Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 49 of 168

13۔ کعبہ دیکھو تو یہ دعا مانگو:

حدیث شریف میں آیا ہے کہ کعبۃ اللّٰہ پر جب پہلی نظر پڑے تو جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ اس موقع پر ہر شخص متردد ہوتا ہے کہ کون سی دعا مانگے اور کس دعا کو دوسری دعاؤں پر فوقیت دے۔ سیدنا امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے اپنی بے مثل ذہانت سے اس مسئلہ کا بھی نہایت شاندار حل بتایا ہے۔ جب امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ پہلی بار بیت اللّٰہ شریف کی حاضری کے لیے گئے اور آپ کی پہلی نظر کعبہ شریف پر پڑی تو آپ نے یہ دعا مانگی، ’’اے اللّٰہ ! مجھے مستجابُ الدعوات بنا دے۔ یعنی میں جو بھی دعا کروں وہ قبول ہو جائے‘‘۔

امامِ اعظم کی فقہی بصیرت بقول آزاد خیال مؤرخ نعمانی کے،’’ ہمارے تذکروں اور رجال کی کتابوں میں علماء کے وہ اوصاف جن کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا جاتا ہے، تیزیٔ ذہن، قوتِ حافظہ، بے نیازی، تواضع، قناعت، زہد، تقویٰ غرض اس قسم کے اوصاف ہوتے ہیں لیکن عقل ورائے، فراست وتدبر کا ذکر تک نہیں آتا، گویا یہ باتیں دنیا داروں کے ساتھ مخصوص ہیں۔

بلاشبہ اس خصوصیت کے اعتبار سے امام ابوحنیفہ رحمہ ﷲ تمام علماء میں ممتاز ہیں کہ وہ مذہبی امور کے ساتھ دنیاوی ضرورتوں کے بھی اندازہ دان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا مذہب سلطنت و حکومت کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اسلام میں سلطنت و حکومت کے جوبڑے بڑے سلسلے قائم ہوئے، مذہباً اکثر حنفی ہی تھے‘‘۔

ذیل میں امام موفق بن احمد مکی رحمہ ﷲ کی کتاب ’’مناقب الامام‘‘اور امام ابن حجر مکی رحمہ ﷲ کی کتاب ’’الخیرات الحسان‘‘ سے سیدنا امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی فقہی بصیرت کے متعلق چند واقعات تحریر کیے جا رہے ہیں:

14۔ وہاں نہ رہو جہاں راہنما نہ ہو:

امام ابویوسف رحمہ ﷲ فرماتے ہیں ، ایک مرتبہ مجھے کسی کام سے کوفہ سے باہر جانا پڑا۔ وہاں ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا، یہ بتائیے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے شراب کا گھڑا ٹوٹ جائے اور کوئی شخص اس سمت میں بیٹھا وضو کر رہا ہے جس سمت میں پانی بہتا ہے تو اس شخص کے وضو کا کیا ہو گا؟

آپ فرماتے ہیں ، میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ میں نے اپنے نوکر سے کہا، چلو اس شہر سے نکل چلیں جہاں مسئلہ کا جواب نہ آ ئے اور کوئی راہنمائی کرنے والا بھی نہ ہو۔ چنانچہ کوفہ آ کر یہ مسئلہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا۔ آپ نے فرمایا، اس سوال کا جواب نہایت آسان ہے۔ اگر بہتے ہوئے پانی سے شراب کی بو آرہی ہو یا پانی کاذائقہ متغیر ہو تو وضو جائز نہیں ورنہ کوئی حرج نہیں ۔

15۔ حاملہ فوت ہو جائے ،بچہ زندہ ہوتو:

اما م اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں کوفے کے فلاں محلے میں رہتا ہوں ۔ رات کے پہلے حصے میں میری بہن فوت ہو گئی ہے اور بچہ اس کے پیٹ میں ہے اور وہ پیٹ میں حرکت کر رہا ہے ۔ آپ نے فرمایا، فوراً جاؤ اور عورت کا پیٹ چاک کر کے بچہ باہر نکال لو ۔ وہ شخص سات سال بعد پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے ساتھ ایک بچہ تھا ، اس نے آپ سے پوچھا کہ آپ اسے پہچانتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، اس نے بتایا کہ یہ وہی بچہ ہے جو آپ کے فتویٰ پر ماں کے پیٹ سے نکالا گیا تھا ۔ یہ ساری زندگی آپ کا خادم رہے گا ۔ اس کا نام ہم نے ”نجا“ رکھا ہے ۔

16۔ ترکہ کی تقسیم اور ایک دینار:

ایک عورت امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی ، میرا بھائی فوت ہو گیا ہے اور چھ سو دینار ترکہ چھوڑ گیا ہے ، اس کی جائیداد میں سے مجھے صرف ایک دینار ملا ہے ۔آپ نے پوچھا، ترکہ کی تقسیم کس نے کی تھی؟ اس نے بتایا، حضرت داؤد طائی رحمہ ﷲ نے ۔ آپ نے فرمایا، پھر یہی تمھارا حق بنتا ہے تمہیں اسی پر اکتفا کرنا چاہئے ۔ اس لئے کہ تیرے بھائی نے دو بیٹیاں ، ایک بیوی، بارہ بھائی، والدہ اور ایک بہن (جو تو خودہے) چھوڑے ہیں ۔ اس نے کہا، ہاں وارث توصرف یہی ہیں ۔

Share:
keyboard_arrow_up