Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 68 of 168
جب سلطانِ وقت تمھیں کوئی منصب عطا کرے تو اس وقت تک قبول نہ کرناجب تک یہ معلوم نہ ہو جائے کہ وہ تم سے یا تمھارے مسلک سے علم و قضایا کے بارے میں مطمئن ہے تاکہ فیصلوں میں کسی دوسرے مسلک پر عمل کی حاجت نہ ہو۔اور سلطان کے مقربین اور اس کے حاشیہ نشینوں سے میل جول مت رکھنا،صرف سلطانِ وقت سے رابطہ رکھنااور اس کے حاشیہ برداروں سے الگ رہناتاکہ تمھارا وقار اور عزت برقرار رہے ۔
عوام کے ساتھ محتاط طرزِ عمل:
عوام کے پوچھے گئے مسائل کے علاوہ ان سے بلاضرورت بات چیت نہ کیا کرو۔عوا م الناس اور تاجروں سے علمی باتوں کے علاوہ دوسری باتیں نہ کیا کروتاکہ ان کو تمھاری محبت و رغبت میں مال کا لالچ نظر نہ آئے ورنہ لوگ تم سے بدظن ہوں گے اور یقین کر لیں گے کہ تم ان سے رشوت لینے کا میلان رکھتے ہو۔ عام لوگوں کے سامنے ہنسنے اور زیادہ مسکرانے سے باز رہواور بازار میں بکثرت جایا نہ کرو۔بے ریش لڑکو ں سے زیادہ بات چیت نہ کیا کرو کہ وہ فتنہ ہیں البتّہ چھوٹے بچوں سے بات کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ان کے سروں پر شفقت سے ہاتھ پھیرا کرو۔
عام لوگوں اوربوڑھے لوگوں کے ساتھ شاہراہ پر نہ چلو،اس لئے کہ اگر تم ان کو آگے بڑھنے دو گے تو اس سے علم دین کی بے توقیری ظاہر ہو گی اور اگر تم ان سے آگے چلو گے تو یہ بات بھی معیوب ہو گی کہ وہ عمر میں تم سے بڑے ہیں ۔حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ’’ جو شخص چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بزرگوں کی عزت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔
کسی راہ گذر پر نہ بیٹھا کرو اور اگر بیٹھنے کا دل چاہے تو مسجد میں بیٹھا کرو۔بازار وں اور مساجد میں کوئی چیز نہ کھایا کرو۔پانی کی سبیل اور وہاں پانی پلانے والوں کے ہاتھ سے پانی نہ پیو۔مخمل ،زیور اور انواع و اقسام کے ریشمی ملبوسات نہ پہنو کہ اس سے غرور پیدا ہوتا ہے اور رعونت جھلکتی ہے ۔
ازدواجی آداب:
اپنی فطری حاجت کے وقت بقدرِ ضرورت گفتگوکے سوا بستر پر اپنی بیوی سے زیادہ بات نہ کرو۔ اور اس کے ساتھ کثرت سے لمس ومَس اختیار نہ کرو، اور جب بھی اس کے پاس جاؤ تو اﷲ کے ذکر کے ساتھ جاؤ ۔اور اپنی بیوی سے دوسروں کی عورتوں کے بارے میں بات نہ کیا کروکہ وہ تم سے بے تکلف ہو جائیں گی اور بہت ممکن ہے کہ جب تم دوسری عورتوں کاذکرکرو گے تو وہ تم سے دوسرے مردوں کے متعلق بات کریں گی۔
اگر تمارے لئے ممکن ہو تو کسی ایسی عورت سے نکاح نہ کرو جس کے شوہر نے اس کو طلاق دی ہو اور باپ ،ماں یا سابقہ خاوند سے لڑکی موجود ہو۔لیکن صرف اس شرط پر کہ تمھارے گھر اس کا کوئی رشتہ دار نہیں آئے گا۔ اس لئے کہ جب عورت مال دار ہو جاتی ہے تو اس کا باپ دعویٰ کرتا ہے کہ اس عورت کے پاس جو بھی مال ہے وہ سب اس کا ہے اور اس عورت کے پاس امانت کے طور پر رکھا ہے ۔اور دوسری شرط یہ رکھے کہ جہاں تک ممکن ہو گا وہ بھی اپنے والد کے گھر نہیں جائے گی ۔
اور نکاح کے بعد تم اس بات پر راضی نہ ہو جانا کہ تم شبِ زفاف سسرال میں گزارو گے ورنہ وہ لوگ تمھارا مال لے لیں گے اور اپنی بیٹی کے سلسلہ میں انتہائی لالچ سے کام لیں گے ۔اور صاحبِ اولاد خاتون سے شادی نہ کرنا کہ وہ تمام مال اپنی اولاد کے لئے جمع کرے گی اور ان پر ہی خرچ کرے گی اس لئے کہ اس کو اپنی اولاد تمھاری اولاد سے زیادہ پیاری ہو گی۔ تم اپنی دو بیویوں کو ایک ہی مکان میں نہ رکھنا ، اورجب تک دو بیویوں کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کی قدرت نہ ہو، دوسرا نکاح نہ کرنا ۔
امورِزندگی کی ترتیب:
Share:
keyboard_arrow_up