حقوق العباد:
اگر کوئی مسلمان بھائی بیمار ہو جائے تو مزاج پرسی کرو اور اگر کوئی آنا جانا چھوڑ دے تو تم نہ چھوڑو ۔اگر کوئی تم پر ظلم کرے تو صلہ رحمی سے پیش آؤ ۔ جو شخص تمہارے پاس آئے اس کی عزت کرو ۔اگر کسی نے تمھاری برائی کی تو درگزر کرو ۔جو شخص تمھارے بارے میں غلط مشہور کرے تم اس کے بارے میں اچھی بات کہو۔ اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کے حقوق پورے کر و۔ اگر کسی کو خوشی کا موقع میسر آئے تو اس مبارک دو،اگر کسی پر مصیبت پڑجائے تو اس کی غمخواری کرو ۔
اگر کسی پر آفت ٹوٹ پڑے تو اس کے غم میں شریک ہو اور اگروہ تم سے کام لینا چاہے تو کام کر دو ۔اگر کوئی فریادی ہو تو اس کی فریاد سن لو ،اگر کوئی مدد کا طالب ہو تو اس کی مدد کرو ،جہاں تک تم سے ہو سکے لوگوں کی مدد کرو۔ لوگوں سے محبت و شفقت کا اظہار کرو، سلام کو رواج دو خواہ وہ کمینوں کی جماعت ہی کیوں نہ ہو ۔
تعلیم و تربیت:
اگر مسجد میں تمھارے پاس کچھ لوگ بیٹھے مسائل پر گفتگو کر رہے ہیں تو ان سے اختلاف رائے نہ کرو ۔اگر تم سے کوئی بات پوچھی جائے تو پہلے وہ بتاؤجو لوگوں میں رائج ہو پھر بتاؤ کہ دوسرا قول بھی ہے اور وہ ایسے ہے اور اس کی دلیل یہ ہے۔ اس طرح ان کے دلوں میں تمھاری قدر و منزلت جاگزیں ہو جائے گی اور جو شخص تمھاری مخالفت کرے تو اسے کوئی ایسی راہ دکھا دو جس پر وہ غور کرے۔ لوگوں کو آسان باتیں بتایا کرو اور مشکل اور گہرے مسائل بیان نہ کیا کرو کہ کہیں وہ غلط مطلب نہ سمجھ لیں ۔
لوگوں سے لطف و مہربانی کا سلوک کیا کروبلکہ کبھی کبھی ان سے مذاق بھی کر لیا کرو کیونکہ تمھارا یہ عمل لوگوں میں تمھاری محبت پیدا کر دے گا۔ ہمیشہ علمی چرچا رکھو اور کبھی کبھی ان کی دعوت کر دیا کرو ،ان سے سخاوت سے پیش آؤ،چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے در گزر کر دیا کرو اور ان کی ضروریات کوبھی پورا کیا کر و ۔ بہتر یہی ہے کہ لطف و کرم اور چشم پوشی کو اپنا خاصا بنالو ۔
نہ تو کسی سے دل تنگ کرو اورنہ ہی ڈانٹ ڈپٹ سے پیش آؤ ۔ آپس میں گھل مل کر اس طرح رہو کہ گویا تم ایک ہی ہو۔ لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہواور ان کے لئے وہی چیزیں پسند کرو جو تمھیں پسندہیں ۔
تزکیۂ نفس:
نفس کی حفا ظت اور احوال کی دیکھ بھال کرو اورفتنہ وجھگڑے سے دور رہو ۔ اگر کوئی شخص تم سے بری طرح بات کرتا ہے تو اس سے اچھی طرح بات کرو اور اس کو جھڑکو نہیں ۔ اگر کوئی تمھاری باتیں غور سے سن رہا ہو تو تم بھی اس کی طرف کان لگالو۔ لوگوں کو ایسی چیزوں کا مکلف نہ بناؤ جس کی وہ تمہیں تکلیف نہیں دیتے۔ اخلاصِ نیت سے لوگوں کا خیر مقدم کرو اور سچائی کو لازم کرلو۔
غرور و تکبر کو اپنے سے دور رکھواور دھوکا بازی سے دور رہو خواہ لوگ تمہارے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتے ہوں ۔ امانت میں خیانت نہ کرو خواہ لوگ تمہارے ساتھ خیانت ہی کیوں نہ کر رہے ہوں ، وفا داری اور تقویٰ کو مضبوطی سے تھام لو ۔ اہل کتاب سے وہی تعلق او ر معاملہ رکھو جیسا وہ تمھارے ساتھ رکھتے ہوں ۔
پس اگر تم نے میری اس وصیت پر عمل کیا تو یقینا ہر آفت سے بچے رہو گے۔ دیکھو اس وقت میں دو کیفیتوں سے دو چار ہوں ۔ تم نظر سے دور ہو جاؤ گے اس کا تو غم ہے اور اس پر مسرت ہے کہ تم نیک و بد کو پہچان لو گے ۔
خط و کتابت جاری رکھنا اور اپنی ضرورتوں سے مطلع کرتے رہنا ۔تم میری اولاد ہو اور میں تمہارے لیے باپ کی طرح ہوں ۔()
وصلی اللہ علیٰ سیدنا محمد النبی الامی وعلیٰ الہ و صحبہٖ وسلم۔
باب ششم(6) فقہ کی فضیلت
Page 74 of 168

