علامہ موفق رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں ،
آپ کے جنازے پر اس قدر لوگ آئے کہ آپ کی نمازِ جنازہ چھ بار پڑھی گئی۔ آخری مرتبہ آپکے بیٹے حضرت حماد بن نعمان رحمہما اللّٰہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی اور تقریباً 20 دن تک آپ کی قبر انور پر نماز ہوتی رہی۔ آپ کی وصیت تھی کہ چونکہ خلیفہ کے محلات کے ارد گرد لوگوں کی غصب شدہ زمین ہے اس لئے مجھے مقبرہ خیزراں کی وقف شدہ زمین میں دفن کیا جائے، چنانچہ آپ کو وہاں دفن کیا گیا۔ خلیفہ منصور نے احساسِ ندامت کم کرنے کے لیے بیس دن گزرنے کے بعد آپ کے مزار پر آکر نمازِ جنازہ ادا کی۔ جب اسے بتایا گیا کہ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کو ان کی اس وصیت کے پیشِ نظر مقبرہ خیزراں میں دفن کیا گیا ہے تو منصور نے کہا، ابوحنیفہ! ﷲ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے تونے زندگی میں بھی مجھے شکست دی اور موت کے بعد بھی مجھے شرمندہ کیا ہے۔
جب آپ کے وصال کی خبر ابنِ جریج رحمۃ اللّٰہ علیہ، فقیہ مکہ کو پہنچی جو امام شافعی رحمہ اللّٰہ کے استاذالاستاذ تھے تو انھوں نے انا للّٰہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور فرمایا، ’’ کوفہ سے علم کا نور بجھ گیا اور اب ان کی مثل وہ کبھی نہ دیکھیں گے‘‘۔
۴۵۹ ھ میں سلطان الپ ارسلان سلجوقی نے آپ کے مزار پر ایک عظیم الشان قبہ بنوایا اور ایک مدرسہ بھی۔
صدقۃ المغابری رحمہ اللّٰہ(جن کی دعا قبول ہوتی تھی) فرماتے ہیں کہ امام ، ’’فقیہ چلا گیا اب تمہارے لیے فقہ نہیں ،تو ﷲ تعالیٰ سے ڈرو اور ان کے جانشیں بنو۔ نعمان کا وصال ہو گیا ، اب کون ہے جو شب کو بیدار ہو جب وہ پردے پھیلا دے‘‘۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس رات آپ کا وصال ہوا اس رات آپ پر جنّات روئے ۔
جب حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ آپ کی قبر مبارک پر آئے تو فرمایا، ’’اللّٰہ آپ پر رحم کرے، حضرت ابراھیم نخعی اور امام حماد رحمہما اللّٰہ کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنا نائب چھوڑا مگر آپ نے اپنے وصال کے بعد روئے زمین پر اپنا نائب نہ چھوڑا‘‘۔ پھر بہت روئے۔
مزار کی برکتیں :
امام ابن حجر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،
’’جاننا چاہیے کہ علماء اور دیگر حاجت مند آپ کی قبر کی مسلسل زیارت کرتے رہتے ہیں اور آپ کے پاس آ کر اپنی حاجات کے لیے آپ کو وسیلہ بناتے ہیں اور اس میں کامیابی پاتے ہیں ان میں امام شافعی رحمہ اللّٰہ بھی ہیں ۔ آپ کا ارشاد ہے، میں امام ابوحنیفہ سے تبرک حاصل کرتا ہوں اور جب کوئی حاجت پیش آتی ہے تو میں دو رکعت پڑھ کر ان کی قبر پر آتا ہوں اور وہاں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں تو وہ حاجت جلد پوری ہو جاتی ہے‘‘۔
اچھے خواب:
حدیث پاک ہے، ’’ اچھے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں ‘‘۔
کسی کی بزرگی، عظمت اور فضیلت بیان کرنے کے لیے اچھے خواب بیان کرنا اچھا فعل ہے۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے،
’’جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا ‘‘۔
ابن رجب رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں،’’حضور ﷺ نے خواب یا بیداری میں کچھ فرما یا، وہ حق ہے‘‘۔
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ آپ نے خواب میں سو مرتبہ ﷲ تعا لیٰ جل جلالہٗ کا دیدار کیا ۔
پہلے مذکور ہو چکا ہے کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے خواب میں دیکھا کہ وہ رسول کریم ﷺ کی قبر مبارک کھول رہے ہیں ۔ اس کی تعبیر امام ابن سیرین رضی اللّٰہ عنہ نے یہ دی کہ آپ حضور ﷺ کی احادیث میں سے وہ علوم پھیلائیں گے جو آپ سے قبل کسی نے نہ پھیلائے ہوں گے اور آپ کو سنتِ نبوی محفوظ کرنے میں بلند مقام حاصل ہو گا۔

