Imam e Azam

Author: Allama Syed Shah Turab ul Haq Qadri

Total Pages: 168

Page 45 of 168

امام ابن عبد البر رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں کہ:ایک مرتبہ جب امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ امام باقر رضی اللّٰہ عنہ سے علمی گفتگو کر کے رخصت ہوئے تو امام باقر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، ’’ان کا طریقہ اور انداز کتنا اچھا ہے اور ان کی فقہ کتنی زیادہ ہے‘‘۔

امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ مسجد حرام میں بیٹھے تھے کہ امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ تشریف لائے۔ امامِ اعظم نے آپ کو پہلے نہیں دیکھا تھا مگر سمجھ گئے کہ یہ امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ ہیں ۔ تعظیم کے لیے آگے بڑھے اور عرض کی، اگر مجھے علم ہوتا کہ آپ آ رہے ہیں تو میں پہلے ہی سے استقبال کے لیے کھڑا رہتا۔ اب جب تک آپ تشریف فرما رہیں گے میں تعظیماً کھڑا رہوں گا۔ آپ نے فرمایا، ’’ بیٹھ جائیے اور لوگوں کے مسائل کا جواب دیجیے‘‘۔ اس خاص تعظیم کی وجہ محبتِ اہلبیت تھی۔

امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اپنے زمانے میں امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ سے زیادہ کسی کو فقیہ نہیں دیکھا۔ ایک بار جب امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ کو خلیفہ ابو جعفر منصور کے دربار میں بلایا گیا تو آپ نے امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کو بھی دربار میں بلوالیا تاکہ سوال و جواب کی صورت میں علمی گفتگو کے ذریعے خلیفہ کی اصلاح کی جائے۔ آپ نے 40 سوالات کیے جن کے مدلل جوابات امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ نے ارشاد  فرمائے ۔ 

آپ نے طریقت کے مراحل امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ سے دو سال میں طے کیے ہیں ۔ پھر آپ نے فرمایا ہے، ’’ اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا‘‘۔

باب سوم

(3)۔ امامِ اعظم کی عقل وذہانت عقل ودانائی اورذہانت و تدبیر امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کی شخصیت کے وہ نمایاں اوصاف ہیں جن کا موافق ومخالف سبھی نے اقرار کیا ہے۔

مجددِ دین وملت،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمہ ﷲ، امام ابن حجر رحمہ ﷲ کے حوالے سے فرماتے ہیں ، امام علی بن عاصم رحمہ ﷲ کا قول ہے ،

اگر روئے زمین کے آدھے انسانوں کے ساتھ امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کی عقل کو تولا  جائے تو امامِ اعظم کی عقل وزنی نکلے گی۔

امام شافعی رحمہ ﷲ نے فرمایا، کسی عورت نے امام ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ جیسا کوئی نہ جنا۔

بکر بن حبیش رحمہ ﷲ نے فرمایا، اگر امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ اور ان کے تمام معاصرین کی عقلوں کا موازنہ کیا جائے تو امامِ اعظم کا پلہ بھاری رہے گا۔

سیدنا امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ کی ذہانت سے متعلق چند واقعات امام موفق بن احمد مکی رحمہ اللّٰہ کی کتاب ’’مناقب الامام‘‘ اور  امام ابن حجر مکی رحمہ اللّٰہ کی کتاب ’’الخیرات الحسان‘‘ سے پیشِ خدمت ہیں :-

01۔ پانی گرایا تو طلاق:

ایک شخص کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہو گیا۔ اس کی بیوی پانی کا پیالہ اٹھائے آرہی تھی ،اس شخص نے کہا کہ اگر تم  نے اس پیالے سے پانی پیا تو تجھے تین طلاق ، اگر اسے زمین پر گرایا تو تجھے تین طلاق ،اور اگر اسے کسی اور کو پینے کے لیے دیا تو بھی تجھے تین طلاق ۔ جب غصہ رفو ہوا تو خوب پچھتایا اور علماء کے پاس دوڑا۔علماء نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کی مگر کوئی جواب نہ بن پڑا ۔ آخر کار اما م اعظم ابوحنیفہ رضی ﷲ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرما یا، اس پیالہ میں کپڑا ڈال کر بھگو لو ، اس طرح تمہاری شرط بھی پوری ہو جائے گی اور عورت طلاق سے بچ جائے گی ۔

02۔ روشندان ناجائز اور دیوار توڑنا؟

ایک شخص نے امامِ اعظم رضی ﷲ عنہ سے دریافت کیا کہ میں اپنے ہمسائے کے گھر کی طرف روشندان کھولنا چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرما یا، روشندان کھول لو ۔ روشندان کھل گیا تو اس کا ہمسایہ قاضی ابن ابی لیلیٰ کے پاس لے گیا ، قاضی نے کہا ، تم بند کر دو ،اسے روشندان کھولنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ وہ شخص اما م اعظم رضی ﷲ عنہ کے پاس آیا اور صورتحال سے آگاہ کیا ۔ آپ نے فرمایا ،کوئی بات نہیں ۔ اب جس دیوار پر روشندان ہے اس کو توڑ دو ، اس کی قیمت میں ادا کر دوں گا ۔وہ دیوار اس کی تھی اس لیے وہ اسے توڑنے لگا۔ اسے حق پہنچتا تھا کہ اپنی دیوار توڑ دے اور کوئی دوسرا اسے روک نہیں سکتا تھا۔ اب اس کا مخالف ہمسایہ دوڑا دوڑا قاضی کے پاس پہنچا اور واقعہ بیان کیا۔

Share:
keyboard_arrow_up