اس حدیث پاک میں تین قسم کے لوگوں کی مثال تین قسم کی زمین سے دی گئی ہے۔
ایک زمین وہ جو نہ پانی جمع کرے اور نہ سبزہ وغیرہ اگائے، یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے دین پر توجہ نہیں دی۔ دوسری وہ زمین جو پانی جمع کرلیتی ہے مگر اس سے کچھ اگاتی نہیں البتہ اس کا جمع شدہ پانی دوسرے استعمال کرتے ہیں ۔ اس سے مراد محدثین کرام ہیں جو فقیہ نہیں ۔ وہ احادیث حفظ کرلیتے ہیں مگر تفقہ نہ ہونے کی وجہ سے خود احکام و مسائل کا استنباط نہیں کرسکتے۔ ان سے احادیث سن کر فقہاء کرام مسائل کا استخراج کرتے ہیں ۔
تیسری وہ زمین ہے جو پانی اپنے اندر جذب کرکے خزانے اگل دیتی ہے۔ یہ ان فقہائے کرام کی مثال ہے جو احادیث مبارکہ کو اپنے سینوں میں جذب کرکے ان سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مسائل اخذ کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے ہدایت و رہبری کا سامان فراہم کرتے ہیں ۔
۷۔ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا، ’’اﷲ تعالیٰ اس شخص کو خوش و خرم رکھے جس نے میرے کلام کو سنکر اچھی طرح یاد کیا اور پھر اسے دوسروں تک پہنچایا۔ کیونکہ بعض فقہ سیکھنے والے خود غیر فقیہ ہوتے ہیں اور وہ اسے ان تک پہنچادیتے ہیں جو اعلیٰ درجہ کے فقیہ ہوتے ہیں ‘‘۔ ()
یہ حدیث پاک مختلف الفاظ سے متعدد صحابہ کرام سے مروی ہے۔ امام سیوطی رحمہ اللہ اس حدیث کو متواتر کہتے ہیں ۔اس حدیث کو امام احمد، شافعی، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ، بیہقی، اور دارمی نے بھی روایت کیا ہے۔(رحمہم اللہ تعالیٰ)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احادیث روایت کرنے کا اصل مقصد ان سے فقہ حاصل کرنا ہے اس لئے وہ محدثین کرام جو فقیہ نہیں ان کے ذمہ احادیث کا بیان کرنا اس لیے بھی زیادہ اہم ہے تاکہ وہ احادیث جن میں فقہ ہے ان حضرات تک پہنچ جائیں جو محدث بھی ہیں اور فقیہ بھی ۔
فقہاء کی فضیلت:
علم الحدیث میں دو چیزیں بنیادی اہمیت کی ہیں ۔
اول: حدیث کی سند و روایت، اور
دوم : حدیث کے معنی و درایت۔
حدیث کی سند و روایت کی حفاظت اس امت کے محدثین کرام نے کی ہے جبکہ حدیث کے معنی و درایت کا فریضہ امت کے جید فقہائے عظام نے انجام دیا ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ فقہاء کرام کو علم الحدیث پر کامل دسترس ہوتی ہے۔ اگر فقہاء کرام کا عام غیر فقیہ محدثین سے موازنہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ محدثین مواعظ، قصص، فضائل اور ہر قسم کی روایات کا احاطہ کرتے ہیں جبکہ فقہاء کرام زیادہ تر ان احادیث سے غرض رکھتے ہیں جن سے کوئی نہ کوئی شرعی حکم مستنبط ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین کی نسبت فقہاء کرام کی روایات کی تعداد بہت قلیل دکھائی دیتی ہے۔
خطیب بغدادی بیان کرتے ہیں کہ محدثین کرام کی ایک جماعت تشریف فرما تھی کہ مردہ عورتوں کو نہلانے والی ایک عورت آئی اور اس نے سوال کیا ، ’’حیض والی عورت مردہ کو غسل دے سکتی ہے یا نہیں ؟‘‘ امام یحییٰ بن معین، ابو حثیمہ، زہیر بن حرب، خلف بن سالم وغیرہ دیگر جید محدثین کرام (رحمہم اللہ )ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور کسی کو اس کے سوال کا جواب نہ آیا۔ اس دوران امام ابو ثوررحمہ اللہ جو محدث ہونے کے ساتھ ساتھ مجتہد اور فقیہ بھی تھے ، وہاں تشریف لے آئے ۔
اس عورت نے اپنا مسئلہ ان سے دریافت کیا، انہوں نے فرمایا، ہاں حائضہ عورت میت کو غسل دے سکتی ہے۔ کیونکہ آقا و مولیٰ ﷺ نے ایک موقع پر حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے فرمایا تھا کہ تیرا حیض تیرے ہاتھ میں تو نہیں ہے اور یہ بھی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حیض کی حالت میں حضور ﷺ کے سر مبارک پر پانی ڈال کر مانگ نکالتی تھیں ۔ جب اس مخصوص حالت میں زندہ شخص کے سر پر پانی ڈالا جاسکتا ہے تو مردے کو غسل کیوں نہیں دیا جاسکتا؟
Page 77 of 168

