Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 72 of 168
نیز درہموں کا وزن خود نہ کیا کرو بلکہ اس معاملہ میں بھی کسی با اعتماد شخص سے کام لو۔ اور متاعِ دنیا جس کی اہل علم کے نزدیک کوئی قدر نہیں ہے، اسے حقیر جانو کہ اﷲ کے پاس جو نعمتیں ہیں وہ دنیا سے بہتر ہیں ۔غرضیکہ اپنے دنیاوی معاملات کسی دوسرے شخص کے سپرد کر دو تاکہ تمہاری توجہ علم دین پر پوری طرح مر کوز رہے۔ یہ طرزِ عمل تمہاری ضروریات کی تکمیل کازیادہ محافظ ہے ۔
پاگلوں سے اور ان اہل علم سے جو حجت اور مناظرہ کے اسلوب سے بے بہرہ ہیں کلام نہ کرو ۔ اور وہ لوگ جوجاہ پرست ہیں اور لوگوں کے معاملات میں عجیب و غریب مسائل کا ذکر کرتے رہتے ہیں ، وہ تمھیں کسی طرح نیچا دکھانے کے خواہش مند ہوں گے اور اپنی انا کے مقابلہ میں وہ تمہاری کوئی پرواہ نہیں کریں گے اگرچہ وہ سمجھ لیں گے کہ تم حق پر ہو ۔
اور جب بھی کسی بڑے رتبہ والے کے پاس جاؤ تو ان پر برتری حا صل کرنے کی کوشش نہ کرنا جب تک کہ وہ خود تمھیں بلند جگہ نہ عطا کر دیں تا کہ ان کی طرف سے تم کو کوئی اذیت نہ پہنچے ۔کسی قوم میں نماز کی امامت کے لئے پیش قدمی نہ کرو جب تک کہ وہ خود تمھیں ازراہِ تعظیم مقدم نہ کریں ۔اور حمام میں دوپہر یا صبح کے وقت داخل نہ ہو اور سیر گاہوں میں بھی نہ جایا کرو(کہ وہ عوام کی جگہیں ہیں ) ۔
آدابِ مجلس:
سلاطین کے مظالم کے وقت وہا ں حاضرنہ رہا کرو سوائے اس کے کہ تمہیں یقین ہو کہ اگر تم ان کو ٹوکو گے تو وہ انصاف کریں گے۔ بصورتِ دیگر وہ تمہاری موجودگی میں کوئی نا جائز کام کریں گے اور بسا اوقات انھیں ٹوکنے کی تمہیں قدرت و ہمت نہ ہوگی تو لوگ تمھاری خاموشی کی بناء پر گمان کریں گے کہ سلاطین کا وہ ناجائزکام بر حق ہے۔
علمی مجلس میں غصہ سے اجتناب کرو۔ اور عام لوگوں کو قصّہ کہانیاں سنانے کا مشغلہ اختیار نہ کرو کہ قصّہ گو کو جھو ٹ بولے بغیر چارہ نہیں ۔ جب تم کسی اہل علم کے ساتھ علمی نشست کا ارادہ کرو اور وہ فقہی مجلس ہے تو اس میں بیٹھو اور وہاں ان باتوں کو بیان کرو جو مخاطب کے لئے تعلیم کا حکم رکھتی ہوں تاکہ تمہاری حاضر ی سے لوگوں کو یہ دھوکا نہ ہو کہ تمہارا ہم نشیں کوئی عالم ہے جب کہ وہ در حقیقت عالم نہ ہو۔ اور اگر وہ شخص فتویٰ سمجھنے کا اہل ہے تو فتویٰ بیان کرو ورنہ ضرورت نہیں ہے۔ اور اس مقصد کے لئے کہیں نہ بیٹھو کہ کوئی دوسرا شخص تمھاری موجودگی میں درس دیا کرے بلکہ اس کے پاس اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بٹھا دو تا کہ وہ تمھیں اس کی گفتگو کی کیفیت اور اور اس کے علم کے بارے میں بتا دے۔
ذکر کی مجالس میں یا اس شخص کی مجلسِ و عظ میں حاضری نہ دو جو تمہاری جاہ و منزلت یا تمہاری جانب سے اپنے تزکیہ نفس کی نسبت سے مجلس قائم کرے بلکہ ان کی جانب اپنے شاگرد وں میں سے کسی ایک شخص کی معیت میں اپنے اہل محلہ اور اپنے عوام کو جن پر تمھیں اعتماد ہے متوجہ کرو ( کہ وہ وہاں جایا کریں ) ۔ اور نکاح خوانی کا کام کسی خطیب کے حوالے کر دو اسی طرح نماز جنازہ اور عیدین کی امامت بھی کسی اور شخص کے حوالے کردو۔
( آخری بات یہ کہ ) ہمیں اپنی نیک دعاؤں میں فراموش نہ کرنا اور ان نصیحتوں کو میری جانب سے قبول کرو کہ یہ تمہارے اور دوسرے مسلمانوں کے فائدے کے لئے ہیں ۔
2۔ یوسف بن خالد سمتی رحمہ اللہ کے نام
یوسف بن خالد سمتی رحمہ اللہنے امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں رہ کرجب علم حاصل کرلیا تو اپنے شہر بصرہ کو واپس ہونے کا ارادہ کیا اور آپ سے اجازت چاہی تو امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا، میں تم سے چند باتیں کہنا چاہتا ہوں یہ باتیں تمہیں ہر جگہ کام دیں گی خواہ لوگوں کے ساتھ معاملات ہوں یا اہل علم کے مراتب کا سوال ہو، تا دیبِ نفس کا مرحلہ ہو یا سیاسی امور کا، خواص و عوام کی تربیت کامعاملہ ہو یا عام حالات کی تحقیق مقصود ہو غرض کہ یہ باتیں دینی اور دنیاوی زندگی کے ہر موڑ پر کام آئیں گی اور لوگوں کی اصلاح کاذریعہ ہوں گی ۔
Share:
keyboard_arrow_up