اس طرح جس شخص کے دین میں تم خلل دیکھو اسے بھی بیان کرو ، اور اس کے عزت و مرتبہ کی پرواہ نہ کرو۔ بلا شبہ اﷲ تعالیٰ تمھارا اور اپنے دین کا معین اور مددگار ہے ۔اگر تم ایک مرتبہ ایسا کر دو گے تو وہ لوگ تم سے ڈریں گے اور کوئی شخص دین میں نئے گمراہ کن افکار واعمال کے اظہار کی جسارت نہیں کرسکے گا۔
جب تم سلطانِ وقت سے خلافِ دین کوئی بات دیکھو تو اس کو اپنی اطاعت اور وفا داری کا یقین دلاتے ہوئے آگاہ کر دو ۔ یہ اظہارِ وفاداری اس وجہ سے ہے کہ اس کا ہاتھ تمہارے ہاتھ سے زیادہ قوی ہے۔چنانچہ تم اس طرح اظہارِ خیال کرو کہ جہاں تک آپ کے اقتدار اور غلبہ کا تعلق ہے میں آپ کا فرماں بردار ہوں بجز اس کے کہ میں آپ کی فلاں عادت کے سلسلہ میں جو دین کے مطابق نہیں ہے آپ کی توجہ مبذول کراتا ہوں ۔ اگر تم نے ایک بار سلطان وحاکم کے ساتھ اس جرأت سے کام لیا تو وہ تمھارے لئے کافی ہوگی ، اس لئے کہ تم اگر اس سے بار بار کہو گے تووہ شاید تم پر سختی کرے اور اس میں دین کی ذلت ہو گی ۔
اگر وہ ایک بار یا دو بار سختی سے پیش آئے اور تمھار ی دینی جد و جہد کا اورامر باالمعروف میں تمھاری رغبت کااندازہ کرے اوراس وجہ سے وہ دوسری مرتبہ خلافِ دین حرکت کرے تو اس سے اس کے گھر پر تنہائی میں ملاقات کرو اور دین کی رُو سے نصیحت کا فریضہ ادا کرو۔ اگر حاکمِ وقت مبتدع ہے تو اس سے دو بدو بحث کرو اگرچہ وہ سلطان ہے اور اس سلسلہ میں کتاب و سنّتِ رسول ﷺ میں سے جو تمھیں یا د ہو اسے یاد دلاؤ ۔ اگر وہ ان باتوں کو قبول کر لے تو ٹھیک ہے ورنہ اﷲ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ اس سے تمھاری حفاظت فرمائے۔
تم موت کو یاد رکھو اور اپنے ان اساتذہ کے لئے جن سے تم نے علم حاصل کیا ہے، استغفار کیاکرو اور قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو۔ قبرستان ، مشائخ اور بابرکت مقامات کی کثرت سے زیارت کیاکرو اورعام مسلمانوں کے ان خوابوں کو جو نبی کریم ﷺاور صالحین سے متعلق تمھیں سنائے جائیں ، خواہ مسجد ہو یا قبرستان یعنی ہر جگہ توجہ سے سنو اور نفس پرستوں میں سے کسی کے پاس نہ بیٹھو۔سوائے اس کے کہ کسی کو دین کی طرف بلانا ہو ۔ کھیل کود اور گالم گلوچ سے اجتناب کرو اور جب مؤذن اذان دے تو عوام سے قبل مسجد میں داخل ہو نے کی تیاری کرو تاکہ عام لوگ اس بات میں تم سے آگے نہ نکل جائیں ۔
سلطانِ وقت کے قرب جوار میں رہائش اختیار نہ کر و ۔اگر اپنے ہمسائے میں کوئی بُری بات دیکھو تو پوشیدہ رکھو کہ یہ بھی امانت داری ہے اور لوگوں کے بھید ظا ہر نہ کرو اور جو شخص تم سے کسی معاملہ میں مشورہ لے تو اس کو اپنے علم کے مطابق صحیح مشورہ دو کہ یہ بات تم کو اﷲ کے قریب کرنے والی ہے اور میری اس وصیّت کو اچھی طرح یاد رکھنا کہ یہ وصیّت تمہیں اِن شاء اللہ، دنیا اور آخرت میں نفع دے گی ۔
اخلاقِ حسنہ:
بخل سے اجتناب کرو کہ اس کی وجہ سے انسان دوسروں کی نظروں میں گر جاتا ہے ۔ لالچی اور دروغ گو نہ بنو ۔حق و باطل (یا مذاق و سنجیدگی ) کو آپس میں خلط ملط نہ کیا کرو بلکہ تمام امور میں اپنی غیرت و حمیّت کی حفاظت کرو۔ اور ہرحال میں سفید لباس زیب تن کرو ۔ اپنی طرف سے حرص سے دوری اور دنیا سے بے رغبتی ظاہر کرتے ہوئے دل کا غنی ہونا ظاہر کرو۔ اور اپنے آپ کو مال دار ظاہر کرو اور تنگ دستی ظاہر نہ ہونے دو اگر چہ فی الواقع تم تنگ دست ہو۔
با ہمت بنو اور جس شخص کی ہمت کم ہو گی اس کا درجہ بھی کم ہو گا اور راہ چلتے دائیں بائیں توجہ نہ کرو بلکہ ہمیشہ زمین کی جانب نظر رکھو اور جب تم حمام میں داخل ہو تو حمام اور نشست گاہ کی اجرت دوسرے لوگوں سے زیادہ دو تاکہ ان پر تمہاری اعلیٰ ہمتی ظاہر ہو اور وہ تمھیں باعظمت انسان خیال کریں ۔ اور اپنا سامانِ تجارت کاریگروں کے پاس جا کرخود ان کے حوالے نہ کیا کرو بلکہ اس کے لیے ایک با اعتماد ملازم رکھو جو یہ امور انجام دیا کرے اور درہم و دینار کی خرید و فروخت میں ذہانت سے کام لو یعنی لین دین میں چوکس رہو اور اپنے حق کے لئے کوشش کرو۔
Page 71 of 168

