امامِ اعظم کا علمی تبحر امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ علم کا ایک بہت بڑا خزانہ تھے۔ مشکل اورپیچیدہ مسائل میں آپ کا ذہن اس تیزی کے ساتھ صحیح نتیجہ تک پہنچ جاتا کہ دوسرے لوگ حیران رہ جاتے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو مسائل کسی سے حل نہیں ہو سکتے،وہ آپ نہایت آسانی سے حل فرما دیا کرتے۔
آپ مناظرے اورمباحثے میں اپنے مد مقابل پر چھا جاتے اور اسے لاجواب کر دیتے تھے۔
علامہ موفق مکی رحمہ ﷲ لکھتے ہیں، امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ اگرچہ دین کے مسائل حل کرنے میں علماء وقت کے سردارتھے مگر بعض نکات اور بعض مشکل سوالات کے فوری اور فی البدیہہ جواب دے کر انہوں نے ذہانت کے جھنڈے گاڑ دیئے۔ ذیل میں امام موفق بن احمد مکی رحمہ ﷲکی کتاب ’’مناقب الامام‘‘ اور امام ابن حجر مکی رحمہ ﷲکی کتاب ’’الخیرات الحسان‘‘ سے چند واقعات تحریر کیے جارہے ہیں جن سے سیدنا امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے علمی تبحر کا ہلکا سا اندازہ کیا جا سکتا ہے:
34۔ یہ مومن ہے یا کافر:
سیدنا امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ سے کسی نے پوچھا، ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے جنت کی کوئی امید نہیں، میں ﷲ سے نہیں ڈرتا، مجھے دوزخ کی کوئی پروا نہیں ، مردار کھاتا ہوں، نماز میں رکوع و سجود نہیں کرتا۔ میں اس چیز کی گواہی دیتا ہوں جسے میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ میں حق سے نفرت کرتا ہوں اور فتنے سے محبت کرتا ہوں ۔ آپ نے اپنے شاگردوں کی طرف دیکھا اور متوجہ ہو کر فرمایا، اس شخص کی ان باتوں کا کیا جواب ہے؟ بعض شاگردوں نے کہا، ایسا شخص تو کافر ہو گیا، بعض خاموش رہے۔ آپ نے اس گفتگو کو اس انداز میں سلجھایا اور فرمایا ، یہ شخص جنت کی امید نہیں رکھتا صرف ﷲ کی ذات کی امید رکھتا ہے۔ جنت سے ﷲ کی محبت اور امید بڑھ کر ہے۔ وہ مردار کھاتا ہے یعنی مچھلی ذبح کیے بغیر کھاتا ہے اور بغیر رکوع اور سجود کے نماز ادا کرتا ہے یعنی نماز جنازہ۔ وہ بلادیکھے گواہی دیتا ہے، اس نے ﷲ کو نہیں دیکھا مگر اس کی ذات کی گواہی دیتا ہے ۔ یہ اس قیامت کی بھی گواہی دیتا ہے جسے اس نے نہیں دیکھا۔ وہ حق سے نفرت کرتا ہے ، موت حق ہے اور وہ موت سے نفرت کرتا ہے۔ وہ فتنے سے محبت کرتا ہے ، یعنی اسے اپنی اولاد سے محبت ہے جو ایک فتنہ ہے۔ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کی باتیں سن کر وہ شخص اٹھا اور آپ کے سر کو چوما اور کہا، ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک آپ علم کے سمندر ہیں، ذہانت کے دریا ہیں۔ میں آپ سے متعلق جو خیالات رکھتا تھا، ان سے توبہ کرتا ہوں ‘‘۔
35۔ حضرت قتادہ سے مذاکرہ:
حضرت قتادہ رضی ﷲ عنہ کوفہ میں آئے تو لوگوں کو جمع کیا اور درس کی ایک مجلس منعقد کی۔ عظیم مجمع ہو گیا۔امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ بھی وہاں تشریف لے آ ئے۔
قتادہ رضی ﷲ عنہ نے کہا، مجھ سے فقہ کا کوئی سوال پوچھیں ۔ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا، اے ابو الخطاب ! جو شخص سفر پر جائے اور پھر اس کی کوئی خبر نہ ملے اس کی بیوی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا، وہ عورت چار سال تک انتظار کرے اور اس کا شوہر واپس آجائے تو بہتر ورنہ عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کر لے ۔ آپ نے پوچھا، اگر اس کا خاوند چار سال کے بعد آجائے اور اپنی بیوی کو کہے، اے زانیہ تو نے کیوں نکاح کرلیا جب کہ میں ابھی زندہ ہوں؟ پھر اس کا دوسرا شوہر کھڑا ہوکر کہے کہ اے زانیہ تو نے کیوں نکاح کیا جبکہ تیرا شوہر سامنے کھڑا ہے؟ بتائیے یہ عورت کیا کرے گی اور کس کی منکوحہ ٹھہرے گی اور اس کے ساتھ کون لعان کرے گا؟

