Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 66 of 168
صالح بن خلیل رحمہ اللہفرماتے ہیں ، مجھے خواب میں نبی کریم ﷺ کی زیارت ہوئی ، دیکھا کہ آپ کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہیں اسی اثناء میں امام ابوحنیفہرضی اللہ عنہ حاضر ہوئے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر آپ کی تعظیم کی اور حضور ﷺ اس منظر کو دیکھ کر بہت خوش ہورہے تھے۔ ()
اسی طرح ایک اور شخص نے خواب میں دیکھا کہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ ایک تخت پر جلوہ فرماہیں اور آپ ایک بہت بڑے رجسٹر میں بعض لوگوں کے نام اور ان کے لیے انعامات لکھتے جارہے ہیں ۔اس شخص نے پوچھا ، اﷲ تعالیٰ نے آپ سے کیا معاملہ کیا اور یہ رجسٹر کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا ، اﷲ تعالیٰ نے میرے عمل اور مذہب کو قبولیت عطافرمائی اور مجھے بخش دیا ، پھر امت مصطفوی ﷺ کی لیے میری دعائیں اور شفاعت بھی قبول فرمائی۔ پوچھا گیا ، آپ کتنے علم والے کے نام لکھ رہے ہیں ؟ فرمایا ، جسے اتنا بھی علم ہو کہ راکھ سے تیمم ناجائز ہے تو اس کا نام بھی لکھ لیتا ہوں ۔ ()
سیدنا علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ، حضرت معاذ الرازی رحمہ اللہکہتے ہیں کہ میں نے خواب میں حضور ﷺ کا دیدار کیا اور عرض کی، یا رسول اللہ ﷺ ! میں آپ کو کہاں تلاش کروں ؟ آپ نے فرمایا، عند علم ابی حنیفۃ ۔ ’’ابوحنیفہ کے علم میں ‘‘۔پنا واقعہ تحریر کرتے ہیں کہ میں ایک بار حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے مزار کے پاس سو رہا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ مکرمہ میں ہوں اور حضور ﷺ بابِ شیبہ سے تشریف لائے اور ایک بوڑھے آدمی کو اس طرح گود میں لیے ہوئے تھے جیسے والدین چھوٹے بچوں کو سینے سے چمٹا لیتے ہیں ۔ میں نے آگے بڑھ کر قدم بوسی کی اور میں حیران تھا کہ یہ خوش نصیب معمر شخص کون ہے جسے سرکارِ دوعالم ﷺ نے اپنے سینۂ مبارک سے لگایا ہوا ہے۔
حضور ﷺ نے میرے دل کی بات سمجھ لی اور فرمایا، ’’یہ مسلمانوں کا امام ہے اور تیرے دیار کا رہنے والا ابوحنیفہ ہے‘‘۔ ()
یہ بات غور طلب ہے کہ کوئی بڑا آدمی اگر آگے چل رہا ہو اور بچہ اس کے پیچھے چلے تو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ بچہ گر نہ جائے۔ یونہی کوئی بچہ اگر کسی بڑے کی انگلی پکڑ کر چلے تو بھی گرنے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ داتا صاحب رحمہ اللہنے یہ نہیں دیکھا کہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ آقا ومولیٰ ﷺ کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں اور نہ ہی یہ دیکھا کہ وہ آقا کریم ﷺ کی انگلی پکڑ کر چل رہے ہیں بلکہ یہ دیکھا کہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ خود نہیں چل رہے بلکہ مصطفیٰ کریمﷺ انہیں گود میں لے کر چلا رہے ہیں اس لیے ان کی فقہ میں خطا نہیں ہے۔ حضرت داتا صاحبقدس سرہ فرماتے ہیں ،
’’رسول کریم ﷺ سہو وخطا سے بالاتر ہیں اور یہ ناممکن ہے کہ جسے ان کا سہارا نصیب ہو، وہ سہو وخطا کا مرتکب ہو سکے‘‘۔() سبحان اللہ!


باب پنجم(5) وصایا اور نصیحتیں
سیدناامامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ نے اپنے شاگردوں کو چند نصیحتیں فرمائیں جو ظاہری اصلاح اور باطنی تربیّت میں بنیادی اور اہم حیثیت کی حامل ہیں ۔ آپ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا،
’’ تم سب میرے دل کا سرور اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہو اور میرا حزن و ملال دور کرنے والے ہو ۔میں نے تمہارے لیے فقہ کی سواری تیار کی ، اس کی زین کس دی اور اس کی لگام تمہارے ہاتھ میں پکڑا دی ۔ ایک وقت آنے والا ہے کہ بڑے بڑے اہل علم تمہارے فیصلے سنا کریں گے اور تمہارے نقش قدم پر چلیں گے۔ تم میں سے ہر ایک قاضی بننے کی صلاحیّت رکھتا ہے ۔ میں تم کو اﷲ تعالیٰ کا واسطہ دیکر چند نصیحتیں کرنا چاہتا ہوں ۔
Share:
keyboard_arrow_up