ایں سعادت بزورِ بازو نیست
تا نہ بخشد خدائے بخشندہ
اس کی تائید حضرت داتا صاحب رحمہ اللہ کی اس تحریر سے بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے خواب میں آقا ومولیٰ ﷺ کی زیارت کی اور دیکھا کہ آپ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنی گود میں اٹھائے ہوئے تشریف لا رہے ہیں ۔ آپ لکھتے ہیں ، خواب سے یہ ظاہر ہو گیا کہ امام ابوحنیفہرضی اللہ عنہ ان پاک لوگوں میں سے تھے جو اوصافِ طبع میں فانی اور احکامِ شرع کے ساتھ باقی ہیں اس لیے کہ حضور ﷺ آپ کو اٹھا کر لائے یعنی آپ کے چلانے والے سید عالم ﷺ ہیں ۔ اگر آپ خود چل کر آتے توباقی الصفت ہوتے۔
باقی الصفت لوگ منزل کو پا بھی سکتے ہیں اور منزل سے بھٹک بھی سکتے ہیں ۔ چونکہ رسول کریم ﷺ نے آپ کو اٹھایا ہوا تھا اس لیے یقینا آپ کی ذاتی صفات فنا ہو چکی تھیں اور وہ آقا کریم ﷺ کی صفات کے ساتھ صاحبِ بقا تھے۔ حبیبِ کبریا ﷺ سہو وخطا سے بالاتر اور معصوم ہیں اس لیے یہ ناممکن ہے کہ جسے ان کا سہارا نصیب ہو ، وہ سہو وخطا کا مرتکب ہو سکے۔()
حضرت داتا صاحب رحمہ اللہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ ہی کے مقلد تھے۔ مقدمہ درمختار میں ہے کہ کثیر اولیاء کرام آپ کے مذہب حنفی کے پیروکار ہیں اور اولیاء کرام بھی وہ کہ جو کشف و مشاہدات کے میدان میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ اگر وہ اس میں ذرا بھی شک وشبہ پاتے تو ہرگز آپ کی پیروی کرتے نہ تقلید کرتے۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتدائے تعلیم میں مجھے شافعی مذہب اختیار کرنے کا خیال آیاتو میں نے اپنے مرشد شیخ عبدالوہاب متقی رحمہ اللہ سے عرض کیا۔ انہوں نے فرمایا، ہمارے نزدیک راجح یہ ہے کہ حق امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے۔ میں نے پوچھا ، آپ یہ بات دلائل کی بنا پر کہتے ہیں یا کشف اور مشاہدہ کی بنا پر؟ تو انہوں نے فرمایا،’’ہم اسی طرح محسوس کرتے ہیں ‘‘۔()
امام ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ کا یہ ارشاد بھی دل کی آنکھوں سے پڑھنے کے لائق ہے،’’کشف کی نظر میں مذہبِ حنفی عظیم دریا کی صورت میں نظر آتا ہے اور دوسرے مذاہب چھوٹی نہروں کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں ‘‘۔
امام ابن حجر مکی شافعی کی گواہی بھی ملاحظہ فرمائیے،آپ فرماتے ہیں ،’’ امامِ اعظم ان ائمہ اسلام میں سے ہیں جو خدا کے اس فرمان کا مصداق ہیں کہ اَلَآاِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھُمْ یَحْزَنُوْن الخ۔ ’’سن لو بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ غم، وہ جو ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے ہیں ، انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ‘‘۔()
اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ائمہ مجتہدین وعلماءِ عاملین میں سے ہر ایک محیر العقول کمالات رکھتا تھا اور ان سے ایسے احوال وکرامات صادر ہوتے تھے جن کا سوائے جاہل دشمن کے کوئی انکار نہیں کر سکتا تھا۔ یہ حضرات دراصل شریعت وحقیقت کے جامع تھے‘‘۔ ()
امامِ اعظم اور کشف وفراست:
اولیاء کرام کا ایک روحانی وصف ’’کشف ومشاہدہ‘‘ہے۔ متعدد واقعات شاہد ہیں کہ امامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے کسی موقع پر بھی اپنی باطنی فراست سے جو بات ارشاد فرمائی وہ پوری ہوئی۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ بہت غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی والدہ اکثر انہیں درس سے لے جاتی تھیں تاکہ کچھ کماکر لائیں ۔ ایک دن امامِ اعظم نے ان کی والدہ سے فرمایا،’’ تم اسے علم سیکھنے دو۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک دن یہ روغنِ پستہ کے ساتھ فالودہ کھائے گا‘‘۔یہ سن کر وہ بڑبڑاتی ہوئی چلی گئیں ۔
Page 61 of 168

