Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 50 of 168

آپ نے فرمایا، بیوی کے حصے دو تہائیاں اور وہ چھ سو دینار سے چار سو دینار لے گئی۔ ماں کو چھٹا حصہ ملا وہ ایک سو دینار لے گئی ۔ بیوی کو آٹھواں حصہ ملا اور وہ پچھتر دینار لے گئی۔ باقی پچیس دینار رہ گئے ان میں سے چوبیس دینار بھائیوں کو ملے اور ایک دینار تمھارے حصے میں آئے گا۔

17۔ میں بات نہیں کروں گا:

ایک شخص کسی بات پر اپنی بیوی سے ناراض ہوا تو اس نے غصہ میں قسم کھا کر کہا، میں تجھ سے اس وقت تک بات نہیں کروں گا جب تک تو مجھ سے بات نہیں کرے گی۔ ادھر غصہ میں بیوی نے بھی قسم اٹھا کر وہی الفاظ کہے جوشوہر  نے کہے تھے۔ غصہ دور ہوا تو دونوں کو بہت افسوس ہوا۔ شوہر پہلے حضرت سفیان ثوری رحمہ ﷲ کے پاس گیا اور ان سے یہ معاملہ عرض کیا۔ انھوں نے فیصلہ دیا کہ تم میں سے جس نے پہلے بات کی اسے کفارہ دینا ہو گا۔ پھر وہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، حضور! کوئی حل بتائیے۔ آپ نے فرمایا، تم دونوں آپس میں بات چیت کر سکتے ہو ، کسی پر بھی کفارہ نہیں ہوگا ۔ جب یہ بات سفیان ثوری رحمہ ﷲکو معلوم ہوئی تو وہ سخت ناراض ہوئے اور اس شخص سے فرمایا، پھر جا کر پوچھو ۔ اس نے دوبارہ آ کر پھر یہی سوال کیا اور آپ نے وہی جواب دیا۔ اس پر سفیان ثوری رحمہ ﷲ نے پوچھا ،آپ نے اس مسئلہ کا یہ جواب کیسے دیا؟ آپ نے فرمایا ، مرد کے حلف اٹھانے کے بعد جب عورت نے یہ کہا کہ میں بھی تم سے بات نہیں کروں گی تو اس عورت نے بات تو کر دی لہٰذا اب مرد پر قسم واقع نہیں ہو گی، اس کی قسم تو ساقط ہو گئی اس طرح کسی پر بھی کفارہ نہیں ہوگا ۔ امام سفیان ثوری رحمتہ ﷲ علیہ  نے کہا، ابوحنیفہ! تم پر وہ علوم منکشف ہوئے ہیں کہ جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

18۔ آٹا ختم ہونے کی خبر پر طلاق:

امام اعمش رحمہ ﷲ ایک بار اپنی بیوی کو غصہ میں یہ کہہ بیٹھے ، اگر تم  نے مجھے یہ خبر دی کہ آٹا ختم ہو گیا تو تمھیں طلاق ،اگر آٹے کے ختم ہونے کے بارے میں کچھ لکھا ، یا آٹا ختم ہو نے کے متعلق کوئی پیغام دیا تو ان تمام صورتوں میں تمہیں طلاق ۔ ان کی بیوی حیران رہ گئی کہ انہوں نے کیا کہہ دیا ہے۔ وہ سوچنے لگی کہ اب کیا کیا جائے۔ اسے کسی نے مشورہ دیا کہ اس مشکل سے صرف امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ ہی نکال سکتے ہیں تم ان کے پاس جا کر سارا واقعہ بیان کر و ۔ چنانچہ وہ ان کے پاس آگئی اور تمام واقعہ سنایا ۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں کیا مشکل ہے اس کا حل تو بہت ہی آسان ہے۔ تم رات کے وقت ان کے ازار بند کے ساتھ آٹے کا خالی تھیلا باندھ دینا وہ خود ہی محسوس کریں گے کہ آٹا ختم ہو گیا ہے۔ چنانچہ صبح کے اندھیرے میں جب وہ شلوار پہننے لگے تو انہیں ازار بند کے ساتھ کچھ چیز لپٹی ہوئی محسوس ہوئی جب دیکھا تو وہ آ ٹے کا خالی تھیلا تھا۔ انہیں معلوم ہو گیا کہ گھر میں آٹا ختم ہو گیا ہے ۔ یہ کیفیت دیکھ کر کہنے لگے، بخدا یہ ترکیب امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے علاوہ کسی اور کو نہیں سوجھ سکتی ۔جب تک وہ زندہ ہے ہمیں شرمندہ کرتا رہے گا۔

19۔ قاضی صاحب کی چھ غلطیاں:

کوفہ کے قاضی ابن ابی لیلیٰ رحمہ ﷲ ایک دن عدالت سے فارغ ہو کر کہیں جارہے تھے کہ راستے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک پاگل عورت کسی شخص سے جھگڑ رہی ہے اور گفتگو کے دوران اس نے اس شخص کو ’’اے زانی اور زانیہ کے بیٹے‘‘ کہہ دیا۔ قاضی صاحب نے اس عورت کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور پھر مجلسِ قضا میں واپس آکر حکم دیا کہ اس عورت کو مسجد میں کھڑی کر کے درے لگائیں اور دو حدیں ماریں۔ یہ بات جب امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا،ابن ابی لیلیٰ نے اپنے فتویٰ میں کئی غلطیاں کی ہیں ۔

Share:
keyboard_arrow_up