Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 58 of 168
آپ نے پوچھا، کیا وہ دونوں مرنے والے یہودی تھے؟ کہا، نہیں ۔ فرمایا، کیا وہ نصرانی تھے ؟ کہا ،نہیں ۔ فرمایا، کیا وہ مجوسی تھے ؟ کہا، نہیں ۔ فرمایا، تو وہ کس دین اور کس مذہب پر تھے؟ کہنے لگے، اس دین پر جس کی تم گواہی دیتے ہو کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ حضرت محمد ﷺ اﷲ کے بندے اور رسول ہیں ۔
امامِ اعظم نے فرمایا، تم خود گواہی دے رہے ہو کہ وہ ملتِ اسلام پر تھے،اب یہ بتاؤ کہ ان کا ایمان تہائی تھا یا چوتھائی یا پانچواں حصہ تھا؟ وہ کہنے لگے ،ایمان کی کوئی مقدار نہیں ہوتی ۔ آپ نے فرمایا، عجیب بات ہے جب تم خود ہی اقراری ہو کہ وہ مومن تھے پھر پوچھتے ہو کہ ان کی نماز پڑھی جائے یا نہیں ۔ انہوں نے بوکھلا کر کہا،ہمارا سوال یہ ہے کہ وہ جنتی ہیں یا دوزخی ؟
آپ نے فرمایا، جب تم ان کے مومن ہونے کے اقرار کے بعد بھی سوالات کرنے سے باز نہیں آتے تو سنو ، میں ان کے بارے میں وہی کہوں گا جو ابراہیم علیہ السلام نے اس قوم کے بارے میں کہا تھاجو جرم میں اِن سے بڑھ کر تھی۔
فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ ۚ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ﴿۳۶﴾
’’ توجس نے میراساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ ماناتو بیشک توبخشنے والا مہربان ہے‘‘۔()
پھر ان کے بارے میں مجھے یہی کہنا ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس قوم کے متعلق کہا تھا جو ان سے جرم میں بڑھ کر تھے۔
اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ﴿۱۱۸﴾
’’اگرتو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگرتو انہیں بخش دے تو بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا‘‘۔ ()
میں ان سے حضرت نوح علیہ السلام کے فرمان کے مطابق سلوک کروں گا۔ آپ نے فرمایا تھا، ’’کافر بولے، کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں اور تمہارے ساتھ کمینے ہوئے ہیں ؟ فرمایا، مجھے کیا خبر ان کے کام کیا ہیں ، ان کا حساب تو میرے رب ہی پر ہے اگر تمہیں سمجھ ہو، اور میں مسلمانوں کو دور کرنے والا نہیں ، میں تو نہیں مگر صاف ڈر سنانے والا‘‘۔ ()
امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ کے ان زبردست دلائل کے سامنے خوارج نے ہتھیار ڈال دیئے اور اس مجلس میں اعلان کیا کہ آج ہم ان تمام نظریاتِ باطلہ اور خیالاتِ فاسدہ سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں جس پر اب تک ہم عمل پیرا تھے اور ہم آپ کے نظریات کی روشنی میں دین اسلام کو اختیار کرتے ہیں ۔
پس جب خوارج کا یہ وفد وہاں سے روانہ ہوا تواپنے خیالات سے توبہ کر کے روانہ ہوا اور انہوں نے اہلِسنّت و جماعت کے عقائد اختیار کر لیے۔()
37۔ امام اوزاعی سے گفتگو:
امام اوزاعی اور امامِ اعظم رضی اﷲ عنہماکی مکّہ معظّمہ میں ملاقات ہوئی۔ امام اوزاعی نے امامِ اعظم سے کہا ، کیا بات ہے کہ آپ لوگ رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے اٹھتے ہوئے رفع یدین نہیں کرتے ؟ امامِ اعظم نے فرمایا کہ اس بارے میں رسول اﷲ ﷺ سے کوئی صحیح روایت نہیں ۔ امام اوزاعی نے کہا ، کیسے نہیں حالانکہ مجھ سے زہری نے حدیث بیان کی وہ سالم سے، سالم اپنے والد ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ جب نماز شروع کرتے، جب رکوع میں جاتے اور جب رکوع سے اٹھتے تو رفع یدین کیاکرتے تھے ۔ (رضی اﷲ عنہم اجمعین)
اس کے جواب میں امامِ اعظم رضی اﷲ عنہ نے فرمایا، ہم سے حماد نے حدیث بیان کی ، وہ ابراہیم نخعی سے وہ علقمہ سے وہ عبداﷲ بن مسعود سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ صرف افتتاحِ نماز کے وقت رفع یدین کرتے تھے، اس کے بعد پھر نہیں کرتے تھے ۔ اس پر امام اوزاعی نے کہا کہ میں عن الزھری عن سالم عن ابیہ۔ حدیث بیان کرتا ہوں اور آپ کہتے ہیں حدثنی حماد عن ابراھیم عن علقمۃ۔
Share:
keyboard_arrow_up