آپ کی والدہ کبھی کبھی اصرار کرتیں کہ میں خود چل کر پوچھوں گی چنانچہ وہ خچر پر سوار ہوتیں اور امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ پیدل ساتھ جاتے حالانکہ آپ کا گھر وہاں سے کئی میل دور تھا۔ وہ خود مسئلہ بیان کرتیں اور اپنے کانوں سے جواب سن لیتیں تب اطمینان ہوتا۔
امام ابویوسف رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ایک دن میں نے دیکھا کہ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ اپنی والدہ کو خچر پر بٹھائے عمرو بن ذر کے پاس جارہے تھے تاکہ آپ سے کسی مسئلہ پر گفتگو کرسکیں ۔ آپ اپنی والدہ کی خواہش پر لے جارہے تھے ورنہ آپ کو معلوم تھا کہ عمرو بن ذر کا کیا مقام ہے۔ یہ سب اپنی والدہ کی خواہش کے احترام کے پیشِ نظر تھا۔
ایک بار آپ کی والدہ نے آپ سے فتویٰ پوچھا۔ آپ نے فتویٰ تحریر فرمادیا۔ وہ بولیں ، میں تو وہی فتویٰ قبول کروں گی جو زرعہ لکھیں گے۔ چنانچہ آپ اپنی والدہ کی دلجوئی کے لیے زرعہ کے پاس گئے اور فرمایا، میری والدہ آپ سے یہ فتویٰ پوچھتی ہیں۔ تو انہوں نے کہا، آپ زیادہ بڑے فقیہ ہیں آپ فتویٰ دیجئے۔آپ نے فرمایا، میں نے یہ فتویٰ دیا ہے لیکن وہ آپ سے تصدیق چاہتی ہیں تو زرعہ نے لکھ کر کہا، فتویٰ وہی صحیح ہے جو امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ نے دیا تھا۔ اس تحریر سے وہ مطمئن ہو گئیں ۔
جب امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو عباسی خلیفہ نے چیف جسٹس مقرر کرنا چاہا تو آپ نے انکار کیا۔ اس پر آپ کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ جلاد روزانہ جیل سے نکال کر آپ کو لوگوں کے سامنے کوڑے مارتے اور کہتے کہ چیف جسٹس کا منصب قبول کرلیں مگر آپ انکار کرتے۔ایک دن کوڑے کھاتے کھاتے روپڑے۔ وجہ پوچھی گئی تو فرمایا، میں اپنی تکلیف کی وجہ سے نہیں رویا مجھے اپنی والدہ یاد آگئیں کہ وہ میری جدائی میں کس قدر مغموم ہوں گی۔
دوسری روایت میں ہے کہ: جب میری والدہ میرے خون آلود چہرے کو دیکھیں گی تو انہیں کتنا دکھ ہوگا۔
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ فرماتے ہیں ، جب مجھے کوڑے لگائے جاتے تھے تو میری والدہ مجھے کہا کرتی تھیں ، ابوحنیفہ! تجھے علم نے اس قوتِ برداشت تک پہنچا دیا ہے۔ تم اس علم کو چھوڑو اور عام دنیا والوں کی طرح کام کرتے جاؤ۔ میں نے کہا، امی جان! اگر میں علم چھوڑدوں تو ﷲتعالیٰ کی رضا کس طرح حاصل کروں گا‘‘۔ آپ فرماتے تھے ، میں اپنے والدین کے ایصالِ ثواب کے لیے ہر جمعہ کے دن بیس درہم خیرات کرتا ہوں ، اور اس بات کی میں نے منت مانی ہوئی ہے۔ دس درہم والد اور دس درہم والدہ کے لیے خیرات کرتا ہوں ۔ ان مقررہ درہموں کے علاوہ آپ اپنے والدین کے لیے فقراء و مساکین میں اور بھی چیزیں صدقہ کرتے تھے۔
پڑوسیوں سے حسنِ سلوک: سیدناامامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے پڑوس میں ایک موچی رہتا تھا، جو دن میں محنت مزدوری کرتا اور شام کو بازار سے گوشت اور شراب لے کر آتا۔ گوشت بھون کر کھاتا اور شراب پیتا۔ جب شراب کے نشے میں دھت ہوجاتا تو خوب غل مچاتا اور بلند آواز سے یہ شعر پڑھتا رہتا،
ترجمہ: ’’لوگوں نے مجھ کو ضائع کردیا اور کتنے بڑے باکمال نوجوان کو کھو دیا جو لڑائی اور صف بندی کے دن کام آتا‘‘۔
امام صاحب روزانہ اس کی آواز سنا کرتے اور خود تمام رات عبادت میں مشغول رہتے۔ ایک رات آپ نے اس کی آواز نہ سنی تو صبح لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا۔ بتایا گیا کہ اسے کل رات سپاہیوں نے پکڑلیا ہے اور وہ قید میں ہے۔ امام صاحب نمازِ فجر کے بعد گورنر کے پاس پہنچے۔ گورنر نے بڑے ادب سے عرض کی، حضور آپ یہاں کیسے تشریف لائے؟ آپ نے فرمایا، میرے پڑوسی کو کل رات آپ کے سپاہیوں نے پکڑ لیا ہے، اسے چھوڑ دیجئے۔ گورنر نے حکم دیا، وہ قیدی اور اس کے ساتھ کے تمام قیدی چھوڑ دیے جائیں ۔ پھر قیدیوں سے کہا،تم سب کو امام ابوحنیفہ کی وجہ سے رہائی مل رہی ہے۔

