آپ کی بات سن کر دہر یے جو آپ کو قتل کرنے آئے تھے، لاجواب ہو گئے اور انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کے سامنے اپنے عقائد سے توبہ کرلی۔
31۔ خارجیوں کی توبہ:
ایک وقت آیا کہ خارجیوں نے کوفہ پر قبضہ کرلیا۔ ان کے ایک دستے نے سب سے پہلے امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کو گرفتار کرلیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ کو فہ کے امام الائمہ ہیں۔ اگر آپ قابو آ گئے تو کسی دوسرے کو علمی مزاحمت کی جرأت نہ ہوگی۔ خارجیوں کا ایک عقیدہ یہ تھا کہ جو ان کے عقیدہ پر یقین نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا، تم کفر سے توبہ کرو۔ آپ نے فرمایا، میں ہر قسم کے کفر سے توبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا۔ بعد میں چند لوگوں نے کہا، امامِ اعظم تمہیں جُل دے کر چھوٹ گئے وہ تو تمہیں کافر سمجھتے ہیں اور انہوں نے تمہارے کفر سے توبہ کی ہے۔ خارجیوں نے آپ کو گھر سے پھر گرفتار کرلیا اور پوچھا، آپ نے تو ان عقائد سے توبہ کی ہے جن پر ہم ہیں ۔ آپ نے ان سے پوچھا ،یہ بات تم نے لوگوں کے بھڑکا نے پر گمان سے کہہ دی ہے یا ایمان اور یقین سے؟ انہوں نے کہا، ہم گمان سے کہہ رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ تو اِنَّ بَعْضَ الظَّنِِّ اِثْمٌ فرماتا ہے یعنی بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔ تم نے تو گناہ کیا ہے کہ مجھ پر بدگمانی کی اور تمہارا عقیدہ ہے کہ ہر گناہ کفر ہے پہلے تم اس کفر سے توبہ کرو۔ خارجیوں کے سردار نے کہا، اے شیخ آپ صحیح کہہ رہے ہیں ہم کفر سے توبہ کرتے ہیں مگر آپ بھی کفر سے توبہ کریں ۔ آپ نے اعلان کیا ،میں ہر کفر سے توبہ کرتا ہوں ۔ اس پر خوارج نے آپ کو پھر چھوڑ دیا۔ آپ کے دوسری بار توبہ کرنے پرخارجی سمجھے کہ آپ نے اپنے کفریہ عقیدہ سے توبہ کا اعلان کیا ہے حالانکہ آپ نے تو دوبارہ بھی اُنہی کے کفریہ عقائد سے توبہ فرما ئی تھی۔
32۔ خصی کے تین سوال:
ابو جعفر منصور عباسی خلیفہ کا ایک خادم امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ سے بغض اور کینہ رکھتا تھا اور جہاں بیٹھتا آپ کے خلاف گفتگو کرتا۔ خلیفہ کے منع کرنے پر بھی وہ باز نہ آیا۔ ایک دن اس نے منصور سے کہا کہ میں آپ کے سامنے امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ سے تین سوال کرنا چاہتا ہوں اگر انہوں نے صحیح جواب دے دیئے تو آئندہ ان کی برائی نہیں کروں گا۔ منصور نے امام صاحب کو بلایا اور خادم کو کہا کہ سوال کرو۔
پہلا سوال یہ تھا کہ دنیا کا درمیان (محور) کہا ں ہے ؟ آپ نے فرمایا، وہ جگہ یہی ہے جہاں تو بیٹھا ہوا ہے۔
اس نے دوسرا سوال کیا، دنیا میں سروں والی مخلوق زیادہ ہے یا پاؤں والی ؟ آپ نے فرمایا، سروں والی مخلوق زیادہ ہے ۔
تیسرا سوال یہ کیا کہ اس کائنات پر مرد زیادہ ہیں یا عورتیں ؟
آپ نے فرمایا ،دونوں زیادہ ہیں مگر تم بتاؤ کہ تم مرد ہو یا عورت ؟ تم کس جنس سے تعلق رکھتے ہو؟ کیونکہ خصی (نامرد) بہت تھوڑے ہوتے ہیں ۔یہ سن کر وہ خادم مبہوت ہو کر رہ گیا (کیونکہ اس کا خصی ہونا لوگوں کو معلوم نہ تھا) ۔
33۔ سیاہ بال چن لو:
علی بن عاصم رحمہ ﷲ فرماتے ہیں کہ میں اما م اعظم رضی ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت ایک حجام آپ کی حجامت بنا رہا تھا ۔ آپ نے فرمایا ، سفید بال چن لے ۔ حجام نے کہا کہ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ جہاں سے سفید بال چنے جاتے ہیں وہاں کئی اور سفید بال اگ آتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا، اچھا پھر سیاہ بال چن لے تاکہ سیاہ بالوں کا غلبہ ہو جائے اور سفید ختم ہو جائیں ۔ یہ بات اگرچہ مزاحیہ تھی ۔مگر جب قاضی شریک رحمہ ﷲ کو یہ لطیفہ سنا یا گیا تو انہوں نے ہنس کر فرمایا ، امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ نے تو حجام کو بھی اپنے قیاس سے لا جواب کر دیا ۔

