امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے اپنے پڑوسی نوجوان سے فرمایا، ’’ہم نے تم کو ضائع تو نہیں کیا‘‘۔ آپ کا اشارہ اس کے شعر کی طرف تھا، اس نے عرض کی، نہیں بلکہ آپ نے میری حفاظت فرمائی اور میری سفارش کی، ﷲ تعالیٰ آپ کو جزا دے، آپ نے ہمسایہ کے حق کی رعایت فرمائی، پھر اس نے توبہ کرلی اور نیک بن گیا۔
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ اپنے پڑوسیوں سے حسنِ سلوک اور رواداری میں بے مثال تھے۔ آپ کی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ آپ سے سب لوگوں کو نفع ہو۔ آپ ایک بار کوفہ کے گورنر کے پاس تشریف لے گئے وہاں دیکھا کہ ایک شخص کو گورنر قتل کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس شخص نے دیکھا کہ گورنر نے امام صاحب رحمہ اللّٰہ کی بڑی عزت کی ہے تو کہنے لگا، یہ صاحب مجھے اچھی طرح جانتے ہیں ۔ گورنر نے پوچھا، کیا آ پ ا س شخص کو جانتے ہیں ؟ اگرچہ آپ اسے نہیں جانتے تھے مگر آپ نے فرمایا،یہ تو وہی ہے جو اذان دیتے ہوئے آواز کھینچ کر کہتا ہے لاالہ الاﷲ۔ اس نے عرض کی، جی میں وہی ہوں ۔ آپ نے فرمایا، اچھا مجھے اذان تو سناؤ تاکہ میں تمہاری آواز پہچان لوں ۔ اس نے پوری اذان سنائی ۔تو امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، یہ اچھا آدمی ہے اسے چھوڑ دو۔ گورنر نے اسے رہا کردیا۔ اس واقعہ سے امامِ اعظم رحمۃ اللّٰہ علیہ کی بے پناہ ذہانت واضح ہوتی ہے۔ آپ نے اذان اس لیے سنی تا کہ وہ ﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی شہادت کی گواہی دے۔ اور یوں آپ نے اس شہادت کی برکت اور اپنی ذہانت سے ایک بے گناہ کو قتل سے بچالیا۔
پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک سے متعلق علامہ موفق رحمہ اللّٰہ نے چند اشعار تحریر کیے ہیں جن میں سے دواشعار کا ترجمہ یہ ہے،
’’امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کا ہمسایہ ہمیشہ خوشحال رہتا ہے کیونکہ آپ ہمسائے کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔ آپ اپنے احسان وکرم کے لیے کسی خاص ہمسائے سے ہی حسنِ سلوک نہیں کرتے تھے بلکہ ہر ہمسایہ آپ کے سایَۂ کرم میں رہتا تھا‘‘۔
اساتذہ کا ادب: سیدناامامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا ارشاد ہے، جب سے میرے استاد امام حماد رحمہ اللّٰہ کا وصال ہوا ہے، میں ہر نماز کے بعد ان کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہوں اور میں نے کبھی ان کے گھر کی طرف اپنے پاؤں نہیں پھیلائے حالانکہ میرے اور ان کے گھر کے درمیان کئی گلیاں ہیں۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، میں اپنے استاد حماد رحمہ اللّٰہ اور اپنے والد رحمہ اللّٰہ کے لیے اِستغفار کرتا ہوں ، بلکہ میں اپنے ہر استاد کے لیے اِستغفار کرتا ہوں جس نے مجھے ایک لفظ بھی پڑھایا۔اسی طرح اپنے ہر شاگرد کے لیے بھی اِستغفار کرتا ہوں۔
علامہ موفق رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں،’’امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ جب کسی کے لیے دعا کرتے تو حضرت حماد رحمہ اللّٰہ کا نام سب سے پہلے لیتے۔آپ فرمایا کرتے تھے، والدین بچے کو جنم دیتے ہیں مگر استاد اسے علم و فضل کے خزانے دیتا ہے‘‘۔
یہ آپ کے حسنِ تربیت کا نتیجہ تھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللّٰہ فرماتے تھے، میں اپنے والدین سے پہلے اپنے استاد امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کے لیے ہر نماز کے بعد اِستغفار کرنا واجب جانتا ہوں کیونکہ حضرت امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ اپنے استاد کے لیے بھی بلا ناغہ اِستغفار کرتا ہوں ۔
امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللّٰہ عنہ کے اساتذہ اور شیوخ کی تعداد چار ہزار بیان ہوئی ہے۔ آپ اپنے اساتذہ کرام کا محبت و عقیدت سے ذکر فرماتے اور اکثر کی خدمت میں ہدیے اور تحائف بھیجتے۔ آپ کے اساتذہ اور شیوخ بھی آپ سے بہت محبت فرماتے۔ آپ کو اہلِ بیت اطہار رضی ﷲ عنہم سے خاص محبت تھی۔
آپ نے امام محمد بن علی بن حسین بن علی المعروف امام محمد باقر رضی اللّٰہ عنہ سے بھی اکتسابِ فیض کیا۔ ایک بار ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام باقر رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا، ابوحنیفہ! ہم سے کچھ پوچھیے۔ آپ نے چند سوالات دریافت کیے اور پھر اجازت لے کر وہاں سے رخصت ہوئے تو امام باقر رضی اللّٰہ عنہ نے حاضرین سے فرمایا۔’’ ابوحنیفہ کے پاس ظاہری علوم کے خزانے ہیں اور ہمارے پاس باطنی و روحانی علوم کے ذخائر ہیں ‘‘۔

