امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ امراء اور حکام کے تحائف اور نذرانوں کے اس لیے مخالف تھے کہ جو کسی کا احسان مند ہوجاتا ہے وہ اس کے خلاف حق بات کہنے سے رک جاتا ہے بقول شخص ،’’جوکسی کا کھاتا ہے وہ اس سے شرماتاہے‘‘۔
امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ حق گوئی و بےباکی کے علمبردار تھے اس لئے آپ نے کبھی کسی دنیا دار کا تحفہ یا نذرانہ قبول نہ فرمایا۔ بنو امیہ کے دورِ حکومت میں ابن ھبیرہ کوفہ کا گورنر تھا۔ اس نے ایک بار اپنے اور خوارج کے مابین ایک دستاویز لکھنے کے لئے ابن شبرمہ اور ابن ابی لیلیٰ سے کہا۔ دونوں نے ایک ماہ کا وقت لے کر مضمون لکھا جو اسے پسند نہ آیا۔ ان کے بتانے پر ابن ھبیرہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کو بلوایا اور یہ مسئلہ پیش کیا۔ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے اسی وقت مضمون لکھوادیا جو گورنر اور علماء سب کو پسند آیا۔
گورنر نے درخواست کی ، ’’حضور ! کبھی کبھی ہمارے پاس آیا کریں تو ہمیں فائدہ ہو‘‘۔ آپ نے بےباکی سے فرمایا ،’’میں تم سے مل کر کیا کروں گا۔ تم مہربانی سے پیش آؤگے تو تمہارے دام میں آجاؤں گا اور اگر ناراض ہوئے اور مجھے قرب کے بعد دور کردیا تو اس میں میری ذلت ہے۔ نیز تمہارے پاس جو مال ہے اس کی مجھے حاجت نہیں اور جو دولت (علم) میرے پاس ہے اسے کوئی چھین نہیں سکتا‘‘۔
ابن ھبیرہ نے کئی مشہور علماء کو حکومتی عہدے دیے تو امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کو بلاکر بیت المال کی نظامت کا منصب پیش کیا۔ آپ نے انکار کیا۔ اس پر گورنر غضب ناک ہو گیا اور اس نے کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ آپ نے کوڑوں کی سزا برداشت کرلی مگر یہ منصب قبول نہ کیا۔ پھر گورنر نے آپ کو کوفہ کا قاضی مقرر کرنا چاہا تو آپ نے فرمایا، ’’ خدا کی قسم میں اپنے آپ کو کبھی حکومت میں شریک نہیں کروں گا‘‘۔ گورنر نے غصہ میں قسم کھائی ، اگر عہدۂ قضا کو بھی امام ابوحنیفہ نے قبول نہ کیا تو ان کے سر پر تیس کوڑے ماریں جائیں گے اور جیل میں ڈال دوں گا۔ آپ نے فرمایا، ’’ کوڑے تو ہلکی سزا ہے اگر وہ مجھے قتل بھی کرد ے تو میں یہ عہدہ قبول نہ کروں گا‘‘۔
ایک اور روایت میں ہے ۔’’ اگر گورنر مجھے مسجد کے دروازے گننے کا حکم دے تو میں گورنر کے حکم سے یہ کام بھی نہیں کروں گا اور گورنر یہ حکم دے کہ فلاں کی گردن اڑادو، فلاں کو قید کردو تو میں بے گناہوں کی سزاؤں پر مہریں کیوں لگاؤں ؟ ‘‘۔ یہ جواب سن کر گورنر آگ بگولہ ہو گیا۔ چنانچہ اس کے حکم سے آپ کو کوڑے مارے گئے اور جیل میں ڈال دیا گیا۔
ایک رات ابن ھبیرہ کو خواب میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا، تم میرے امتی کو بلاوجہ سزا دے رہے ہو، شرم کرو۔ اس دن ابن ھبیرہ نے آپ کو جیل سے رہا کردیا۔ آپ کوفہ سے مکہ مکرمہ چلے گئے۔ یہ واقعہ ۱۳۰ھ کا ہے۔ جب بنو امیہ کی حکومت ختم ہوگئی تو عباسی حکومت کے دور میں آپ کوفہ واپس آگئے۔
ایک بارعباسی خلیفہ منصور اور اس کی بیوی میں اختلاف ہوگیا ۔ خلیفہ نے کہا ، کسی کو منصف بنالو۔ اس نے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا نام لیا۔ چنانچہ آپ کو بلایا گیا اور خلیفہ کی بیوی پردے کے پیچھے بیٹھی تاکہ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کا فیصلہ خود سنے۔ منصور نے آپ سے پوچھا، کتنی عورتوں سے نکاح جائز ہے؟ آپ نے فرمایا، چار عورتوں سے۔ منصور نے اپنی بیوی سے کہا، غور سے سن لو۔ امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ نے خلیفہ سے کہا، امیرالمومنین! چار بیویوں کی اجازت اس کے لیے ہے جو اُن میں عدل کرسکے، ورنہ ایک نکاح کا حکم ہے۔ یہ سن کر خلیفہ خاموش ہو گیا ۔

