Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 63 of 167

آپ کا وصال: خلیفہ منصور نے آپ کو چیف جسٹس (قاضی القضاۃ) کے عہدہ کے لیے بغداد بلایا اور یہ لالچ دیا کہ دنیائے اسلام کے تمام قاضی آپ کے ماتحت ہوں گے۔ لیکن آپ نے انکار کردیا۔ جس کی پاداش میں آپ کو قید کردیا گیا۔ وہ روز آپ کو پیغام بھیجتا کہ اگر رہائی چاہتے ہو یہ عہدہ قبول کرلو لیکن آپ ہر بار انکار کردیتے، اُدھر اس کے درباری خلیفہ کو بھڑکا تے کہ یہ تو آپ کی سخت توہین ہے۔ چنانچہ اس نے حکم دیا کہ آپ کو روزانہ قید سے نکال کر دس کوڑے لگائے جائیں اور اس کا بازاروں میں اعلان کیا جائے، چنانچہ آپ کو دردناک طریقہ سے مارا گیا یہاں تک کہ خون بہہ کر آپ کی ایڑیوں پر گرنے لگا۔ اس طرح دس دن تک آپ کو روزانہ دس کوڑے مارے گئے۔ پھر خلیفہ نے حکم دیا کہ آپ کے سر پر کوڑے مارے جائیں ۔ اس بدترین ظلم و ستم کے باوجود آپ کے پا ئے استقلال میں کوئی جنبش نہ آئی تو خلیفہ کے حکم سے آپ کو جیل میں زہر دےدیا گیا۔ اس طرح ظاہری اور خفیہ طور پر آپ کی شہادت واقع ہوئی۔

صحیح سند سے مروی ہے کہ جب آپ کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو آپ سربسجود ہو گئے اور سجدے کی حالت میں آپ کی شہادت ہوئی۔

علامہ ابن حجر رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں ،

’’محض قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول نہ کرنے کی وجہ سے خلیفہ آپ کو اس ظالمانہ طریقے سے شہید نہیں کراسکتا تھا دراصل آپ کے بعض دشمنوں نے خلیفہ سے خفیہ طور پر کہا کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے ہی حضرت ابراہیم بن عبدﷲ بن حسن بن حسن بن علی رضی ﷲ عنہم کو خلافتِ عباسیہ سے بغاوت پر اکسایا تھا ( انہوں نے بصرہ میں عباسی خلیفہ کے خلاف عَلمِ جہاد بلند کیا تھا ) اور ان کی مالی مدد بھی کی تھی۔ اس بات سے خلیفہ منصور بہت ڈرا کیونکہ آپ عزت و و جاہت والے اور مالدار تاجر تھے۔ چنانچہ اس نے آپ سے عہدۂ قضا قبول کر نے کو کہا جبکہ اسے علم تھا کہ آپ ایسا ہرگز نہ کریں گے۔ اس نے صرف اس لیے ایسا کہا تاکہ یہ آپ کے قتل کا بہانہ بن جائے۔امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا وصال ماہ رجب یا شعبان میں ۱۵۰ ھ میں ہوا۔

علامہ موفق رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں، حضرت حسن بن عبدﷲ بن زبیر رضیﷲ عنہم فرماتے ہیں کہ:

میں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کو دیکھا کہ آپ حضرت محمد بن عبدﷲ بن حسن رضی ﷲ عنہم کا نام لے کر روتے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے تھے۔ آپ اہلِ بیت کی محبت سے سرشار تھے اور خلافتِ عباسیہ کو غلط سمجھتے تھے‘‘۔

عبداﷲ بن واقد رحمہ اللّٰہ (اہلِ ہرات کے امام) فرماتے ہیں،

’’امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کو حسن بن عمارہ رحمہ اللّٰہ نے غسل دیا اور میں نے بدنِ مبارک پر پانی ڈالنے کا شرف حاصل کیا۔‘‘ جب امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کا جنازہ اٹھایا  گیا تو بغداد میں لوگوں کا سمندر موجزن تھا جن میں اکثر دھاڑیں مار مار کر رورہے تھے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ رحمۃ القوی فرماتے ہیں ،

امامِ اعظم کے ولی صاحبزادۂ جلیل حضرت سیدنا حماد بن ابی حنیفہ رحمہ اللّٰہ تھے۔ جب انہوں نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی تو پھر کسی نے نہ پڑھی۔

امام ابن حجر مکی رحمہ اللّٰہ الخیرات الحسان میں فرماتے ہیں ، امامِ اعظم کے غسل سے فارغ ہونے تک بغداد میں اس قدر خلقت جمع ہو گئی کہ جس کا شمار خدا ہی جانتا ہے گویا کسی نے انتقالِ امام کی خبر پکار دی تھی۔ نماز پڑھنے والوں کا اندازہ کیا گیا تو کوئی کہتا ، پچاس ہزار تھے اور کوئی کہتا کہ اس سے بھی زیادہ تھے۔ ان کی  چھ بار نماز ہوئی اور آخری مرتبہ صاحبزادۂ امام حضرت حمادرحمہ اللّٰہ نے پڑھی۔

Share:
keyboard_arrow_up