شارح بخاری امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہنے بھی فقہاء کی اہمیت و فضیلت کو یوں بیان فرمایا، ’’ حلال و حرام کا علم اور ان کے مسائل تو فقہاء کرام سے ہی حاصل کیے جاسکتے ہیں ‘‘۔ ()
رائے اور قیاس:
سب سے پہلے رائے کا لغوی معنی سمجھ لیجیے۔ رائے کے معنی دل کی نظر اور بصیرت کے ہیں ۔ اس کا اصطلاحی مفہوم علامہ ابن اثیر الجزری شافعی رحمہ اللہنے یوں بیان کیا ہے۔ ’’محدثین اصحابِ قیاس کو اصحابِ رائے کہتے ہیں اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مشکل احادیث کو اپنی رائے اور سمجھ سے حل کرتے ہیں یا ایسے مواقع پر وہ اپنے اجتہاد اور قیاس سے کام لیتے ہیں جہاں کوئی حدیث موجود نہیں ہوتی‘‘۔ ()
اس سے معلوم ہوا کہ محدثین کرام اُن اصحاب کو اہلِ رائے کہتے ہیں جو اپنے دل کی بصیرت اور عقل و فہم سے مشکل احادیث اور غیر منصوص مسائل کو حل کرتے ہیں ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دل کی بصیرت اور رائے کے بغیر بھی احادیث کا صحیح فہم ممکن ہے؟ یقیناً نہیں ۔ امام ابن حجر شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ،
’’محققین نے فرمایا ہے کہ رائے کا استعمال کیے بغیر حدیث پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ رائے (عقل و فہم) ہی سے حدیث کے معانی سمجھ میں آتے ہیں جس پر احکام کا دارومدار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض محدثین جب رضاعت کی تحریم کی علت کا ادراک نہ کرسکے تو انہوں نے یہ کہہ دیا کہ اگر دو بچے (رضاعت کے ایام میں ) ایک بکری کا دودھ پی لیں تو ان میں حرمتِ رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ ( ان محدثین میں امام بخاری رحمہ اللہ کا اسم گرامی سرِ فہرست ہے) ۔ اسی طرح محض رائے پر بھی عمل نہیں کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ حالانکہ قیاس یہ کہتا ہے کہ کچھ کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جانا چاہیے خواہ بھول کر ہی ہو۔ اسی طرح جان بوجھ کر قے کرنے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ حالانکہ قیاس یہ کہتا ہے کہ روزہ معدے میں کسی چیز کے داخل ہونے سے ٹوٹنا چاہیے لیکن کسی شئے کے باہر آنے سے نہیں ٹوٹنا چاہیے۔‘‘ ()
اس گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ نہ تو احادیث سے بے نیاز ہوکر محض رائے اور قیاس پر عمل کرنا درست ہے اور نہ ہی رائے اور فہم کے بغیر احادیث کا صحیح مدعا سمجھ جا سکتا ہے۔
علامہ ابن اثیر جزری رحمہ اللہ نے اصحاب الرائے کی جو تعریف بیان کی اس کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ ’’ وہ ایسے مواقع پر اجتہاد سے کام لیتے ہیں جہاں کوئی حدیث نہیں ہوتی‘‘۔ اجتہاد اور قیاس کی تعلیم تو خود آقا و مولیٰ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کو دی اور صحابہ کرام اس پر عمل پیرا رہے۔ چند احادیث ملاحظہ فرمائیں ۔
1۔ سرکار دو عالم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ کو یمن کا حاکم بناکر بھیجا تو دریافت فرمایا، اے معاذ! اگر تمہیں کوئی مسئلہ قرآن وسنت میں نہ ملے تو کیسے فیصلہ کروگے؟ عرض کی ، ’’ اجتھد برائ‘‘ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کروں گا۔ ارشاد فرمایا ،’’ اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق دی جس پر اﷲ تعالیٰ کا رسول راضی ہے‘‘۔ ()
شیخ الاسلام علامہ ابن عبدالبرالمالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ’’ حضرت معاذ رضی اﷲ عنہ کی یہ حدیث صحیح اور مشہور ہے۔ اس کو عادل ائمہ نے روایت کیا اور یہ اجتہاد اور قیاس علی الاصول کی اصل ہے‘‘۔()
2 ۔ ایک عورت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئی اور عرض گذار ہوئی، یا رسول اﷲ ﷺ! میرا باپ بوڑھا ہے اور اس پر حج فرض ہو گیا لیکن وہ حج کی ادائیگی پر قادر نہیں ۔ کیا میں اس کی طرف سے حج بدل کرسکتی ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا،تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیرے باپ پر کسی کا قرض ہو اور تو اس کو ادا کردے تو کیا تیری ادائیگی کافی ہوگی؟ اس نے عرض کی ،ہاں ۔ فرمایا، پھر اﷲ کا قرض (یعنی والد کی طرف سے حج) بھی ادا ہو جائے گا۔()
Page 79 of 168

