اما م اعظم رضی ﷲ عنہ نے فرمایا، امیر المومنین! ربیع کا یہ خیال ہے کہ آپ کے تمام لشکر کی بیعت آپ کے ساتھ مؤثر نہیں ۔ خلیفہ نے کہا، وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا، ان کا خیال ہے کہ لوگ آپ کے ہاں بیعت کی قسم تو کھا تے ہیں مگر بعد میں گھروں میں جا کر استثناء کر لیتے ہیں یعنی ان شاء اللّٰہ کہہ لیتے ہیں، اس طرح ان کی قسمیں بے اثر ہو جاتی ہیں اور ان پر شرعاً کچھ مؤاخذہ نہیں رہتا ۔ یہ سن کر خلیفہ منصور ہنس پڑا اور ربیع سے مخاطب ہو کر کہنے لگا، تم امام ابوحنیفہ کو نہ چھیڑا کرو، ان پرتمہارا داؤ نہیں چل سکتا۔ جب دونوں باہر آئے تو ربیع کہنے لگا، آج تو آپ میری جان ہی لے چلے تھے ۔ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے فرمایا، یہ تو تمہارا ارادہ تھا ، میں نے تو صرف مدافعت کی ہے۔
26۔ طلاق میں شک ہو تو:
ایک شخص کو اپنی بیوی کی طلا ق میں شک واقع ہوا تو اس نے قاضی شریک رحمہ اللّٰہ سے مسئلہ دریافت کیا ۔جواب ملا، اُس کو طلاق دے کر رجوع کر لو ۔پھراس نے امام سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ سے دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا، یہ کہہ دو کہ اگرمیں نے تجھ کو طلاق دی ہے تو میں نے تجھ سے رجوع کیا، اور پھر امام زُفر رحمہ اللّٰہ سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا ،جب تک تمھیں طلاق کا یقین نہ ہو وہ تمہاری بیوی ہے۔ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ سے ان تینوں جوابات کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ، ثوری نے تمھیں ورع اور تقویٰ کی بات بتائی اور زفر نے ٹھیک فقہ کی بات کہی اور شریک ، تو ان کی مثا ل ایسے شخص کی ہے جس سے کوئی پوچھے کہ مجھے پتا نہیں کہ میرے کپڑے پر نجاست ہے یا نہیں تو وہ کہہ دے کہ کپڑے پر نجاست ہے آپ دھو لیں ۔
27۔ ایک رافضی سے مکالمہ:
کوفہ میں ایک بوڑھا رافضی تھا جو ہر وقت امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی دل آزاری اور طعن و تشنیع کرتا تھا۔ وہ ’’ شیطان الطاق‘‘ کے نام سے مشہور تھا ۔ بڑا باتونی اور بات سے بات نکالنے والا تھا۔ ایک دن امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ حمام میں داخل ہوئے اور یہ رافضی وہاں پہنچ گیا اور کہنے لگا، ابوحنیفہ! تمہارے استاد فوت ہو گئے ہیں ، شکر ہے ہم نے اس شخص سے نجات پائی۔ (حضرت امام حماد رضی ﷲ عنہ کو فوت ہو ئے ایک ماہ گزر ا تھا) آپ نے فرمایا، ہمارے استاد تو فوت ہوتے رہیں گے مگر تمہارا استاد ہمیشہ زندہ رہے گا کیونکہ اسے ﷲ تعالیٰ نے مِنَ الْمُنْظَرِیْنکہہ کر مہلت دی ہے، وہ قیامت تک نہیں مرے گا۔ یہ بات سن کر وہ شیطان جس غسل خانے میں امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نہا رہے تھے، ننگا ہو کر داخل ہو گیا۔ امام صاحب نے آنکھیں بند کرلیں ۔ اس نے کہا ابوحنیفہ! تم کب سے اندھے ہوئے ہو؟ فرمایا، جس دن سے ﷲ تعالیٰ نے تیری غیرت اور حیا کو ختم کردیا ہے ۔ پھر آپ نے منہ پھیر لیا اور یہ شعر پڑھا ،
ترجمہ: ’’میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور میری نصیحت میں حکمت و دانائی ہے ۔ میں ایسی کوئی بات نہیں کہوں گا جس میں بڑائی ہو ۔ اے ﷲ کے بندو! اپنے ﷲ سے ڈرو ، حمام میں ننگے نہ آجایا کرو بلکہ کپڑا باندھ کر آیا کرو‘‘۔
28۔ قرأت خلف الامام پرمناظرہ:
ایک دن بہت سے لوگ جمع ہو کر آ ئے کہ وہ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ سے امام کے پیچھے نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے پر مناظرہ کریں ۔ آپ نے فرمایا، میں اتنے آدمیوں سے تو بیک وقت بات نہیں کر سکتا نہ ہی ہر ایک کی بات کا جواب دے سکتا ہوں ۔آپ ایسا کریں کہ سب کی طرف سے ایک سمجھ دار عالم مقرر کرلیں جو اکیلا مجھ سے بات کرے ۔ انھوں نے ایک بڑا عالم منتخب کیا جو آپ سے بات کرے۔ آپ نے سب سے فرمایا، کیا یہ عالم جو بات کرے گا وہ آپ سب کی طرف سے ہو گی اور کیا اس کی ہار جیت آپ کی ہار جیت ہوگی ؟ ان سب نے کہا، ہاں ! ہم سب اس بات پر متفق ہیں ۔

