Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 75 of 168
فقہ کی فضیلت قرآن میں :
عقل ودانش اور فہم وفراست، اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں ۔قرآن وحدیث کے دلائل وبراھین، احکام و تعلیمات اور اسرار ومعارف سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مومن ان نعمتوں سے مالا مال ہو۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے، اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ۔
’’بیشک اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کے لیے‘‘۔ ()
دوسری جگہ ارشادہوا، اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ۔
’’بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لیے‘‘۔()
مزید فرمایاگیا، وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَّتَفَکَّرُوْنَ۔
’’اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں ‘‘۔()
ایک اور جگہ ارشاد ہوا، قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَفْقَھُوْنَ۔
’’بیشک ہم نے مفصل آیتیں بیان کر دیں سمجھ والوں کے لیے‘‘۔()
ان آیات ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ قرآن حکیم کے بحرِ بیکراں سے تفقہ فی الدین کے انمول موتی حاصل کرنے کے لیے عقل وفہم کا ہونا ضروری ہے۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ عقلمند وہ نہیں جو وجودِ باری تعالیٰ کا منکر ہویا منکرِ قرآن وحدیث ہو اور اس پر لغو دلائل قائم کرتا پھرے بلکہ عقل وخرد کا معیار خالقِ کائنات نے یہ بیان فرمایا،
’’تم فرماؤ، کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان؟ نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں ‘‘۔()
گویا عقل وفہم والے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام اور نصیحتوں کو مانتے ہیں ۔ قرآن حکیم نے ہمیں یہ بھی بتایا ہے کہ کافر اور منافق، عقل وفہم اور تفقہ فی الدین یعنی دین کی سمجھ سے محروم رہتے ہیں ۔ ارشاد ہوا،فَمَالِ ھٰؤُلَآءِ الْقَوْمِ لاَ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ حَدِیْثاً۔
’’تو ان لوگوں کو کیا ہوا کہ کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے‘‘۔ ()
دوسری جگہ فرمایا، بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَھُوْنَ۔
’’اس لیے کہ وہ سمجھ نہیں رکھتے‘‘۔ ()
مزید ارشاد ہوا، لَوْ کَانُوْا یَفْقَھُوْنَ۔ ’’کسی طرح انہیں سمجھ ہوتی‘‘۔ ()
ان آیات سے ثابت ہو گیا کہ تفقہ یعنی دین کی سمجھ سے محروم ہونا عیب اور مذموم ہے اور قرآن میں ایسے لوگوں کو ملامت کی گئی ہے۔ اس کے برخلاف احکامِ دین کا علم وفہم حاصل کرنا اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اور رب کریم نے اسے نعمت قرار دیاہے۔
ارشاد ہوا، وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا۔
’’اور جس کو حکمت دی گئی اسے بہت بھلائی دی گئی‘‘۔ ()
مفسرین نے لکھا ہے کہ قرآن میں جہاں لفظ حکمت آیا ہے اس سے مراد علمِ فقہ ہے۔ ()
مفسرین کا اتفاق ہے کہ حکمت سے مراد(شرعی) احکام ہیں ۔ ()
دین کا علم و فہم اس قدر اہم ہے کہ رب تعالیٰ نے تفقہ فی الدین حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ارشاد ہوا،
فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِنْھُمْ طَائِفَۃٌ لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ… الخ۔پوری آیت کا ترجمہ یہ ہے،
’’اور مسلمانوں سے یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سب کے سب نکلیں تو کیوں نہ ہو کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور واپس آکر اپنی قوم کو ڈر سنائیں اس امید پر کہ وہ(گناہوں سے) بچیں ‘‘۔ ()
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں صدرُ الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ، ہر شخص کو عالم وفقیہ بننا ضروری نہیں البتہ جو چیزیں بندے پر فرض و واجب ہیں اور جو اس کے لیے ممنوع و حرام ہیں ، ان کا سیکھنا فرضِ عین ہے اور اس سے زائد علم حاصل کرنا فرضِ کفایہ ہے۔ حدیث شریف میں ہے، علم سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ()
Share:
keyboard_arrow_up