اﷲ تعالیٰ نے جو علم تمہیں عطا فرمایا اس علم کو محکوم ہونے کی ذلت سے بچانا۔ جب تم میں سے کوئی قاضی بن جائے تو لوگوں کے مسائل حل کرے ان کا حاکم نہ بنے۔ لوگوں کو انصاف مہیا کرنا اور اگر کوئی خرابی محسوس ہو تو فوراً منصب قضاۃ سے علیحدہ ہوجانا، تنخواہ اور دولت کے لالچ میں اس سے چمٹے نہ رہنا ۔ ہاں اگر ظاہر و باطن ایک ہوں تو پھر قضاۃ کے منصب پر قائم رہ کو خلقِ خدا کی امداد کرنا۔
ایسے لوگ جو امورِ دنیا سے علیحدہ ہو کر محض اﷲ کی رضا کے لیے یہ عہدہ قبول کرتے ہیں ان کے لیے تنخوا ہ حلال ہے ۔ اگر تم قاضی بن جاؤ تو لوگوں کے سامنے پردے نہ لگا دینا کہ وہ تمہیں مل نہ سکیں ۔ ان کے لیے اپنی ز جامع مسجد میں ادا کرنا اور نماز کے بعد اعلان کرنا ، جسے انصاف کی ضرورت ہو اس کے لیے عدالت کے دروازے کھلے ہیں ۔ عشاء کے بعد تین بار یہ اعلان کرنا ۔ اگر بیمار ہو جاؤ اور عدالت میں نہ جاسکو تو اتنے دنوں کی تنخواہ نہ لینا ۔ یاد رکھو انصاف نہ کرنے والے قاضی کی امامت باطل ہوتی ہے۔ ایسے قاضی کا فیصلہ بھی درست نہیں ۔ اگر کوئی گناہ یا جرم کرے تو قاضی کا فرض ہے کہ اس کو روکے یا سزا دے۔ ()
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے اپنے خاص شاگردوں امام ابو یوسف رحمہ اللہ اورامام یوسف بن خالد سمتی رحمہ اللہ کے نام جو وصایا تحریر فرمائے وہ بلاشبہ نہ صرف امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے ایک مشفق باپ، مہربان استاد، عظیم دانشور اور ماہرِ نفسیات ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں بلکہ آپ کے عمر بھر کے تجربات کا نچوڑ ، اسلامی تعلیمات کا عطر اور دینی و دنیاوی امور میں فلاح اور کامیابی کی ضمانت ہیں ۔ مزید یہ کہ یہ نصیحتیں خواص و عوام دونوں کے لیے یکساں نصیحت آموز ہیں ۔یہ دونوں وصایا پیشِ خدمت ہیں :
1۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نام:
امام ابویوسف رحمہ اللہکے نام امامِ اعظم رضی اﷲ عنہکی وصیّت جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہکی ذات سے رشد و ہدایت اور حسنِ سیرت و کردار کے آثار ظاہر ہوئے اوروہ لوگوں سے معاملات کی جانب متوجہ ہوئے۔امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے انھیں یہ وصیّت فرمائی کہ اے یعقوب ! ! !
حاکم کے ساتھ محتاط طرزِ عمل:
سلطانِ وقت کی عزت کرواور اس کے مقام کا خیال رکھو۔اور اس کے سامنے دروغ گوئی سے خاص طورسے پرہیز کرو۔اور ہر وقت اس کے پاس حاضر نہ رہوجب تک کہ تمہیں کوئی علمی ضرورت مجبور نہ کرے۔ کیونکہ جب تم اس سے کثرت سے ملو گے تو وہ تمہیں حقارت کی نظر سے دیکھے گااور تمھارامقام اس کی نظروں سے گر جائے گا۔پس تم ا سکے ساتھ ایسا معاملہ رکھو جیسا کہ آگ کے ساتھ رکھتے ہوکہ تم اس سے نفع بھی اٹھاتے ہو اور دور بھی رہتے ہو،اس کے قریب تک نہیں جاتے کیونکہ اکثر حاکم اپنی ذات اور اپنے مفادات کے علاوہ کچھ اور دیکھنا پسند نہیں کرتے۔
تم حاکم کے قریب کثرتِ کلام سے بچو کہ وہ تمہاری گرفت کرے گا تاکہ اپنے حاشیہ نشینوں کو یہ دکھلا سکے کہ وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔اور تمھارا محاسبہ کرے گا تاکہ تم اس کے حواریوں کی نظروں میں حقیر ہو جاؤ۔بلکہ ایسا طرز عمل اختیار کرو جب اس کے دربار میں جاؤ تو وہ دوسروں کے مقابلے میں تمہارے رتبہ کا خیال رکھے۔اور سلطان کے دربار میں کسی ایسے وقت نہ جاؤ جب وہاں دیگر ایسے اہل علم موجود ہوں جن کو تم جانتے نہ ہو۔اس لئے کہ اگر تمھارا علمی رتبہ ان سے کم ہو گاتو ممکن ہے کہ تم ان پربرتری ثابت کرنے کی کوشش کرومگر یہ جذبہ تمھارے لئے نقصان دہ ہو گا۔اگر تم ان سے زیادہ صاحبِ علم ہو تو شاید تم ان کوکسی بات پر جھڑک دو اور اس وجہ سے تم حاکمِ وقت کی نظروں سے گر جاؤ۔
Page 67 of 168

