اس آیت مبارکہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر شخص پر دین کا تمام علم سیکھنا اور فقیہ بننا ضروری نہیں لہٰذا بعض لوگ لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْن کے تحت دین کا مکمل علم اور تفقہ فی الدین یعنی دین کی گہری سمجھ حاصل کریں اور جو غیر عالم وغیر فقیہ ہوں ، انہیں چاھیے کہ وہ عالم اور فقیہ کی تقلید کریں ۔ اس آیت کریمہ سے تقلید شرعی کا فرض ہونابھی ثابت ہوا۔
فقہ کی فضیلت، حدیث میں :
۱۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ آقا ومولیٰ ﷺ نے فرمایا،
مَنْ یُّرِدِّ اللّٰہُ بِہٖ خَیْراً یُفَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ۔
’’اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے‘‘۔ ()
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہفرماتے ہیں ، ’’ اس حدیث میں واضح طور پر علماء کی سب لوگوں پر اور تفقہ فی الدین کی تمام علوم پر فضیلت بیان کی گئی ہے‘‘۔ ()
۲۔ حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا،
خِیَارُھُمْ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلاَمِ اِذَا فَقِھُوْا۔
’’جو دورِ جاہلیت میں بہتر افراد تھے وہ اسلام میں بھی بہتر ہیں جبکہ ان میں دین کی فقہ یعنی دین کی سمجھ ہو‘‘۔ ()
اس حدیث میں سرکارِ دوعالم ﷺ نے لوگوں کے بہتر و افضل ہونے کی خوبی فقہ کو قرار دیا ہے۔ اگر کوئی اور خوبی نبی کریم ﷺ کے نزدیک اس سے بہتر ہوتی تو آپ اس کا ذکر فرماتے۔لہٰذا ثابت ہوا کہ رسول کریم ﷺ کے نزدیک مومن کی بہترین خوبی اس کا فقہ کی صفت سے موصوف ہونا ہے۔اس کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ آپ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما کے لیے فقیہ ہونے کی دعا فرمائی۔
۳۔ رسول کریم ﷺ نے یہ دعا فرمائی، اَللّٰھُمَّ فَقِّھْہُ فِی الدِّیْن ۔ ’’اے اللہ ! اسے دین کا فقیہ بنا دے‘‘۔ ()
۴۔حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ ﷺ نے فرمایا، فَقِیْہٌ وَّاحِدٌ اَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنْ اَلْفِ عَابِدٍ ۔’’ایک فقیہ، شیطان پر ہزار عابدوں سے بھی زیادہ بھاری ہے‘‘۔ ()
اس حدیث میں فقیہ کی یہ فضیلت بیان ہوئی کہ وہ ہزار عابد و زاہد لوگوں سے زیادہ شیطان پر بھاری ہے کیونکہ وہ دین کے علم اور سمجھ بوجھ کی وجہ سے شیطان کے مکر و فریب کو جانتا ہے اور نہ صرف وہ خود اس کے مکر سے بچ جاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی شیطان کے مکر و فریب سے بچانے کا سبب بنتا ہے۔
۵۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا ، تَفَقَّھُوْ ا قَبْلَ اَنْ تُسَوَّدُوْا ۔’’ سردار بننے سے پہلے علم حاصل کروـ‘‘۔() سردار اور راہنما ہونے کے لیے دین کا عالم و فقیہ ہونا چاہیے تاکہ علم کی روشنی میں لوگوں کی راہنمائی کی جائے۔
۶۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا،’’اﷲ تعالیٰ نے جو ہدایت اور علم دے کر مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال زوردار بارش کی سی ہے جو زمین پر برسی۔ کچھ زمین عمدہ ہے جس نے پانی جذب کرلیا اور گھاس اور سبزیاں خوب اگائیں اور کچھ زمین سخت ہے جس نے پانی جمع کرلیا اور اس سے اﷲ نے لوگوں کو نفع دیا، لوگوں نے پیا اور پلایا اور کھیتی سیراب کی ، اور کچھ زمین ایسی ہے جو چٹیل ہے نہ اس نے پانی جمع کیا اور نہ سبزہ اگایا۔ یہی مثال اس کی ہے ، مَنْ فَقْہَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ وَنَفَعَہٗ یعنی جس نے اﷲ کے دین میں تفقہ حاصل کیا اور اﷲ نے جو کچھ مجھے دیکر بھیجا ہے اس سے اس کو نفع پہنچایا، اس نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو تعلیم دی ۔ اور یہ مثال ہے اس کی جس نے اﷲ کی اس ہدایت کی طرف سر ہی نہ اٹھایا اور نہ ہی اسے قبول کیا۔ ()
Page 76 of 168

