05۔ سیڑھی پر چڑھی یا اتری تو طلاق:
ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں یہ سوال کیا گیا کہ ایک شخص کی بیوی سیڑھی پر کھڑی ہے۔ اس کے شوہر نے جھگڑے کے دوران اس سے کہا، اگر تو اوپر چڑھی تو تجھے طلاق ہے اور اگرنیچے اتری تو تجھے طلاق ہے۔ تو اب آپ فرمائیے کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا، اس عورت سمیت سیڑھی اٹھا لی جائے اور زمین پر رکھ دی جائے۔اب عورت جہاں چاھے چلے پھرے، طلاق نہ ہو گی۔
06۔ اہلِ کوفہ کو قتلِ عام سے بچالیا:
ضحاک بن قیس شیبانی حروری خارجیوں کا کمانڈر تھا۔ وہ عراق کے مختلف شہروں پر حملہ کرتا تو مسلمانوں کا قتل عام کردیا کرتا تھا۔ایک مرتبہ وہ اپنے سپاہیوں کو لے کر کوفہ میں بھی آپہنچا اور جامع مسجد کوفہ میں بیٹھ گیا اور ایک فرمان جاری کیا کہ کوفہ کے تمام مردوں کو قتل کردیا جائے اور بچوں کو قید کرلیا جائے ۔ اس وقت امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ چادر اور قمیض پہنے مسجد میں تشریف لائے اور ضحاک سے کہا، میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں ۔ ضحاک نے پوچھا،کیا بات ہے؟ آپ نے پوچھا، تم لوگوں کو کیوں قتل کرنا چاہتے ہو اور بچوں کو قید کرنے کا حکم کیوں دے رہے ہو؟ اس نے کہا، یہ سب مرتد ہیں ان کے ارتداد کی یہی سزا ہے۔
امام ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ نے فرمایا، ارتداد تو ایک دین سے دوسرے دین کے اختیار کرنے کا نام ہے ۔تم بتاؤ وہ پہلے کس دین پر تھے اور اب کس دین میں شامل ہوئے ہیں ، کیا اب وہ اپنے پہلے دین میں نہیں رہے ؟ ضحاک نے کہا، اپنے سوال کو پھر دہرائیے۔ آپ نے فرمایا ، یہ لوگ پہلے کس دین پر تھے جسے چھوڑ کر اب دوسرے دین کو اختیار کر رہے ہیں ؟ ضحاک نے کہا ،واقعی یہ میری غلطی ہے ۔ اس نے لشکر کو حکم دیا کہ تلواریں میانوں میں کرلو اور کسی کو قتل نہ کیا جائے ۔ یہ تھی امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی ذہانت جس نے سارے کوفہ والوں کو قتل ہونے سے بچا لیا۔
07۔ بیوی نہ بولی تو طلاق:
ایک مرتبہ امام اعمش رضی ﷲ عنہ اور ان کی بیوی کا آدھی رات کے وقت جھگڑا ہو گیا تھا، آپ نے اپنی بیوی کوبرا بھلا کہا اور سرزنش کی۔ جواب میں ناراضگی کے طور پر ان کی بیوی نے ان سے بات کرنا چھوڑ دی۔ وہ گفتگو کرتے تو چپ رہتی اور کوئی جواب نہ دیتی ۔ صبح ہوئی تو عورت کا رویہ وہی رہا ۔ امام اعمش رحمہ اللّٰہ نے غصہ میں کہا، اگر آج رات ختم ہونے تک تم نے مجھ سے بات نہ کی تو تمہیں طلاق ہے ۔ وہ بھی بڑی ضدی تھی سارا دن بات نہ کی۔ رات ہوئی تو ان کی بیٹی نے کہا، اباجان سے کوئی بات کرو تا کہ یہ مصیبت ٹل جائے مگر اس نے پھر بھی بات نہ کی اور خاموش رہی ۔ اب امام اعمش رحمہ اللّٰہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ مغموم بھی ہوئے۔ وقت گزرنے پر ان کی پریشانی بڑھی کہ ان کی بیوی دن طلوع ہو نے پر مطلقہ ہو جائے گی ۔
اسی فکرمیں خیال آیا ، کیوں نہ اپنی اس غلطی اور پریشانی کا حضرت امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ سے ذکر کیا جائے۔ چنانچہ امامِ اعظم رضیﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور سارا واقعہ سناکر فرمایا، اگر وہ صبح تک میرے ساتھ نہ بولی تو اسے طلاق ہو جائے گی ۔ وہ اس طریقہ سے مجھے چھوڑ دینا چاھتی ہے۔ ہم ایک طویل عرصے سے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں اور صاحب اولاد ہیں، آپ ایسا حل بتائیں جس سے معاملہ درست ہو جائے ۔ آپ نے فرمایا، تسلی رکھیں آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور آپ مشکل سے نکل آئیں گے۔
ﷲتعالیٰ آسانی پیدا فرمائے گا۔ آپ نے ایک آدمی کو بلایا اور اسے کہا کہ تم ان کے گھر کے پاس والی مسجد میں طلوع سحر سے پہلے اذان دے آنا۔ اس کے بعد امام اعمش رحمہ اللّٰہ گھر چلے گئے اور مؤذن نے قبل از وقت اذان دے دی ۔ عورت نے اذان سن کر کہا، شکر ہے ، اس بد اخلاق شخص سے جان چھوٹی۔امام اعمش رحمہ اللّٰہ نے کہا، تم مجھ سے علیحدہ نہیں ہوئی ،ابھی صبح ہونے میں کافی وقت ہے۔ یہ تو ایک حیلہ تھا جس سے تم بات کرنے پر رضا مند ہوگئی اب تم سے میرا رشتہ قائم رہے گا۔

