Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 78 of 167

امام ابو ثور رحمہ اللّٰہ کا یہ فتویٰ جب محدثین کرام  نے سنا تو اس حدیث کی اسناد پر گفتگو شروع کردی کہ یہ روایت فلاں سے بھی مروی ہے اور یہ روایت فلاں سے بھی مروی ہے۔ اس سائلہ عورت نے ان محدثین کرام سے مخاطب ہو کر کہا، آپ لوگ اب تک کہاں تھے؟

اس سے معلوم ہوا کہ محض حدیث کی اسناد اور طرق جمع کرلینے سے مسلمانوں کو پیش آنے والے مسائل حل نہیں ہوسکتے ورنہ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللّٰہ جیسے جلیل القدر محدث اس حدیث کو حفظ کرلینے کے باوجود لاجواب نہ ہو جاتے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ محدثین کرام بھی احادیث سے مسائل اخذ کرنے میں فقہاء کرام کی برتری کو تسلیم کرتے ہیں ۔

چنانچہ امام ترمذی رحمہ اللّٰہ ایک حدیث کی تحقیق کرتے ہوئے فرماتے ہیں ،

’’اور اسی طرح فقہاء نے کہا ہے اور وہ حدیث کے معانی کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں ‘‘۔

اسی طرح ایک بار کسی شخص نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰہ سے ایک مسئلہ پوچھا تو آپ نے فرمایا، کسی اور سے پوچھ لو، اس نے عرض کی ، آپ ہی اس کا جواب ارشاد فرمائیں ۔ توآپ نے فرمایا، ’’ﷲتعالیٰ تمہیں سلامت رکھے کسی اور سے پوچھ لو، فقہاء سے پوچھو، امام ابو ثور رحمہ اللّٰہ سے پوچھ لو‘‘۔

امام احمد بن حنبل ائمہ اربعہ میں سے نامور امام ہیں۔ محدث بھی ہیں، مجتہد بھی۔ مگر ایک پیچیدہ مسئلہ کے متعلق انہوں نے فرمایا کہ ’’ اسے فقہاء سے پوچھ لو‘‘۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اجتہاد بہت قلیل درجہ میں ہے۔ ’’ جس قدر حدیث و روایت میں ان کا زیادہ اعتبار ہے اس قدر استنباط اور اجتہاد میں ان کی نام آوری کم ہے۔

علامہ طبری نے جو خود بھی محدث اور مجتہد تھے مجتہدین میں ان کا شمار نہیں کیا۔ قاضی ابن عبدالبر مالکی نے کتاب’’الانتقاء فی فضائل الثلٰثۃ الفقہاء‘‘ میں جو مجتہدین کے حالات میں لکھی، اس میں امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام شافعی پر اکتفا کیا (رضیﷲ عنہم) ‘‘۔

ابوبکر بن عبدان رحمہ اللّٰہ سے پوچھا گیا، درایت اور حفظ میں کیا فرق ہے؟ آپ نے فرمایا ، الدرایۃ فوق الحفظ۔’’درایت حفظ سے اوپر ہے‘‘ یعنی حدیث کی سمجھ بوجھ اسے یاد کرنے سے اعلیٰ ہے۔

معروف محدث امام اعمش رحمہ اللّٰہ ایک دن امامِ اعظم ابوحنیفہ رضیﷲ عنہ سے مختلف سوالات کرتے جاتے تھے اور آپ ان سوالات کے جوابات دیتے جاتے۔ امام اعمش رحمہ اللّٰہ نے تعجب سے پوچھا، آپ کو اس قدر علوم کہاں سے حاصل ہوئے؟ آپ نے فرمایا، انہی احادیث سے جو آپ نے روایت کی ہیں ، پھر آپ نے ان کی روایت کردہ احادیث سنا دیں ۔ امام اعمش رحمہ اللّٰہ نے برملا فرمایا، اے فقہاء ! تم طبیب ہو اور ہم محدثین عطار ہیں ۔

یعنی جس طرح کیمسٹ یعنی عطار اور پنساری طرح طرح کی دوائیں اور مختلف قسم کی جڑی بوٹیاں اپنی دوکان میں رکھتے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کس بیماری کا علاج ہیں ؟ ان کے خواص کیا ہیں ؟ خوراک کی مقدار کیا ہے؟ وغیرہ۔ یہ سب باتیں تو ڈاکٹر اور حکیم ہی جانتے ہیں ۔ اسی طرح محدثین کرام سینکڑوں ہزاروں حدیثیں جمع کرتے ہیں مگر ان سے مسائل اخذ کرنے  پر قادر نہیں ہوتے۔ جبکہ فقہاء کرام کو حدیثوں کا علم بھی ہوتا ہے اور وہ ان سے مسائل کے استنباط سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔

علامہ ابن جوزی حنبلی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،

’’جان لو کہ حدیث میں بڑی باریکیاں اور پیچیدگیاں ہوتی ہیں جن کو صرف وہ علماء ہی پہچان سکتے ہیں جو فقہاء ہوں۔ یہ باریکیاں اور پیچیدگیاں کبھی تو ان کی روایت و نقل میں ہوتی ہیں اور کبھی ان کے معانی کے کشف میں ۔ ‘‘

Share:
keyboard_arrow_up