Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 48 of 168

08۔ قیمتی چیز بھول گیا:

ایک شخص نے امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، حضور میں نے ایک قیمتی چیز گھر میں رکھی تھی مگر بھول گیا ہوں اس کے لیے بڑا پریشان ہوں ، آپ کوئی تدبیر کریں۔ آپ نے فرمایا، یہ کوئی شرعی مسئلہ تو نہیں، میں کیا کروں ۔ وہ شخص آپ کی بات سن کر رونے لگا اور عرض کی، حضور کوئی تدبیر نکالیں ۔ تمام رفقاء آپ کے ساتھ اس شخص کے گھر گئے۔ آپ نے فرمایا، تم لوگ بھی اپنی قیمتی چیزیں چھپا کر رکھتے ہو ۔ بتاؤ اگر یہ گھر تمہارا ہو تو کس حصہ میں چیز چھپاؤ گے۔ کسی نے کوئی جگہ بتائی، کسی نے کوئی جگہ بتائی، کسی نے ایک جگہ نشان بنایا، کسی نے ایک جگہ لگایا۔ آپ نے بھی ایک جگہ نشان لگایا اور اسے کھودنے کا حکم دیا ۔ چنانچہ وہیں سے اس شخص کی قیمتی چیز برآمد ہوگئی۔

09۔ بھولی چیز یاد آ نے کا نسخہ:

اسی طرح ایک مرتبہ ایک شخص امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، میں نے کچھ رقم ایک جگہ احتیاط سے رکھ دی تھی۔ اب مجھے سخت ضرورت ہے لیکن مجھے یاد نہیں آ رہا کہ کس جگہ رکھی تھی ۔ آپ کوئی تدبیر فرمائیے۔ آپ نے فرمایا، تم آج ساری رات نماز پڑھو۔ اس نے جا کر نماز پڑھنی شروع کی تو تھوڑی ہی دیر بعد اسے یاد آ گیا کہ فلاں جگہ رقم رکھی تھی۔ چنانچہ اس نے رقم نکال لی ۔ اگلے دن امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی خدمت میں آیا اور عرض کی، حضور ! آپ کی تدبیر سے مجھے رقم مل گئی۔ آپ نے فرمایا، شیطان کو یہ کب گوارا تھا کہ تم ساری رات نماز پڑھو اس لیے اس نے جلد یاد دلایا لیکن تمہارے لیے مناسب یہی تھا کہ تم رب تعالیٰ کے شکریہ میں ساری رات نماز پڑھتے۔

10۔ انڈا نہ کھانے کی قسم:

آپ کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا کہ ایک شخص نے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ کبھی انڈا نہ کھائے گا۔ پھر ایک دن اس نے یہ قسم کھالی کہ فلاں شخص کی جیب میں جو چیز ہے وہ ضرور کھائے گا پھر جب دیکھا تو اس شخص کی جیب میں سے انڈا نکلا، اب و ہ اپنی قسم کیسے پوری کرے؟

اس پر امامِ اعظم  نے فرمایا، اسے چاہیے کہ وہ انڈا مرغی کے نیچے رکھ دے اور جب چوزہ نکل آئے تو اسے پکا کر کھا لے۔ اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی۔

11۔ چور پکڑا گیا:

امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے ایک پڑوسی کا پالتو مور چوری ہو گیا تو اس نے آپ سے شکایت کی اور اس سلسلے میں مدد کی درخواست بھی کی۔ اسے محلے ہی کے کسی شخص پر شبہ تھا۔ آپ نے فرمایا ،تم خاموش رہو، میں کوئی تدبیر کرتا ہوں ۔آپ صبح مسجد تشریف لے گئے اور فرمایا، اس شخص کو شرم نہیں آتی جو اپنے پڑوسی کا مور چرا کر پھر نماز پڑھنے آتا ہے حالانکہ اس کے سر میں اس مور کا پر لگا ہوا ہوتا ہے۔ یہ سنتے ہی ایک شخص اپنا سر صاف کرنے لگا۔ آپ نے فرما یا، اے بھائی! اس شخص کا مور اس کو واپس کردو ، چنانچہ اس نے وہ مور واپس کر دیا ۔

12۔ ایک درہم کی تقسیم:

حضرت عبداللّٰہ بن مبارک رحمہ اللّٰہ نے ابن شبرمہ رحمہ اللّٰہ سے دریافت کیا، ایک شخص کے پاس کسی کا ایک درہم اور دوسرے شخص کے دو درہم تھے۔ ان تین درہموں میں سے دو درہم اس سے گم ہو گئے۔ اب اس ایک درہم کا کیا کیا جائے؟ انہوں نے کہا،اس درہم کو دونوں میں مساوی طور پر نصف نصف تقسیم کر دیا جائے۔ ابن مبارک نے پھر یہ مسئلہ امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے فرمایا، ابن شبرمہ کا جواب درست نہیں کیونکہ تین درہم جب یکجا کردیے گئے تو دونوں افراد کی شراکت ہوگئی۔ اب ضائع ہونے والے درہم دونوں کے ہیں یعنی ایک کا دوتہائی حصہ ضائع ہوا اور دوسرے کا ایک تہائی حصہ ضائع ہوا۔ پس باقی رہنے والے ایک درہم کے تین حصے کردیے جائیں ، دوتہائی دودرہم والے کو دیے جائیں اور ایک تہائی ایک درہم والے کو دیا جائے۔

Share:
keyboard_arrow_up