Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 57 of 168

قتادہ رضی ﷲ عنہ نے کہا، کیا یہ صورت پیش بھی آئی ہے؟ آپ نے فرمایا، نہیں لیکن علماء کو پہلے سے تیار رہنا چاھیے تاکہ وقت پر تردد نہ ہو۔ یہ سن کر قتادہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا، ان مسائل کو چھوڑو اور مجھ سے قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر کے متعلق سوال کرو۔

آپ پھر کھڑے ہوئے اور کہا، ﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتٰبِ اَنَا اٰتِیْکَ بِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْکَ طَرْفُکَ

’’اس نے عرض کی جس کے پاس کتاب کا علم تھا کہ میں اسے حضور میں حاضر کردوں گا ایک پل مارنے سے پہلے‘‘۔اس آیت میں کون شخص مراد ہے؟

قتادہ رضی ﷲ عنہ نے کہا، آصف بن برخیا جو اسمِ اعظم جانتے تھے۔ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے پوچھا ،کیا سلیمان علیہ السلام اسم اعظم جانتے تھے؟فرمایا، نہیں ۔آپ نے فرمایا، کیا ایک نبی کے دربار میں ان کاامتی ان سے بڑھ کر کتاب کا علم رکھتا تھا؟ یہ سن کر قتادہ رضی اﷲ عنہ ناراض ہو گئے اور کہا، مجھ سے علم کلام کے بارے میں سوال کریں ۔ آپ نے پھر کھڑے ہو کر کہا ، کیا آپ مومن ہیں ؟ انہوں نے فرمایا، ان شاء اللّٰہ، میں مومن ہوں ۔

(اکثر محدثین احتیاط کے طور پر اپنے آپ کو قطعی مومن نہیں کہتے تھے) آپ نے پوچھا، آپ نے یہ قید کیوں لگائی؟(کہ ایمان تو یقین کا نام ہے)انہوں نے جواب میں فرمایا،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا:

وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَ لِیْ خَطِیْٓـئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔

’’مجھ کو امید ہے کہ خدا قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف فرمادے گا‘‘۔

امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے فرمایا، جب اللّٰہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا تھا، اَوَلَمْ تُؤْمِنْؕ ۔ ’’کیا آپ اس پر ایمان نہیں رکھتے ‘‘۔

تو انہوں نے جواب میں بلٰی کہا تھایعنی ہاں میں مومن ہوں ۔آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس قول کی تقلید کیوں نہ کی؟ قتادہ رضی ﷲ عنہ اس بات پر لاجواب ہو گئے اور مجلس چھوڑ کر اپنے گھر چلے گئے ۔

36۔ خارجیوں سے طویل مناظرہ :

حضرت حماد رضی ﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد گرامی امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے علمی ادراک کی خبر جب خوارج کو پہنچی اور انہیں یہ معلوم ہوا کہ آپ فسق کی وجہ سے اہلِ قبلہ پر کفر کا فتویٰ نہیں دیتے تو ان کے ستر آدمی ایک وفد کی صورت میں آپ کے پاس آئے۔ اس وقت آپ کے پاس لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا اور آپ کے پاس بیٹھنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ انہوں نے چلا کر کہا، حضرت ہم ایک ملت پر ہیں ، آپ اپنے لوگوں کو کہیں کہ وہ ہمیں ملاقات کے لیے قریب آنے کا موقع دیں ۔

جب یہ لوگ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے قریب پہنچے تو سب نے میانوں سے تلواریں نکال لیں اور کہا ،تم اس امت کے دشمن ہو ، تم اس امت کے شیطان ہو ۔ ہمارے نزدیک ستر آدمیوں کے قتل کرنے سے تم جیسے تنہا شخص کو قتل کر دینا بہتر ہے لیکن ہم قتل کرتے وقت ظلم نہیں کریں گے ۔ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ تم مجھے انصاف دینا چاہتے ہو؟ اگر یہ بات درست ہے تو پہلے اپنی تلواریں میانوں میں کرلو ۔ وہ کہنے لگے ،ہم انہیں میانوں میں کیوں کر لیں ہم تو انہیں آپ کے خون سے رنگین کرنے آئے ہیں ۔

آپ نے فرمایا ،چلو تم اپنا سوال کرو ۔وہ کہنے لگے،مسجد کے دروازے پر دو جنازے آئے ہیں ، ایک ایسا شخص ہے جس نے شراب کے نشے میں دھت ہو کر جان دی۔ دوسری ایک عورت کی لاش ہے جس نے زنا کروایا اور اس کے پیٹ میں حرام کی اولاد ہے اس نے شرمساری سے بچنے کے لئے خود کشی کر لی۔ کیا آپ ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟

Share:
keyboard_arrow_up