Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 69 of 168
(امورِ زندگی کی بہترین ترتیب یہ ہے کہ )پہلے علم حاصل کرو پھر حلال ذرائع سے مال جمع کرواور پھر ازدواجی رشتہ اختیار کرو ۔ علم حاصل کرنے کے زمانے میں اگر تم مال کمانے کی جد و جہد کرو گے تو تم حصولِ علم سے قاصر رہو گے ۔اور یہ مال تمہیں باندیوں اور غلاموں کی خریداری پر اکسائے گا اور تحصیلِ علم سے قبل ہی تمہیں دنیا کی لذتوں اور عورتوں کے ساتھ مشغول کر دے گا،اس طرح تمھارا وقت ضائع ہو جائے گا ۔ اورجب تمہارے اہل و عیال کی کثرت ہو جائے گی تو تمہیں ان کی ضروریات پوری کرنے کی فکر ہو جائے گی اور تم علم سیکھنا چھوڑدو گے ۔
اس لیے علم حاصل کرو آغازِ شباب میں جب کہ تمھارے دل و دماغ دنیا کے بکھیڑوں سے فارغ ہوں پھر مال کمانے کا مشغلہ اختیار کرو تا کہ شادی سے قبل تمہارے پاس بقدرِ ضرورت مال ہو کہ اس کے بغیر اہل و عیال کی ضروریات دل کو تشویش میں مبتلا کر دیتی ہیں لہٰذا کچھ مال جمع کرنے کے بعد ہی ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہئے۔
سیرت و کردار کی تعمیر:
اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو، ادائے امانت اور ہر خاص و عام کی خیر خواہی کا خصوصی خیال رکھو اور لوگوں کو عزّت دو تاکہ وہ تمھاری عزّت کریں ۔ان کی ملنساری سے پہلے ان سے زیادہ میل جول نہ رکھو اور ان سے میل جول میں مسائل کا تذکرہ بھی کروکہ اگر مخاطب اس کا اہل ہو گا تو جواب دے گا ۔اور عام لوگوں سے دینی امور کے ضمن میں علم کلام (عقائد کے عقلی دلائل) پر گفتگو سے پرہیز کرو کہ وہ لوگ تمہاری تقلید کریں گے اور علم کلام میں مشغول ہو جائیں گے۔
جو شخص تمھارے پاس استفتاء کے لئے آئے اس کو صرف اس کے سوال کا جواب دو اور دوسری کسی بات کا اضافہ نہ کرو ورنہ اس کے سوال کا غیر محتاط جواب تمھیں تشویش میں مبتلا کر سکتا ہے ۔ علم سکھانے سے کسی حالت میں اعراض نہ کرنا اگرچہ تم دس سال تک اس طرح رہو کہ تمھارا نہ کوئی ذریعۂ معاش ہو ،نہ کوئی اکتسابی طاقت ،کیونکہ اگر تم علم سے اعراض کرو گے تو تمھاری معیشت( گزربسر) تنگ ہو جائے گی ۔
تم اپنے ہر فقہ سیکھنے والے طالب علم پرایسی توجہ رکھو کہ گویا تم نے ان کو اپنا بیٹا اور اولاد بنا لیا ہے تا کہ تم ان میں علم کی رغبت کے فروغ کا باعث بنو۔اگر کوئی عام شخص اور بازاری آدمی تم سے جھگڑا کرے تو اس سے جھگڑا نہ کرنا ورنہ تمہاری عزت چلی جائے گی ۔اور اظہارِ حق کے موقع پر کسی شخص کی جاہ و حشمت کا خیا ل نہ کرو اگرچہ وہ سلطانِ وقت ہو۔
جتنی عبادت دوسرے لوگ کرتے ہیں اس سے زیادہ عبادت کرو، ان سے کمتر عبادت کو اپنے لئے پسند نہ کرو بلکہ عبادت میں سبقت اختیار کرو۔ کیونکہ عوام جب کسی عبادت کو بکثرت کر رہے ہوں اور پھر وہ دیکھیں کہ تمہاری توجہ اس عبادت پر نہیں ہے تو وہ تمھارے متعلق عبادت میں کم رغبت ہونے کا گمان کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ تمہارے علم نے تمھیں کوئی نفع نہیں پہنچایا سوائے اسی نفع کے جو اُن کو ان کی جہالت نے بخشا ہے جس میں وہ مبتلا ہیں ۔
معاشرتی آداب:
جب تم کسی ایسے شہر میں قیام کرو جس میں اہلِ علم بھی ہوں تو وہاں اپنی ذات کے لئے کسی امتیازی حیثیت کواختیا رنہ کرو ،بلکہ اس طرح رہو کہ گو یا تم بھی ایک عام سے شہری ہو، تاکہ ان کو یقین ہو جائے کہ تمہیں ان کی جا ہ و منزلت سے کوئی سر و کار نہیں ہے ورنہ اگر اُنہوں نے تم سے اپنی عزت کو خطرے میں محسوس کیا تو وہ سب تمہارے خلاف کام کریں گے اور تمہارے مسلک پر کیچڑ اُچھالیں گے اور( ان کی شہ پر )عوام بھی تمہارے خلاف ہوجائیں گے اور تمہیں بُری نظر سے دیکھیں گے جس کی وجہ سے تم ان کی نظروں میں کسی قصور کے بغیر مجرم بن جاؤ گے ۔
Share:
keyboard_arrow_up