Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 167

Page 62 of 167

مدت بعد ایک دن خلیفہ ہارون رشید کے دسترخوان پر فالودہ پیش ہوا۔ خلیفہ نے امام ابویوسف رحمہ اللّٰہ کی خدمت میں پیش کیا۔ پوچھا، یہ کیا ہے؟ خلیفہ نے کہا، فالودہ اور روغنِ پستہ۔ یہ سن کر آپ ہنس پڑے۔ خلیفہ نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو مذکورہ واقعہ بیان فرمایا۔ خلیفہ نے کہا، علم دین ودنیامیں عزت دیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ امام ابوحنیفہ پر رحمت فرمائے، وہ باطن کی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھتے تھے جو ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔

حدیث ِ مبارکہ ہے، ’’مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللّٰہ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘۔ آپ نے ایک بار اپنی فراست سے امام داؤد طائی سے فرمایا، تم عبادت کے ہی ہو رہو گے، امام ابویوسف سے فرمایا، تم دنیا کی طرف مائل ہو گے (یعنی دنیاوی منصب قبول کرو گے اور مالدار ہو جاؤ گے)، اسی طرح امام زُفُر وغیرہ کی نسبت بھی مختلف رائے ظاہر کی۔ آپ نے جس کے متعلق جو فرمایا تھا وہ پورا ہوا۔ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ

امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے کشف و مشاہدہ کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ رقم طراز ہیں:

’’عارفِ ربانی امام شعرانی رحمہ اللّٰہ نے میزان الشریعۃ الکبریٰ میں فرمایا کہ میں نے سیدی علی خواص شافعی رحمہ اللّٰہ (جو اکابر اولیاء میں سے تھے) کو فرماتے سنا ہے کہ’’ امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کے مشاہدات اتنے دقیق ہیں جن پر بڑے بڑے صاحبانِ کشف، اولیاء اللّٰہ ہی مطلع ہو سکتے ہیں ‘‘۔

آپ فرماتے ہیں کہ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ جب وضو میں استعمال شدہ پانی دیکھتے تو اس میں جتنے صغائر وکبائر و مکروہات ہوتے ان کو پہچان لیتے تھے۔ اس لیے جس پانی کو مکلف نے استعمال کیا ہو، آپ نے اس کے تین درجات مقرر فرمائے۔

اول: وہ نجاستِ مغلظہ ہے کیونکہ اس امر کا احتمال ہے کہ مکلف نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہو۔

دوم: وہ نجاستِ متوسطہ ہے کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ اس نے صغیرہ کا ارتکاب کیا ہو۔

سوم: وہ طاہر غیر مطہرہے، کیو نکہ اس بات کا احتمال ہے کہ اس نے مکروہ کا ارتکاب کیا ہو۔

ان کے بعض مقلدیہ سمجھے کہ یہ امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کے تین اقوال ہیں ایک ہی حالت میں ، حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تین اقوال گناہوں کی اقسام کے اعتبار سے ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔

معروف احادیث میں آیا ہے کہ جب مسلمان وضو کرتا ہے تو اس کے اعضاء سے گناہ دُھل جاتے ہیں ۔ اعلیٰ حضرت محدث بریلوی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں ،

اصحابِ مشاہدہ اپنی آنکھوں سے وضو کے پانی سے لوگوں کے گناہوں کو دُھلتا ہوا دیکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اہلِ شہود کے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ مستعمل پانی نجاستِ مغلظہ ہے کیونکہ وہ اس پانی کو گندگیوں میں ملوث دیکھتے تھے، تو ظاہر ہے کہ وہ دیکھتے ہوئے ، اس کے علاوہ اور کیا حکم لگا سکتے تھے۔

امام شعرانی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، میں نے سیدی علی الخواص رحمہ اللّٰہ کو فرماتے سنا کہ اگر انسان پر کشف ہو جائے تو وہ لوگوں کے وضو اور غسل کے پانی کو نہایت گندہ اور بدبودار دیکھے گا اور اسے استعمال نہ کرے گا جیسے وہ اس پانی کو استعمال نہیں کرتا جس میں کتا یا بلی مر گئی ہو۔میں نے ان سے کہا ، اس سے معلوم ہوا کہ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللّٰہ تعالیٰ اہلِ کشف سے تھے کیونکہ یہ مستعمل کی نجاست کے قائل تھے۔ تو انہوں نے فرمایا، جی ہاں ! امام ابوحنیفہ اور ابویوسف رحمہما اللّٰہ تعالیٰ بڑے اہلِ کشف تھے۔

مزید فرمایا، ایک مرتبہ امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللّٰہ علیہ جامع کوفہ کے طہارت خانہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک جوان وضو کر رہا ہے اور پانی کے قطرات اس کے اعضاء سے ٹپک رہے ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا، اے میرے بیٹے ! والدین کی نافرمانی سے توبہ کر۔ اس نے فوراً کہا، میں نے توبہ کی۔ اسی طرح ایک دوسرے شخص کے پانی کے قطرات دیکھے تو فرمایا، اے بھائی ! زنا سے توبہ کر۔ اس نے کہا، میں نے توبہ کی۔اسی طرح ایک شخص کے وضو کا مستعمل پانی دیکھا تو فرمایا، شراب نوشی اور گانے بجانے سے توبہ کر۔ اس شخص نے توبہ کی۔ 

Share:
keyboard_arrow_up