام قیاس و اجتہاد کو اختیار کرتے تھے۔
فقہاء صحابہ کرام:
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ رسولِ کریم ﷺکے تمام صحابہ کرام اپنے آقا کریم ﷺکی نگاہِ کرم اورصحبتِ بابرکت کے فیض سے متقی، عادل، ثقہ اور صادق تھے۔ البتہ فہمِ قرآن و حدیث اور تفقہ فی الدین کے لحاظ سے ان کے مختلف درجات و مراتب تھے۔ نبی کریم ﷺنے بعض صحابہ کرام مثلاً حضرت معاذ بن جبل، حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہمکو مختلف قبائل کی طرف دین کی تعلیمات سکھانے کے لیے روانہ فرمایا۔ ان کے علاوہ خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی کئی صحابہ کرام دین سکھانے کے لیے مختلف علاقوں میں بھیجے گئے ۔
’’صحابہ کرام مختلف شہروں میں پھیل گئے اور ان میں سے ہر ایک وہاں کا پیشوا بن گیا۔ مسائل پیش آنے پر لوگوں نے فتوے پوچھنا شروع کیے تو ہر صحابی نے اپنے حافظہ یا استنباط سے مسائل کا جواب دیا یا پھر اپنی رائے سے اجتہاد کیا‘‘۔ ()
عصرِ حاضر کے معروف دانشور ڈاکٹر محمد حمید اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’ایسی متعدد مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں کہ گورنر اور قاضی، جو دوردراز علاقوں میں تھے یا تو خود لکھ کر رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہیے اور ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ ان گورنروں اور قاضیوں نے اپنی صوابدید اور اپنے فہم کے مطابق فیصلہ کر ڈالا‘‘۔ ()
Page 80 of 168

