آپ نے فرمایا، جب تم نے یہ بات مان لی تو پھر تمہارا مسئلہ حل ہوگیا۔ تم نے میرے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے حجت قائم کردی ہے۔ کہنے لگے، وہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا، ’’ تم نے خود اپنی طرف سے ایک آدمی منتخب کیا اور فیصلہ کیا کہ اس کی ہر بات تمہاری بات ہو گی، اس کی ہار جیت تمہاری ہار جیت ہو گی ، ہم بھی نماز کے دوران اپنا امام منتخب کرتے ہیں ۔ اس کی قرأت ہماری قرأت ہوتی ہے، وہ بارگاہ خداوندی میں ہم سب کی طرف سے نمائندہ ہوتا ہے’’۔ انہوں نے آپ کی دلیل کو تسلیم کیا اور اپنے موقف سے دستبردار ہوگئے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے جو مسئلہ عقلی طور پر سمجھا یا وہ دراصل اس حدیث کی تشریح ہے، ’’جو امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرأت ہی اس کی قرأت ہے‘‘۔ اس عنوان پر تفصیلی گفتگونمازِ حنفی کے عنوان کے تحت کی جائے گی۔
29۔ طاقتور ترین صحابی کون؟
حضرت امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کوفہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک رافضی مسجد میں آگیا، جو کوفے میں شیطان طاق (باتونی شیطان ) کے نام سے مشہور تھا۔اس نے آتے ہی پوچھا! ابوحنیفہ ! تمام لوگوں میں طاقتور ترین انسان کون ہے ؟ آپ نے فرمایا، ہمارے عقیدہ میں حضرت علی رضی ﷲ عنہ اور تمہارے عقیدہ میں حضرت ابوبکر رضی ﷲ عنہ ۔ رافضی نے کہا ،یہ تو آپ نے الٹی بات کہہ دی۔ آپ نے فرمایا، الٹی بات تو نہیں کہی،سچی بات کہی ہے۔ حضرت علی رضی ﷲ عنہ کو اس لیے سخت کہتا ہوں کہ انہوں نے حضرت ابو بکر رضی ﷲ عنہ کے اعلانِ خلافت کے بعد انہیں حقدارِ خلافت تسلیم کر کے ان سے برضا ورغبت بیعت کرلی ۔ تم شیعہ کہتے ہو کہ حضرت علی رضی ﷲ عنہ حق پر تھے اور ساتھ ہی یہ کہتے ہو کہ حضرت ابو بکر رضی ﷲ عنہ نے ان کا حق چھین لیا تھا لیکن حضرت علی رضی ﷲ عنہ میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنا حق لیتے۔اس طرح تمہارے نزدیک حضرت ابو بکر رضی ﷲ عنہ زیادہ طاقتور تھے جو حضرت علی رضی ﷲ عنہ پر غالب رہے ۔ رافضی آپ کا جواب سن کر ہکا بکا رہ گیا اور مسجد سے کھسک گیا۔
30۔ دہریوں کو وجودِ خدا کا ثبوت دیا:
امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے زمانے میں جہاں خارجی، رافضی اور دوسرے بدعقیدہ لوگ موجود تھے وہاں بے دین ، دہریے اور ملحد بھی موجود تھے۔ وہ چاہتے تھے جب بھی موقعہ ملے تو امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کو قتل کردیں ۔ ایک دن آپ مسجد میں اکیلے تشریف فرما تھے۔ اچانک خارجیوں کا ایک گروہ اندر آگیا اور آتے ہی آپ کے سامنے تلواروں اور چھریوں کی نمائش کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا، ٹھہر جاؤ پہلے میرے ایک سوال کا جواب دو پھر جو جی میں آئے کرلینا۔ آپ نے فرمایا، مجھے بتاؤ، اس کشتی کے متعلق تم کیا کہو گے جو سامان سے لدی ہوئی دریا میں چل رہی تھی، اس کشتی کو طوفانی ہواؤں اور موجوں نے گھیر لیا مگر وہ اس کے باوجود اپنے راستہ پر چلتی رہی حالانکہ اس کا کوئی ملاح یا چلانے والا نہیں تھا۔ اس پر ایسا کوئی آدمی بھی نہیں تھا جو کشتی کا رخ پھیر کر طوفانوں کی زد سے کسی دوسری طرف لے جائے۔ کیا تمہاری عقل یہ تسلیم کرتی ہے کہ اس کے باوجود کشتی طوفانوں کے درمیان سیدھی منزل کی طرف چلتی جائے۔ ان سب نے کہا، عقل نہیں مانتی۔
آپ نے فرمایا، جب تمہاری عقل یہ تسلیم نہیں کرتی کہ ایک کشتی کسی چلانے والے یا ملاح کے بغیر طوفانوں میں اپنا راستہ خود نہیں بنا سکتی تو اتنی بڑی کائنات جس میں مختلف اقسام کے تغیرات اور طوفان ہیں، وہ کسی چلانے والے کے بغیر کس طرح قائم رہ سکتی ہے؟

