مکی بن ابراہیم رحمہ اللّٰہ نے فرمایا، میں کوفہ والوں کے ساتھ رہا ہوں لیکن میں نے امامِ اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ سے زیادہ متقی کوئی نہ دیکھا۔
حسن بن صالح رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں ، آپ سخت پرہیز گار تھے، حرام سے ڈرتے تھے اور شبہ کی وجہ سے کئی حلال چیزیں بھی چھوڑ دیتے تھے۔ میں نے کوئی فقیہ ایسا نہ دیکھا جو اپنے نفس اور علم کی حفاظت آپ سے زیادہ کرتا ہو، وہ آخری عمر تک جہاد کرتے رہے۔
یزید بن ہارون رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، میں نے ایک ہزار شیوخ سے علم حاصل کیا مگر میں نے ان میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ سے زائد نہ تو کسی کو متقی پایا اور نہ اپنی زبان کا حفاظت کرنے والا۔ آپ کو زبان کی حفاظت کا اس قدر شدید احساس تھا کہ وکیع رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں ، آپ نے یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر ﷲ تعالیٰ کی سچی قسم کھائی تو ایک درہم صدقہ کریں گے۔چنانچہ ایک بار قسم کھائی تو ایک درہم صدقہ کیا پھر عہد کیا کہ اگر اب قسم کھائی تو ایک دینار صدقہ کریں گے۔
آپ کے کاروباری شریک حفص رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں، میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰہ کے ساتھ تیس سال تک رہا لیکن میں نے کبھی نہ دیکھا کہ آپ نے اس چیز کے خلاف ظاہر کیا ہو جو آپ کے دل میں ہو۔ جب آپ کو کسی چیز کے بارے میں شبہ پیدا ہوتا تو آپ اپنے دل سے اس کو نکال دیتے تھے اگرچہ اس کی خاطر اپنا تمام مال ہی کیوں نہ خرچ کرنا پڑے۔
اس کی مثال وہ واقعہ ہے کہ آپ کے ایک کاروباری شریک نے کپڑے کا عیب ظاہر کیے بغیر اسے بیچ دیا تو آپ نے اس دن کی ساری کمائی تیس ہزار درہم خیرات کردی۔ یہ واقعہ ’’امامِ اعظم بحیثیت تاجر‘‘ کے عنوان کے تحت بیان ہوچکا ہے۔ کسی نے امامِ اعظم رضی اللّٰہ عنہ سے عرض کی، آپ کو دنیا کا مال و اسباب پیش کیا جاتا ہے مگر آپ اسے قبول نہیں فرماتے حالانکہ آپ ایماندار ہیں اور یہ آپ کا حق ہے۔ آپ نے فرمایا، میں نے اپنے اہل و عیال کو ﷲکے سپرد کر رکھا ہے۔ وہ ان کا خود کفیل ہے۔ میرا ذاتی خرچ دو درہم ماہانہ ہے، تومیں اپنی ضرورت سے بڑھ کر کیوں جمع کروں ۔
جب آپ کو بغداد میں قید کر دیا گیا تو اپنے بیٹے حماد رحمہ اللّٰہ کو پیغام بھیجا، اے میرے بیٹے! میرا خرچ دو درہم ماہانہ ہے کبھی ستو کے لیے اور کبھی روٹی کے لیے۔ اور اب میں یہاں قید میں ہوں تو جلد خرچ بھیج دو۔ یہ تقویٰ تھا کہ جیل میں بھی حکومت کا کھا نا نہیں کھاتے تھے۔
شقیق بن ابراہیم رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں، ہم ایک دن امام ِاعظم رحمہ اللّٰہ کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک چھت سے ایک سانپ آپ کے سر پر لٹکتا دکھائی دیا۔ سانپ دیکھ کر لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی، سانپ سانپ کہہ کر سب بھاگے۔ مگرامامِ اعظم رحمہ اللّٰہ نہ تو اپنی جگہ سے اٹھے اور نہ ہی ان کے چہرے پر کوئی پریشانی کے آثار نظر آئے۔ ادھر سانپ سیدھا امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ کی گود میں آگرا۔ آپ نے ہاتھ سے جھٹک کر اسے ایک طرف پھینک دیا مگر خود اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ اس دن سے مجھے یقین ہوگیا کہ آپ کو ﷲتعالیٰ کی ذات پر کامل یقین اور پختہ اعتماد ہے۔
بکیر بن معروف رحمہ اللّٰہ کہتے ہیں، میں نے ایک دن امامِ اعظم رحمہ اللّٰہ سے عرض کی، حضور میں نے آپ جیسا کوئی دوسرا نہیں دیکھا، آپ کے مخالفین آپ کا گلہ کرتے ہیں ، آپ کی غیبت کرتے ہیں مگر آپ جب بھی کسی کا ذکر کرتے ہیں تو اس کی خوبیاں ہی بیان کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا، میں نے کبھی کسی کے عیب تلاش نہیں کیے اور کبھی برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیا۔

