Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 60 of 168
باب چہارم (4) امامِ اعظم بحیثیت ولیِ کامل
سیدُ الاولیاء حضرت داتا گنج بخش رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق تصنیف کشف المحجوب میں سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ عنہکے تذکرہ میں فرماتے ہیں : اماموں کے امام، مقتدائے اہلِ سنت،شرفِ فقہاء اور عزتِ علماء امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ مجاہدات وعبادات میں نہایت ثابت قدم اور اصولِ طریقت میں بڑی شان کے مالک تھے۔آپ اکثر مشائخ کے استاد تھے چنانچہ حضرت ابراہیم بن ادہم، حضرت فضیل بن عیاض، حضرت داؤد طائی اور حضرت بشر حافی وغیرہ اکابر اولیاء نے آپ سے فیض حاصل کیا۔ (رحمہم اللہ تعالیٰ)
علماء فرماتے ہیں کہ جس طرح حضرت داؤد طائی طریقت میں حضرت حبیب عجمی کے مجاز اور خلیفہ ہیں اسی طرح وہ امامِ اعظم کے بھی مجاز اور خلیفہ ہیں ۔ اور اسی طرح امامِ اعظم بھی طریقت میں امام جعفر صادق کے مجاز اور خلیفہ ہیں ۔( رضی اللہ تعالیٰ عنہم)سیدناامامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے سلوک و طریقت کے مراحل امام جعفر صادق رضی اللہ عنہسے دو سال میں طے کیے ہیں ۔ پھر آپ نے فرمایا ہے، لَوْلاَ السَّنَتَانُ لَھَلَکَ النُّعْمَانُ ۔ ’’ اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا‘‘۔ ()
مقدمہ درمختار میں ہے کہ شیخ ابوالقاسم قشیری شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے استاذ ابو علی دقاق کا ارشاد ہے، میں نے طریقت کو ابوالقاسم نصر سے حاصل کیا، انہوں نے سری سقطی سے انہوں نے معروف کرخی سے، انہوں نے داؤد طائی سے اور انہوں نے علم اور طریقت کو امام ابوحنیفہ سے حاصل کیا۔ یہ سب لوگ شریعت وطریقت کے امام تھے۔(رحمہم اللہ تعالیٰ)
سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ جب آقا ومولیٰ ﷺ کی زیارت کے لیے مدینہ منورہ جاتے اور آپ کے روضۂ اقدس پر عرض کرتے، السلام علیک یا سید المرسلین۔ اے رسولوں کے سردار! آپ پر سلام ہو۔ تو روضۂ اطہر سے جواب آتا:
وعلیک السلام یا امام المسلمین۔اے مسلمانوں کے امام! تم پر بھی سلام ہو۔ ()
بلاشبہ سیدناامامِ اعظم رضی اللہ عنہ بلند پایہ محدث بھی تھے اور طریقت وتصوف کے عظیم مردِ میدان بھی لیکن آپ نے روایتِ حدیث اور سلوک وطریقت کی ظاہری ترویج کی بجائے صرف فقہ کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ آپ نے اپنی ساری زندگی امتِ مسلمہ کی بھلائی کی خاطر وقف کر دی اور فقہ حنفی کی صورت میں امت کو اسلامی قوانین کا مجموعہ عطا کیا۔
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عارفِ ربانی شیخ نصر اللہ شیرازی مہاجر مکی رحمہ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو معارف اور حقائق شیخ ابویزید بسطامی اور حضرت جنید بغدادی کو حاصل تھے وہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی (رحمہم اللہ تعالیٰ) کو بھی حاصل تھے، شریعت اور اس کے احکام کا علم اس کے علاوہ تھا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ فقہ کے ائمہ، فقہ اور تصوف دونوں سے متصف اور دونوں کے جامع تھے، انصاف یہ ہے کہ ائمہ تصوف بھی دونوں کے جامع تھے فرق غالب اور مغلوب کا تھا(یعنی ائمہ فقہ پر فقہ کا اور ائمہ تصوف پر تصوف کا غلبہ تھا)واللہ تعالیٰ اعلم۔
سیدناامامِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کیونکہ انہوں نے فقہ کی تعریف یوں کی ہے کہ ’’نفس کا ان اشیاء کو پہچاننا جو اس کے لیے مفید اور مضر ہیں ‘‘۔()
سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ عنہ کی مذکورہ فقہ کی تعریف ہی دراصل تصوف وطریقت کی اصل ہے۔حقیقت یہی ہے کہ آپ کے اخلاص،صداقت ودیانت، عبادت وریاضت اور زہد وتقویٰ کے باعث رب تعالیٰ نے آپ کو تصوف وطریقت میں بلند درجہ عطا کیا اورامامت و اجتہاد کے اعلیٰ مقام پر فائز فرمایا ۔اسی بناء پر امتِ مسلمہ کی عظیم اکثریت، تین چوتھائی حصہ آپ کا مقلد ہے۔
Share:
keyboard_arrow_up