Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 70 of 168
اگر وہ تم سے مسائل دریافت کریں تو ان سے مناظرہ یا جلسہ گاہوں میں بحث وتکرار سے باز رہو اور جو بات ان سے کرو، واضح دلیل کے ساتھ کرو۔ اور ان کے اساتذہ کو طعنہ نہ دو، ورنہ تمھارے اندر بھی کیڑے نکالیں گے ۔ تمہیں چاھیے کہ لوگوں سے ہوشیار رہواور اپنے باطنی احوال کو اﷲ تعالیٰ کے لیے ایسا خالص بنا لو جیسا کہ تمھارے ظاہری احوال ہیں ۔ اور علم کا معاملہ اصلا ح پذیر نہیں ہوتا تا وقتیکہ تم اس کے باطن کو اس کے ظاہر کے مطابق نہ بنا لو۔
آدابِ زندگی:
جب سلطانِ وقت تمہیں کوئی ایسا منصب دینا چاہے جو تمہارے لیے مناسب نہیں ہے تو اسے اس وقت تک قبول نہ کرو جب تک کہ تمہیں یہ معلوم نہ ہو جائے کہ اس نے جو منصب تمہیں سونپا ہے وہ محض تمہارے علم کی وجہ سے سونپا ہے ۔اور مجلس فکر و نظر میں ڈرتے ہوئے کلام مت کرو کیونکہ یہ خوفزدگی کلام میں اثر انداز ہو گی اور زبان کو نا کا رہ بنا دے گی ۔
زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرو کیونکہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنا دیتا ہے۔ چلنے کے دوران سکون و اطمینان سے چلو اور امورِ زندگی میں زیادہ عجلت پسند نہ بنو اور جو تمہیں پیچھے سے آواز دے اس کی آواز کا جواب مت دو کہ پیچھے سے آواز چوپایوں کو دی جاتی ہے۔ اور گفتگو کے وقت نہ چیخو اور نہ ہی اپنی آواز کوزیادہ بلند کرو۔ سکون اور قلتِ حرکت کو اپنی عادات میں شامل کرو تاکہ لوگو ں کو تمہاری ثابت قدمی کا یقین ہو جائے ۔
لوگوں کے سامنے اﷲ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ لوگ تم سے اس خوبی کوحاصل کر لیں ۔ اور اپنے لئے نماز کے بعد ایک وظیفہ مقرر کر لو جس میں تم قرآن کریم کی تلاوت کرواور اﷲتعالیٰ کا ذکر کرو۔ اور صبرو استقامت کی دولت جو رب کریم نے تم کو بخشی ہے اور دیگر جو نعمتیں عطا کی ہیں ،ان پر اس کا شکر ادا کرو اور اپنے لئے ہر ماہ کے چند ایام روزہ کے لئے مقرر کر لو تا کہ دوسرے لوگ اس میں بھی تمھاری پیروی کریں ۔
اپنے نفس کی دیکھ بھال رکھو اور دوسروں کے رویّہ پر بھی نظر رکھو تا کہ تم اپنے علم کے ذریعہ سے دنیا اور آخرت میں نفع اٹھاؤ ۔تمہیں چاہیے کہ بذاتِ خود خرید و فروخت مت کرو بلکہ اس کے لئے ایک ایسا خدمت گار رکھو جو تمھاری ایسی حاجتوں کو بحسن و خوبی پورا کرے اور تم اس پر اپنے دنیاوی معاملات میں اعتماد کرو۔ اپنے دنیاوی معاملات اور خود کو درپیش صورت حال کے بارے میں بے فکر مت رہوکیونکہ اﷲ تعالیٰ تم سے ان تما م چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا۔
سلطانِ وقت سے اپنے خصوصی تعلق کو لوگوں پر ظاہر نہ ہونے دو اگرچہ تمہیں اس کا قرب حاصل ہو ورنہ لوگ تمھارے سامنے اپنی حاجتیں پیش کریں گے اور اگر تم نے لوگوں کی حاجتوں کو اس کے دربار میں پیش کرنا شروع کر دیا تو وہ تمھیں تمھارے مقام سے گرا دے گا اور اگر تم نے ان کی حاجتوں کی تکمیل کے لیے کو شش نہ کی تو حا جت مند تمھیں الزام دیں گے ۔
آدابِ وعظ ونصیحت :
غلط باتوں میں لوگوں کی پیروی نہ کرو بلکہ صحیح باتوں میں ان کی پیروی کرو ۔جب تم کسی شخص میں بُرائی دیکھو تو اس شخص کا تذکرہ اس بُرائی کے ساتھ نہ کرو بلکہ اس سے بھلائی کی امید رکھو۔اور جب وہ بھلائی کرے تو اس کی اس بھلائی کا ذکر کرو۔البتہ اگر تمہیں اس کے دین میں خرابی معلوم ہو تو لوگوں کو اس سے ضرور آگاہ کر دو تاکہ لوگ اس کی اتباع نہ کریں اور اس سے دور رہیں ۔حضور ﷺ نے ہدایت فر مائی ہے کہ فاسق و فاجر آدمی جس برائی میں مبتلا ہے اسے بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں اگرچہ وہ شخص صاحبِ جا ہ ومنزلت ہو۔
Share:
keyboard_arrow_up