وہ مجلسِ قضا سے اٹھ کر واپس آئے اور دوبارہ عدالت لگائی یہ آئینِ عدالت کے خلاف ہے۔ اس شخص کے ماں باپ کو گالیوں پر حدیں جاری کیں حالا نکہ مدعی وہ شخص نہیں بلکہ اس کے والدین ہونے چاہیے تھے۔ ایک ساتھ دو حدیں نافذ کی گئیں حالانکہ ایک ساتھ دو حدیں نافذنہیں ہو سکتیں ۔ عورت کو کھڑا کر کے حد قائم کی گئی حالا نکہ عورت کو کھڑا کر کے حد نافذ نہیں کی جاسکتی ۔ پاگل عورت پر حد قائم نہیں کی جاسکتی ہے کیونکہ وہ مرفوع العقل اور مرفوع العلم ہوتی ہے۔ مسجد میں حد قائم کی حالا نکہ مسجد میں حد قائم نہیں کی جا سکتی۔ علی بن عیسیٰ رحمہ ﷲ کہتے ہیں کہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی فقہی بصیرت سے ہم حیران رہ گئے۔
20۔ بیویاں تبدیل ہو گئیں:
کوفہ میں ایک امیر شخص نے بڑی دھوم دھام سے اپنی دو بیٹیوں کا دو سگے بھائیوں سے نکاح کیا۔ رات کو غلطی سے دلہنیں بدل گئیں یعنی ایک بھائی کی منکوحہ دوسرے کے پاس اور دوسرے کی منکوحہ پہلے کے پاس چلی گئی۔ دونوں نے شب باشی کی۔ صبح ہوئی تو یہ راز فاش ہوا اور ہر ایک کو سخت پریشانی ہوئی۔ ولیمہ کی دعوت میں اکابر علماء مدعو تھے۔ میزبان نے یہ مسئلہ علماء کی خدمت میں پیش کیا۔حضرت سفیان ثوری رحمہ ﷲ نے کہا، ’’ہر شخص نے جس سے وطی کی ہے اسے مہر دے اور پھر اپنی زوجہ واپس لے اور دوسری مرتبہ اسے مہر دے۔ اس سے ان کے نکاح میں کچھ فرق نہیں آیا‘‘۔
امام مسعر بن کدام رحمہ ﷲ ، امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی طرف متوجہ ہو ئے اور اس مسئلہ کا حل پوچھا۔ آپ نے ان دونوں بھائیوں کو جن کا نکاح ہوا تھا علیحدہ علیحدہ بلایا اوران سے پوچھا کہ رات جو لڑکی تمہارے ساتھ رہی، اگر وہی تمہارے نکاح میں رہے تو کیا تمہیں پسند ہے؟ ہر ایک نے کہا ، ہاں مجھے پسند ہے۔ تو آپ نے فرمایا، تم دونوں اپنی اپنی بیوی کو یعنی جس سے تمہارا نکاح ہوا، اسے طلاق دے دو اور پھر جس سے وطی کی ہے اس سے نکاح کر لو۔شرعاً مسئلہ کا وہ حل بھی ٹھیک تھا جو سفیان ثوری رحمہ ﷲ نے بتایا مگر اس سے کئی خرابیاں پیدا ہوتیں۔ ایک تو دل میں اس سے تعلق برقرار رہتا جس سے وطی کی اور دوم یہ بات غیرت و حمیّت کے خلاف ہوتی اور اس طرح ازدواجی رشتہ مستحکم بنیاد پر قائم نہ ہوتا۔ امامِ اعظم نے مصلحت و حکمت پر مبنی حل بتایا جس سے لوگ عش عش کر اُٹھے ۔ امام مسعر رحمہ ﷲ نے اٹھ کر اما م اعظم کی پیشانی چوم لی اور فرمایا، ’’لوگو! مجھے اس شخص کی محبت میں ملامت کرتے ہو مگر آج اس شخص نے مجھے اور سفیان ثوری رحمہما ﷲ کو بھی مطمئن کردیا ہے، اﷲ اسے خوش رکھے‘‘۔
امامِ اعظم کی حاضر جوابی علامہ ذہبی شافعی، امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی ذہانت کے متعلق فرماتے ہیں ، کان من اذکیاء بنی آدم۔یعنی ’’اولادِ آدم میں جو لوگ نہایت عقلمند گذرے ہیں ، امامِ اعظم اُنہیں میں سے ایک ذہین ترین شخص تھے‘‘۔
کسی حاسد کی سازش کو اپنی عقل ودانش سے ناکام بنا دینا یا فوری طور پر کسی معاملہ کی تہہ تک پہنچ جانا یااپنی حاضر جوابی سے کسی کو ہدایت کا راستہ دکھا دینا،یہ سب امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ ہی کی عقل ودانش کے جلوے ہیں ۔ سیدنا امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی حاضر جوابی سے متعلق چند واقعات امام موفق بن احمد مکی رحمہ ﷲ کی کتاب ’’مناقب الامام‘‘ اور امام ابن حجر مکی رحمہ ﷲ کی کتاب ’’الخیرات الحسان‘‘ سے پیشِ خدمت ہیں:
21۔ حق معلوم ہوجائے تو مان لو:
امام ابو یوسف رحمہ ﷲ فرماتے ہیں کہ: ایک دن امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ اور ابن ابی لیلیٰ رحمہ ﷲ ایک جگہ بیٹھے تھے ، اما م اعظم رضی ﷲ عنہ نے ایک مسئلہ میں ایسی گفتگو شروع کی کہ ابن ابی لیلیٰ کو مزید بات کرنے کی گنجائش نہ ملی، مگروہ اپنے علم کی گرمی میں کہتے رہے، میں اپنے نظریے سے رجوع نہیں کروں گا۔ آپ نے فرمایا، اگر اس مسئلے میں خطا یا غلطی سامنے آئے تو بھی رجوع نہیں کرو گے؟ ابن ابی لیلیٰ نے کہا، یہ تو میں نے نہیں کہتا۔ پھر امام صاحب نے فرمایا، آپ اپنی غلطی تسلیم کریں یا نہ کریں مگرمیں نے آپ کی غلطی واضح کر دی ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا، مجھے پھر سوچنے دو ۔امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے فرمایا کہ حق و صواب معلوم کرلینے کے بعدمزید سوچنے کی گنجائش نہیں رہتی۔

