جب امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ گھر تشریف لے آئے توکچھ دیر میں ایک خادم پچاس ہزار درہم اور دیگر تحائف لیے ہوئے آیا کہ خلیفہ کی بیوی نے بھجوائے ہیں ۔ آپ نے اس خادم سے کہا، یہ سب واپس لے جاؤ اور اپنی مالکہ سے کہو کہ میں نے جو کچھ کہا محض رضائے الٰہی کے لیے کہا، یہ میرا دینی فرض تھا‘‘۔
عباسی خلیفہ منصور نے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کو بغداد بلا کر چیف جسٹس کا عہدہ قبول کرنے کا حکم دیا تو آپ نے انکار کردیا۔ آپ کے انکار پر خلیفہ نے قسم کھائی کہ میں ضرور ایسا کروں گا۔ اس پر امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے بھی قسم کھائی کہ ہرگز ہرگز ایسا نہیں کروں گا۔ خلیفہ کے وزیر نے کہا ، آپ امیرالمومنین کی قسم پر قسم کھاتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا، ہاں کیونکہ امیر المومنین مجھ سے زیادہ آسانی سے اپنی قسم کا کفارہ ادا کرسکتے ہیں ۔
خلیفہ کے دربار میں قاضی القضاۃ یعنی چیف جسٹس کا منصب قبول کرنے پر بڑی بحث ہوئی۔ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے یہ تک فرمادیا ، تم تو ایسے شخص کو قریب لایا کرتے ہو جو تمہاری ہاں میں ہاں ملائے اور ہر حال میں تمہاری تکریم کرے اور میں اس کام کے لیے با لکل موزوں نہیں ۔
جب کوئی عذر قبول نہ ہوا تو آپ نے خلیفہ سے کہا، بات یہ ہے کہ میں اس منصب کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ خلیفہ نے کہا ، آپ جھوٹ بولتے ہیں ۔ آپ یقیناً اس کی اہلیت و صلاحیت رکھتے ہیں ۔ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے استغناء اور بے نیازی کے ساتھ جواب دیا، ’’ اب تم خود اپنے دل سے فیصلہ کرلوکہ ایک جھوٹا شخص چیف جسٹس کیونکر مقرر کیا جاسکتا ہے‘‘۔ یہ سن کر خلیفہ منصور لاجواب ہو گیا اور اس نے آپ کو کوڑے لگوائے۔
بنو امیہ کے دور میں کوفہ کا گورنر خالد بن عبدﷲ جمعہ کے خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھا تو تقریر میں ایسا مگن ہوا کہ ظہر کا آخری وقت آگیا اور عصر کا وقت نہایت قریب ہو گیا۔ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے گورنر کی طرف کنکریاں پھینکتے ہوئے کہا ،الصلوٰۃ الصلوٰۃ۔ نماز تو پڑھ لی گئی مگر اس گستاخی پر آپ کو گرفتار کرلیا گیا۔ گورنر نے پوچھا، آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا، نماز کسی کا انتظار نہیں کرتی، ﷲ کی کتاب اور شریعت کے احکام پر عمل کرنے کا آپ پر زیادہ حق ہے۔ اگر آپ ہی اسے پامال کرتے رہے تو عوام کا کیا بنے گا۔
آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
والدین سے حسنِ سلوک: امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے والد گرامی آپ کے بچپن ہی میں وفات پا گئے تھے جبکہ آپ کی والدہ ایک مدت تک زندہ رہیں ۔ آپ اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتے اور ان کی خوب خدمت کرتے۔ آپ کی والدہ شکی مزاج تھیں اور عام عورتوں کی طرح انہیں بھی واعظوں اور قصہ گوئی کرنے والے خطیبوں سے عقیدت تھی۔ کوفہ کے مشہور واعظ عمرو بن ذر اور قاضی زرعہ پر انہیں زیادہ یقین تھا اس لئے کوئی مسئلہ پوچھنا ہوتا تو امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کو حکم دیتیں کہ عمرو بن ذر سے پوچھ آؤ۔ آپ اپنی والدہ ماجدہ کے ارشاد کی تعمیل کے لیے ان کے پاس جاتے۔ وہ بیچارے سراپا عذر بن کر عرض کرتے، حضور! آپ کے سامنے میں کیسے زبان کھول سکتا ہوں ۔
اور اکثر ایسا ہوتا کہ عمرو کو کوئی مسئلہ کا جواب نہ آتا تو امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ سے درخواست کرتے ،’’ آپ مجھ کو جواب بتا دیں تاکہ میں اسی کو آپ کے سامنے دہرا دوں ‘‘۔ آپ جواب دیتے تو وہ اسے آپ کے سامنے دہرادیتے اور پھر وہی جواب امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ اپنی والدہ کو آکر بتا دیتے۔

