امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ کے بے مثال تقویٰ کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ ایک بار کوفہ میں کچھ بکریاں چوری ہوگئیں تو آپ نے دریافت کیا، بکری زیادہ سے زیادہ کتنے سال زندہ رہتی ہے؟ لوگوں نے بتایا،سات سال، توآپ نے سات سال تک بکری کا گوشت نہیں کھایا (کہ کہیں چوری کی بکری کا گوشت جسم میں نہ چلا جائے)۔ انہی دنوں آپ نے ایک فوجی کو دیکھا کہ اس نے گوشت کھاکر اس کا فضلہ کوفہ کی نہر میں پھینک دیا تو آپ نے مچھلی کی طبعی عمر کے بارے میں دریافت کیا اور پھر اتنے سال تک مچھلی کے گوشت سے پرہیز کیا۔
کسی نے یزید بن ہارون رحمہ اللّٰہ سے سوال کیا کہ انسان فتویٰ دینے کے قابل کب ہوتا ہے؟ فرمایا، جب وہ امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کے مقام کو پہنچ جائے۔ راوی کہتے ہیں ، میں نے یہ سن کر کہا، ابو خالد آپ بھی ایسا کہتے ہیں ؟ (یزید بن ہارون رحمہ اللّٰہ پہلے امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کے علم و فضل کے قائل نہیں تھے اس لیے انہیں حیرانی ہوئی) آپ نے فرمایا، میرے پاس اس سے بڑھ کر الفاظ نہیں ورنہ ان کا مقام تو اس سے بھی بلند ہے۔
دنیائے اسلام میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ جیسا فقیہ ہے نہ متقی۔ میں نے ان کو ایک دن تیز دھوپ میں ایک شخص کے مکان کے پاس کھڑے دیکھا۔ میں نے عرض کی، آپ اس دیوار کے سائے میں آجائیں ۔ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، یہ گھر والا میرا مقروض ہے، میں نے اس سے کچھ درہم لینے ہیں اور میں پسند نہیں کرتا کہ اس کے گھر کے سائے میں بیٹھوں ۔ اس سے بڑھ کر احتیاط اور تقویٰ کیا ہوسکتا ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا، میں نے اس گھر والے سے قرض واپس لینا ہے، اگر میں اس کی دیوار کے سائے میں کھڑے ہوکر فائدہ اٹھاؤں تو یہ ایک قسم کا سود ہے۔ یہ فتویٰ عوام کے لیے نہیں ہے لیکن عالم کو اس سے زیادہ عمل کرنا چاہیے جس نیکی کی طرف وہ لوگوں کو بلاتا ہے۔
امام رازی شافعی رحمہ اللّٰہ لکھتے ہیں، ایک مرتبہ امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کہیں جارہے تھے راستہ میں اتفاقاً آپ کی جوتی کو کچھ نجاست لگ گئی۔ آپ نے نجاست دور کرنے کے لیے جوتی کو جھاڑا توکچھ نجاست اڑ کر ایک مکان کی دیوار سے لگ گئی۔ آپ پریشان ہو گئے کہ اگر نجاست یونہی چھوڑدی جائے تو اس کی دیوار خراب ہوتی ہے اور اگر اسے کرید کر دیوار صاف کی جائے تو دیوار کی مٹی بھی اتر آئے گی اور اس سے مالکِ مکان کو نقصان ہے۔ چنانچہ آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا، صاحبِ خانہ باہر آیا۔ اتفاق سے وہ شخص مجوسی تھا اور آپ کا مقروض تھا۔ وہ یہ سمجھا کہ آپ قرض واپس لینے آئے ہیں ۔ پریشان ہوکر عذر پیش کرنے لگا۔ آپ نے فرمایا، قرض کو چھوڑو میں تو اس الجھن میں ہوں کہ تمہاری دیوار کیسے صاف کروں ۔ پھر سارا واقعہ بتا دیا۔ وہ مجوسی آپ کا تقویٰ اور کمالِ احتیاط دیکھ کر بے ساختہ بولا، آپ دیوار بعد میں صاف کیجیے گا، پہلے کلمہ پڑھا کر میرا دل صاف کردیں ، چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔
حق گوئی: علامہ ابن حجرشافعی رحمہ اللّٰہ نے اپنی کتاب میں پچیسویں فصل کا عنوان یہ تحریر کیا ہے، ’’اپنی کمائی سے کھانا اور عطیات کا رد کرنا‘‘۔ وہ اس کے تحت لکھتے ہیں ، ’’ خدا کی قسم! امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نے کبھی کسی خلیفہ یا امیر کا کوئی تحفہ یا انعام قبول نہیں کیا‘‘۔ ایک بار عباسی خلیفہ نے دو سو دینار کا تحفہ پیش کیا تو آپ نے یہ کہہ کر رد فرمادیا کہ ’’ ان پر میرا کوئی حق نہیں ‘‘۔ ایک مرتبہ امیرالمومنین نے ایک خوبصورت لونڈی بھیجی مگر آپ نے قبول نہ کی اور فرمایا، ’’میں اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرلیتا ہوں اس لیے مجھے کنیز کی حاجت نہیں ‘‘۔

