Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 73 of 168
تعمیرانسانیت:
اس نکتہ کو خوب سمجھ لو کہ جب تم انسانی معاشرے کو برا سمجھو گے تولوگ تمہارے دشمن بن جائیں گے چاہے وہ تمہارے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں اور جب اس معاشرے کے ساتھ اچھا سلوک کرو گے تو یہ معاشرہ تمہیں عزیز رکھے گا اور اس کے افراد تمہارے ماں باپ بن جائیں گے ۔
پھر فرمایا، ذرا اطمینان سے مجھے چند باتیں کہنے دو میں تمہارے لئے ایسے امور کی نشان دہی کئے دیتا ہوں جن کا خود بخود شکریہ کے ساتھ اعتراف کرنے پر مجبور ہو گے۔ تھوڑی دیر بعد فرمایا، دیکھو گویا میں تمھارے ساتھ ہوں اور تم بصرہ پہنچ گئے ہو اور تم اپنے مخالفوں کی طرف متوجہ ہو گئے اپنے آپ کو ان پر فوقیت دینے لگے۔
تم نے اپنے علم کی وجہ سے خود کو ان پر بڑا ثابت کیا ان کے ساتھ میل جول کو بُرا سمجھا ان کے معاشرے سے جدا ہوئے اور ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے نتیجہ میں انھوں نے بھی تمہاری مخالفت کی ،تم نے انھیں چھوڑ دیا تو انھوں نے بھی تمہیں منہ نہیں لگایا، تم نے انھیں گالی دی ترکی بہ ترکی جواب ملا۔ تم نے انھیں گمراہ کہا تو انہوں نے بھی تمہیں بدعتی اور گمراہ قرار دیا اور یوں سب کا دامن آلودہ ہو گیا۔ اب تمہیں ضرورت ہوئی کہ تم ان سے کہیں دور بھاگ جاؤ اور یہ کھلی حماقت ہے۔ وہ شخص کبھی اچھی سوجھ بوجھ کا نہیں ہو سکتا کہ اسے کسی سے واسطہ پڑے اور وہ کو ئی راہ پیدا ہونے تک نباہ نہ کر سکے۔
معاشرتی حقوق:
جب تم بصرہ پہنچو گے تو لوگ تمھارا خیر مقدم کریں گے، تم سے ملنے کے لئے آئیں گے کیونکہ یہ ان کا معاشرتی فریضہ ہے اب تم ہر ایک کو اس کا مقام عطا کرو بزرگوں کو عزت دو ،علماء کی تعظیم کرو ،بو ڑھوں کی توقیر کرو، نو جوانوں سے نرمی کا برتاؤ کرو، عوام کے قریب رہو ،نیک و بد کے پاس اٹھنا بیٹھنا رکھو ۔بادشاہ وقت کی توہین نہ کرو ،کسی کو کم تر نہ سمجھو ،اپنی مروّت اور شرافت کو پسِ پشت نہ ڈالو ۔
اپنا راز کسی پر فاش نہ کرو ،بغیر پر کھے ہوئے کسی پر اعتماد نہ کر بیٹھو، خسیس الطبع اور کمینوں سے میل جول نہ رکھو ،اس شخص سے محبت کا اظہار نہ کرو جو تمھیں پسند نہ کرتا ہو ۔سنو کہ احمقوں سے مل کر خوشی کا اظہار نہ کرو اور ان کی دعوت قبول نہ کرو اور نہ ہی ان کا ہدیہ قبول کرو ۔
نرم گفتاری ،ضبط و تحمل ،حسن اخلاق ، کشادہ دلی اور اچھے لباس اور خوشبو کو اپنے لئے لازم رکھو ۔ سواریوں میں ہمیشہ اچھی سواری ہی استعمال کرو۔ حوائج ضروریہ کے لئے کوئی وقت مقرر کر لو تاکہ ہر کام آسانی سے کر سکو ۔ اپنے ساتھیوں سے سے غفلت نہ برتو، ان کی اصلاح کی سب سے پہلے فکر کرو مگر اس میں نرمی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دو ،نرم لہجہ میں گفتگو کرو ،عتاب و توبیخ سے بچو کہ اس سے نصیحت کرنے والا ذلیل ہوتا ہے ۔ انھیں اس بات کا موقع نہ دوکہ وہ تمہاری تادیب کریں ،ایساکرنے سے تمھارے حالات درست رہیں گے ۔
تعمیر سیرت :
نماز کی پابندی کرو اورسخاوت سے کام لو کیونکہ بخیل آدمی کبھی بھی سردار نہیں بن سکتا۔ اپنا ایک مشیر کار رکھ لو جو تمھیں لوگوں کے حالات سے مطلع کرتا رہے اور جب تمھیں کوئی خراب بات نظر آئے تو اس کی اصلاح کرنے میں جلدی کرو اور جب اصلاح پا جائے تو اپنی عنایت اور رغبت کو اور بڑھاؤ ۔ جو شخص تم سے ملے تم اس سے ملو اور اس سے بھی ملو جو نہ ملے۔ جوشخص تمہارے ساتھ نیک سلوک کرے تم اس کے ساتھ ایسا ہی کرو اور جو کوئی بدخلقی سے پیش آئے تو تم حسن اخلاق کا ثبوت دو اورعفو و کرم کو مضبوطی سے تھام لو ۔نیک کاموں کی طرف لوگوں کو متوجہ کرو اور جو تم سے بیزار ہو اس سے ترک تعلق کر لو۔ حقوق کی ادائیگی میں کوشاں رہو ۔
Share:
keyboard_arrow_up