ابن ابی لیلیٰ نے کہا ، دیوار اس کی ہے وہ اپنی دیوار توڑنے اور مرمت کرنے کا حق رکھتا ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا ۔اس شخص نے کہا، آپ نے تو پہلے دریچہ کھولنے سے روکا تھا جو ایک معمولی بات تھی ، مگر پوری دیوار توڑنے پر آپ اسے جائز قرار دے رہے تھے۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا، بات یہ ہے کہ تمہارا ہمسایہ اس شخص کے پاس جاتا ہے جو میرے فیصلوں کو غلط ثابت کرنے میں کمال رکھتا ہے۔ یہاں ابن ابی لیلیٰ نے نہ صرف امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی علمی برتری کا اعتراف کیا بلکہ اپنی غلطی کا اعتراف بھی کر لیا۔
03۔ رافضی اوریہودی کارشتہ:
امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے شہر کوفہ میں ایک رافضی رئیس تھا ۔ بڑا مال و دولت رکھتا تھا، مگر وہ اپنی مجالس میں برملا کہتا تھا کہ حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ یہودی تھے (معاذﷲ)۔ آپ اس کے ہاں تشریف لے گئے ، وہ امام صاحب کے علمی اور معاشرتی مقام سے واقف تھا ۔ باتوں باتوں میں آپ نے اس رافضی کو کہا، آج میں تمھاری بیٹی کے لیے ایک رشتہ لایا ہوں ، وہ سید زادہ ہے ا ور بڑا دولت مند ہے۔ کتابُ ﷲ کا حا فظ ہے اور رات کو اکثر حصہ بیدار رہ کر نوافل ادا کرتا ہے ۔ وہ شب بھر میں سارا قرآن ختم کر لیتا ہے ،ﷲ تعالیٰ کے خوف سے ڈرتا ہے ، رافضی نے کہا ، حضور ایسا رشتہ پھر ملنا مشکل ہے آپ جلدی کیجئے ، اس میں رکاوٹ کونسی ہے ، مجھے ایسے داماد کی بے حد ضرورت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس میں ایک خصلت ایسی ہے جسے آپ نا پسند کریں گے۔ اس نے پوچھا،وہ کونسی خصلت ہے؟ فرمایا کہ وہ مذہباً یہودی ہے۔ رافضی نے کہا کہ آپ عالم ہو کر مجھے یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ میں ایک یہودی سے اپنی بیٹی بیاہ دوں ۔
آپ نے فرمایا کہ جب تم ایک امیر اور شریف یہودی سے اپنی بیٹی بیاہنا پسند نہیں کرتے تو کیا نبی کریم ﷺ ایسے شخص سے اپنی دو بیٹیاں بیاہ سکتے تھے جو یہودی تھا۔ اس نے آپ کی باتیں سن کر توبہ کی اور حضرت عثمان رضی ﷲ عنہ سے متعلق اپنے اعتقاد سے رجوع کیا ۔
04۔ چور کا نام بتانے پر طلاق:
ایک دن امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کے پاس ایک نہایت مغموم اورپریشان شخص حا ضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ حضرت ! رات کے وقت میرے گھر میں چور داخل ہو گئے ، ان سے جس قدر مال اٹھایا جا سکتا تھا وہ اٹھا کر لے گئے ۔ چوروں میں سے ایک کو میں نے پہچان لیا ۔ وہ میرے محلے کا رہائشی تھا۔ اس کا مصلیٰ میری مسجد میں ہے اور وہ باقاعدہ نماز پڑھتا ہے۔
اس چور کو بھی معلوم ہو گیا کہ میں نے اسے پہچان لیا ہے ، وہ آگے بڑھا اور مجھے رسیوں سے جکڑ لیا ۔ اور مجھ سے قسم لی کہ اگر تم نے میرا نام افشاء کیا تو تیری بیوی کو تین طلاقیں ہو گی۔
پھر اس بات پر بھی حلف لیا کہ اگر تم نے میرا نام بتایا تو میرے گھر کا تمام مال اور سامان غربائے شہر کو تقسیم کرنا ہو گا ، پھر اس نے کہا کہ میں اس کا نام بھی زبان سے نہ نکالوں ، نہ اشارہ کروں ،نہ صراحت کروں ۔ مجھے ڈر ہے کہ اس قسم اور حلف کے بعد میں نے اگر اس کا نام کسی پر بھی ظاہر کیا تو میری بیوی کو طلاق ہو جائے گی ۔ میں اس واقعہ کا ﷲ کو گواہ بنا کرسچ کہہ رہا ہوں ۔
امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ نے فرمایا، اب تم جاؤ اور میرے پاس ایسے شخص کو بھیجو جس پر تمھیں پورا پورا اعتما د ہو ۔ اس نے جا کر اپنے بھائی کو بھیجا ۔ امام صاحب نے اس کے بھائی سے فرمایا کہ تم حاکم وقت کے پاس جاؤ اور سارا قصہ بیان کرو اور اپنے بھائی کی پریشانی اور مجبوری کا بھی ذکر کرو اور کہو کہ وہ پولیس بھیج دیں۔
پولیس حکم دے کہ مسجد کے دروازے سے تمام نمازی ایک ایک کر کے گزرتے جائیں ۔ تم اپنے بھائی کو دروازے پر کھڑا کر دو ، ہر ایک آدمی گزرتا جائے اور پولیس پوچھتی جائے کہ یہ تمھارا چور ہے ؟ تمھارا بھائی’’نہیں ‘‘ کہتا جائے لیکن جب اصل چور گزرے تو تمہارا بھائی بالکل خاموش رہے ۔ کوئی بات نہ کرے، کوئی اشارہ بھی نہ کرے ، اس شخص کو پولیس گرفتار کرے اور حاکم کے سامنے پیش کرے۔اس طرح امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی ذہانت سے اس کی بیوی کو طلاق ہوئے بغیر چور پکڑا گیا اور اس کا چوری شدہ مال بھی واپس مل گیا۔

