علامہ ابن حجر شافعی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں ،
آپ کے بعض اصحاب نے خواب میں دیکھا کہ لوگ آپ کی طرف متوجہ ہیں اور آپ جو فرماتے ہیں کوئی اس کا انکار نہیں کرتا۔ پھر آپ نے بہت سی مٹی لے کر چاروں سمت میں پھینک دی۔امام ابن سیرین رحمہ اللّٰہ نے اس خواب کی تعبیر یہ دی کہ یہ شخص فقیہ یا عالم ہے اور یہ احادیث رسول ﷺ سے وہ علوم و معارف ظاہر کرے گا جو لوگوں نے ظاہر نہ کیے اور اس کے نام کی شہرت مشرق و مغرب بلکہ تمام دنیا میں ہو گی۔
ازہر بن کیسان رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، میں نے خواب میں سرکار دو عالم ﷺ اور ابوبکر و عمر رضی ﷲ عنہما کا دیدار کیا تو حضراتِ شیخین سے عرض کی، میں آقا کریم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں ۔انھوں نے فرمایا، پوچھو مگر آواز بلند نہ ہونے پائے ۔ میں نے امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے علم کے بارے میں دریافت کیا کیونکہ میں ان کے متعلق اچھا خیا ل نہ رکھتا تھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ’’ان کا علم حضرت خضر علیہ السلام کے علم سے ہے‘‘۔ اور میں نے یہ خواب بھی دیکھا کہ آسمان سے تین ستارے پے در پے زمین پر گرے اور ابوحنیفہ، مسعر بن کدام اور سفیان ثوری بن گئے۔ (رحمہم اللّٰہ) یہ خواب محمد بن مقاتل رحمہ اللّٰہ سے بیان کیا تو وہ رونے لگے اور فرمایا، ’’واقعی یہ علماء دین کے ستارے ہیں ‘‘۔
فضل بن خالد رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں کہ:
میں نے خواب میں رسول کریم ﷺ کی زیارت کی تو عرض کیا ، میرے آقا ! آپ ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے علم کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا، ’’یہ ایسا علم ہے کہ جس کی لوگوں کو ضرورت ہے‘‘۔
مسددبن عبدالرحمٰن بصری رحمہ اللّٰہ سے روایت ہے کہ میں مکّہ میں رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان فجر سے پہلے سوگیا تو خواب میں رسول ﷲ ﷺ کی زیارت ہوئی۔ میں نے عرض کی ،یا رسول ﷲ ﷺ ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو کوفہ میں ہے اور جس کا نام نعمان بن ثابت ہے۔ کیا میں اس سے علم حاصل کروں ؟ تو آپ نے فرمایا، ’’ ہاں !ان سے علم حاصل کرو۔ وہ 0بہت اچھے فقیہ ہیں ‘‘۔ تو میں خدا سے مغفرت کی دعا مانگتے ہوئے بیدار ہوا کیونکہ میں نعمان رحمہ اللّٰہ کو بہت برا سمجھتا تھا ۔ اس کے بعد وہ مجھے محبوب ہو گئے ‘‘۔
یہ تو ان خوابوں کا بیان تھا جو امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے وصال سے قبل دیکھے گئے۔ اب وہ خواب بیان کیے جاتے ہیں جو آپ کے وصال کے بعد دیکھے گئے۔
حضرت حفص بن غیاث رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، ’’امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے وصال کے بعد میں نے آپ کو خواب میں دیکھا تو پوچھا، ﷲ تعالیٰ نے آپ سے کیا معاملہ کیا ، فرمایا، مجھے بخش دیا گیا ۔ میں نے پوچھا ، آپ کے قیاس کا کیا بنا ؟ فرمایا، میرا قیاس عبدﷲ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ جیسا نکلا ‘‘۔
مقاتل بن سلیمان رحمہ اللّٰہ تفسیر کے امام تھے۔ ان کی مجلس میں ایک شخص نے اٹھ کر پہلے لوگوں سے اپنے نیک ہونے کی گواہی لی اور پھر یہ خواب بیان کیا ، کہ میں نے دیکھا، ’’ایک شخص سفید پوشاک پہنے آسمان سے بغداد کے سب سے اونچے مینار پر اتر رہا ہے اور پھر سارے شہر میں اعلان ہوتا ہے لوگو آؤ زیارت کرو‘‘۔ مقاتل رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ’’ اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آج دنیائے اسلام کا کوئی بہت بڑا عالم رخصت ہو گیا ہوگا۔ صبح ہوئی تو معلوم ہوا کہ گذشتہ روز امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کا وصال ہوگیا ہے۔ یہ سن کر مقاتل رحمہ اللّٰہ خوب روئے اور فرمایا ،آج وہ رخصت ہو گیا جو امتِ مصطفیٰ ﷺ کی مشکلات آسان کیا کرتا تھا‘‘۔

