Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 59 of 168
امامِ اعظم نے فرمایا، حماد ، زہری سے افقہ ہیں اور ابراھیم ، سالم سے افقہ ہیں اور علقمہ فقہ میں ابن عمر سے کم نہیں اگرچہ صحابی ہونے کی وجہ سے علقمہ سے افضل ہیں ۔ اور حضرت عبداﷲ ابن مسعود کی فقہ میں برتری سب ہی کو معلوم ہے۔(رضی اﷲ عنہم اجمعین)
امام اوزاعی رضی اﷲ عنہنے حدیث کو علوِ سند سے ترجیح دی اور امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے راویوں کے اَفقہ ہونے کی بنیاد پرحدیث کی فوقیت بیان کی۔ یہ جواب سن کر امام اوزاعی رضی اﷲ عنہ خامو ش ہو گئے۔()
38۔ گانے والی عورتیں :
ایک دن امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ اپنے اصحاب کے ہمراہ کوفہ کے باہر سیر کو گئے ، واپسی پر راستہ میں قاضی ابن ابی لیلیٰ مل گئے۔انہوں نے سلام کیا اور امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ کے ساتھ چلنے لگے۔ جب ایک باغ میں پہنچے تو وہاں کچھ ایسی گانے بجانے والی عورتیں گا رہی تھیں جو کوفہ میں بد نام سمجھی جاتی تھیں ۔ ان عورتوں نے انہیں دیکھا تو خاموش ہو گئیں ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ نے کہا، احسنتن ۔’’تم نے خوش کر دیا‘‘ ۔ ابن ابی لیلیٰ نے امام صاحب کے یہ الفاظ یاد رکھے تاکہ کسی مجلس میں انہیں شرمسار کرنے کے لیے بیان کیے جائیں ۔
ایک دن اس نے عدالت میں کسی گواہی کے لیے آپ کو بلایا ، حضرت نے گواہی تحریر کر دی مگر ابن ابی لیلیٰ نے آپ کی گواہی یہ کہہ کر مسترد کردی کہ آپ نے گانے بجانے والی عورتوں کو احسنتن کہا تھا اور ان فاحشہ عورتوں کو داد دی تھی ۔ آپ نے دریافت کیا، میں نے انہیں کب احسنتن کہا، جب گارہی تھیں یا جب وہ خامو ش ہوگئی تھیں ؟ ابن ابی لیلیٰ نے کہا، جب وہ خاموش ہو گئیں ۔ آپ نے فرمایا، اﷲ اکبر! میں نے تو انہیں احسنتن ان کے خاموش ہونے اور گانا بند کرنے پر کہا تھا نہ کہ ان کے گانے بجانے پر۔ یہ سنتے ہی ابن ابی لیلیٰ نے آپ کی گواہی خاموشی سے قبول کرلی۔ ()
39۔ وہ بہت بڑا فقیہ ہے:
جن دنوں حضرت امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ مکہ مکرمہ میں قیام فرمارہے تھے تو وہاں کا گورنر عیسیٰ بن موسیٰ تھا، اسے ایک فیصلہ میں ایک شرط لکھوانے کی ضرورت پیش آئی تو اس نے وقت کے دو بڑے فقیہ علماء ابن شبرمہ اور ابن ابی لیلیٰ رحمہما اللہکو طلب کیا۔ مگر ابن شبرمہ جو شرط لکھواتے اسے ابن ابی لیلیٰ رد کردیتے اور جو شرط ابن ابی لیلیٰ پیش کرتے اسے ابن شبرمہ توڑ دیتے۔ اسی دوران امامِ اعظم رضی اﷲ عنہبھی تشریف لے آئے ، آپ کو گورنر نے شرط لکھوانے کا کہا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا،کاتب کو بلائیے ،میں اسے ابھی لکھوا دیتا ہوں ۔
آپ نے کاتب کو جو تحریر لکھوائی اسے توڑنے کی کسی کو جرأت نہ ہوئی۔چنانچہ یہ تحریر ابن شبرمہ اور ابن لیلیٰ رحمہما اللہ کے سامنے پڑھی گئی تو دونوں انگشت بدنداں ہو کر رہ گئے۔ جب وہ گورنر کی محفل سے باہر نکلے تو ایک نے دوسرے کو کہا، دیکھا اس جولاہے ( کپڑا بیچنے والے) نے مسئلہ کو کیسے حل کر دیا ۔ دوسرے نے کہا، ایک جولاہے کو ایسی تحریر لکھوانے کی ہمت نہیں ہوتی،بیشک وہ ایک بہت بڑا فقیہ ہے، اس نے سب علماء کو دنگ کر کے رکھ دیا ہے۔
40۔ آیت کی تفسیر:
ایک مرتبہ امام عطاء بن ابن رباح رضی اﷲ عنہ کے پاس امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ تشریف لائے اور اس آیت کے بارے میں سوال کیا،وَاٰتَیْنٰہُ اَھْلَہٗ وَ مِثْلَہُمْ مَّعَہُمْ۔ اس کا کیا مطلب ہے ؟ عطاء بن ابی رباح رضی اﷲ عنہ نے کہا، اﷲتعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو ان کے اہل و عیال واپس کر دیے اور ان کے ساتھ ان کی مثل اولاد عنایت فرمائی ۔
امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے پوچھا ،کیا اﷲ تعالیٰ اپنے نبی کو ایسی اولاد عطا کرتا ہے جو اس کی پشت سے نہ ہو؟ اس پر انہوں نے فرمایا، اﷲ تعالیٰ آپ کو عافیت دے، اس بارے میں آپ کیا جانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا، میرے نزدیک اس آیت کریمہ کامطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو ان کی بیوی اور اولاد جو ان کی صلبی اولاد ہے واپس کی اور ساتھ ہی ان کی اولاد کے اجر جیسا اجر و ثواب عطا فرمایا۔ حضرت عطاء رضی اﷲ عنہ نے فرمایا، یہ بہترین تفسیر ہے۔()
Share:
keyboard_arrow_up