Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 52 of 168

22۔ حق کی تعمیل میں پوچھنا کیوں ؟

ابو العباس طوسی ،امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے مخالفین میں سے تھا۔ امام بھی جانتے تھے کہ اس کے خیالات کیا ہیں ۔ ایک دن حضرت امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ عباسی خلیفہ کے دربار میں بیٹھے تھے اور بھی بیشمار لوگ موجود تھے ۔ طوسی نے کہا کہ آ ج میں ابوحنیفہ کو قتل کرا دوں گا۔ وہ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ سے مخاطب ہوا، امیرالمومنین کبھی ہم میں سے کسی کو حکم دیتے ہیں کہ وہ کسی کو قتل کردے ۔اور ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ واقعی مجرم ہے یا نہیں ۔ ایسی صورت میں ہمیں خلیفہ کا حکم ماننا چاہیے یا نہیں ؟ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے فرمایا، اے ابوالعباس! امیر المومنین حق کا حکم دیتے ہیں یا باطل کا؟ اس نے مجبوراً کہا، حق کا ۔ آپ نے فرمایا، پھر حق کی تعمیل میں پوچھنا کیوں؟ طوسی ،اما م اعظم رضی ﷲ عنہ کو جس جال میں پھنسانا چاہ رہا تھا آپ کی حاضر جوابی سے خود اسی جال میں پھنس گیا۔

23۔ آپ کے شاگردوں کی حاضر جوابی:

یحییٰ بن سعید رحمہ اللّٰہ کوفے کے قاضی تھے۔ کوفہ میں ان کا امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی طرح کا اثر قائم نہ ہو سکا تو کہا کر تے تھے، ’’تعجب ہے کہ کوفہ والے ا مام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کے اشاروں پر کیوں حرکت کرتے ہیں؟‘‘۔امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے اپنے شاگرد بھیجے جن میں امام زُفر اور امام ابو یوسف رحمتہ ﷲعلیہما بھی تھے۔ انھوں نے قاضی صاحب سے دریافت کیا کہ آپ کی رائے اس شخص کے بارے میں کیا ہے جو دو اشخاص کا مشترکہ غلام ہو اور ایک نے اسے آزاد کردیا ہو۔ قاضی صاحب نے کہا، ایسا کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں دوسرے شریک کو نقصان دینا ہے جس کی حدیث میں ممانعت ہے۔ انھوں نے دریافت کیا، اگر دوسرا شریک آزاد کر دے تو؟ قا ضی صاحب نے کہا،یہ جائز ہے اب غلام آزاد ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا، آپ نے خود اپنے قول کی مخالفت کردی۔ کیونکہ جب ایک شریک نے آزاد کیا تو آپ کے نزدیک اس کا آزاد کرنابےکار تھا چنانچہ وہ غلام ہی رہا۔ اب دوسرے نے اس کو بحالت غلامی آزاد کیا تو صرف اس کے آزاد کرنے سے وہ کیونکر آزاد ہوسکتا ہے؟ قاضی صاحب یہ سن کر خاموش ہو گئے ۔

24۔ قبر میں کیا کہو گے؟

ایک دن عطاء بن ابی رباح رضی ﷲ عنہ کے پاس لوگوں کا مجمع تھا اوروہاں امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ بھی تشریف فرما تھے۔ ایک شخص نے ایمان کے بارے میں گفتگو کا آغاز کیا ۔ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے پوچھا ،کیا تو مومن ہے ؟ اس نے کہا، مجھے امید ہے کہ میں مومن ہوں ۔ (اُس دور میں بعض لوگ خود کو قطعی طور پر اور یقین سے مومن نہیں کہتے تھے) آپ نے فرمایا ، اگر قبر میں منکر نکیر  نے تمھارے ایمان کے بارے میں سوال کیا تو کیا وہاں بھی یہی کہو گے؟ وہ شخص حیران ہو گیا کہ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے کس قدر آسان طریقے سے یہ علمی مسئلہ حل کر دیا ہے ۔

25۔ خلیفہ کی بیعت مؤثر نہیں :

ایک دن خلیفہ منصور عباسی نے امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کو دربار میں بلایا ۔ منصور کا پرسنل سیکریٹری ربیع آپ کا مخالف تھا اور آپ کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتا تھا۔ اس نے منصور سے کہا، یہی وہ شخص ہے جو آپ کے جدامجد (عبداﷲ بن عباس رضی ﷲ عنہما )کی مخالفت کرتا ہے ۔ آپ کے دادا فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص قسم کھا کر استثناء کرے یعنی ایک یا دو دنوں کے بعد ان شاء اللّٰہ کہہ لے تو وہ قسم میں داخل سمجھا جائے گااور قسم کا پورا کرنا ضروری نہ ہو گا، مگر ابوحنیفہ کہتے ہیں کہ ان شاء اللّٰہ کا لفظ قسم کے ساتھ ہو تو قسم کا حصہ ہے ورنہ بےکار و بے اثر ہے ۔

Share:
keyboard_arrow_up